مسلمان اور مذہب اسلام دونوں جرمنی کا حصہ ہیں، انجیلا میرکل

جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے کہا ہے کہ جرمنی میں رہائش پذیر مسلمان اور مذہب اسلام دونوں جرمنی کا حصہ ہیں۔یہ بیان جرمنی کے وزیر داخلہ کے حالیہ مسلم مخالف بیان کے بعد دیا گیا ہے۔جرمنی میں بننے والی نئی حکومت میں وزارت داخلہ

کا قلمدان سنبھالنے والے قدامت پسند سیاستدان ہورسٹ زیہوفر نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اسلام جرمن ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔سیاسی مبصرین نے اس بیان پر خدشات ظاہر کرتے ہوئےہوئے کہا ہے کہ جرمنی کی نئی حکومت دائیں بازو کی سیاست کی طرف مائل ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ برس نومبر کے پارلیمانی الیکشن کے بعد جرمن چانسلر میرکل کی قیادت میں وسیع تر مخلوط حکومت نے بدھ کے دن ہی حلف اٹھایا۔ واضح رہے کہ اس الیکشن میں کٹر نظریات کی حامل اسلام اور مہاجرت مخالف سیاسی پارٹی اے ایف ڈی نے دائیں بازو کی سیاست کا نعرہ لگاکر ہی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس پارٹی نے میرکل کی مہاجرین سے متعلق پالیسی کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عوامی مقبولیت حاصل کی۔ اگرچہ میرکل چوتھی مرتبہ چانسلر بننے میں کامیاب تو ہو گئی ہیں لیکن مبصرین کے مطابق دائیں بازو کی سیاست کے باعث ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.