گجرات میں بی جے پی کو دھچکا لگا، راہول،ہمیں نہیں کانگریس کو لگا،جاؤڈیکر

  نئی دہلی۔: گجرات اور ہماچل اسمبلیوں کے انتخابی نتائج  کے بعد  آخر کار کانگریس کے نومنتخب صدر راہول گاندھی  نے اپنی خاموشی  توڑتے ہوئے کہا  کہ  وہ  عوام کے فیصلے کو  تہہ دل سے تسلیم کرتے ہیں لیکن جو نتائج آئے ہیں  وہ بی جے پی اور  مودی جی دونوں کیلئے ایک بڑا  دھچکا ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا  کہ عوام  بی جے پی کی  سازشوں کو سمجھنے لگے ہیں  اور آنیوالے وقت میں  اس کا اثر بھی  ظاہر ہونے لگے گا۔  انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس اور میرے لئے  اخلاقیات  اور حوصلے  کی جیت ہوئی ہے۔  انہوں نے  یہ بھی کہا کہ گجرات میں مودی جی اور  بی جے پی کو ایک  سبق اور پیغام بھی دیا ہے کہ جو  غصہ  آپ میں ہے وہ کام نہیں آئے گا۔ کتنا بھی غصہ ہو ، کتنابھی پیسہ ہو اور فورس ہو  پیار ان سب کو  شکست دیدیتا ہے اور پیار گجرات میں مجھے  نظر آیا ہے۔ گجرات اور ہماچل  میںجو  لوگ الیکشن جیتے ہیں  میں انہیں دل سے مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔  یہی نہیں بلکہ دونوں ریاستوں کے عوام کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ یہ دلچسپ ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد مودی جی  اب یہ بات کہہ رہے ہیں کہ  ترقی  کا الیکشن تھا۔  جی ایس ٹی پر مہر لگی ہے۔ ان کی انتخابی تقاریر  میں  نہ کبھی  ترقی کی بات کہی گئی اور نہ ہی انہوں نے  جی ایس ٹی پر  ایک لفظ بھی بولا تھا۔  اس وقت مودی جی  کے اعتماد  پر بھی  ایک بہت بڑا سوال اٹھ چکا ہے۔  آنیوالے وقت میں  اس بات کا پتہ چلے گا کہ مودی جی اپنا عوامی اعتماد گنوا چکے ہیں۔  کانگریس صدر نے یہ بھی کہا کہ مودی جی  انتخابی مہم کے دوران  بدعنوانی کی مسلسل بات چیت کرتے رہے۔پوری انتخابی مہم میں  انہوں نے  رافیل  اور  امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ کی بدعنوانی  پر  ایک لفظ  نہیں  بولا۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ 50 ہزار کی   جے شاہ   کی کمپنی نے کروڑوں روپے کا کاروبار کیسے کیا۔  آپ اس معاملے پر  ایک لفظ بھی کیوں نہیں بولتے۔  ادھر  بی جے پی کے سینیئر لیڈر  اور مرکزی  وزیر  پر کاش جاؤ ڈیکر نے  راہول گاندھی  کو  جواب دیتے ہوئے کہا  کہ گجرات میں  بی جے پی کو  دھچکا نہیں لگا  بلکہ یہ کانگریس ہی ہے کہ جو  2014ء سے مسلسل دھچکے کھاتے آرہی ہے اور گجرات و ہماچل میں بھی اس کو کرارا دھچکا  لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں  بی جے پی نے  اپنے اقتدار کو  برقرار رکھا اور کانگریس سے  ہماچل پردیش چھین لیا۔ اب وہ خود ہی فیصلہ کریں کہ دھچکا  کس کو لگا۔

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.