Daily Taqat

عمران خان کا سابق حکومتوں سے متعلق بیان افغانستان کی توہین کا باعث نہیں بنا،افغان وزیرخارجہ

کابل: افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے سابق صدر حامد کرزئی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد میں منعقد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سربراہی اجلاس کے دوران وزیر اعظم عمران خان کا بیان ’افغانستان کی توہین کا سبب نہیں‘ بنا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کو سربراہی اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ افغان حکومت میں برسوں کی کرپشن کی وجہ سے سابق حکومت کے خاتمے سے پہلے ہی پڑوسی ملک میں غربت پھیل چکی تھی۔

افغانستان کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ داعش نے افغانستان سے پاکستان کو دھمکیاں دی تھیں۔

اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم عمران خان کے بیان کو ’افغانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش اور افغان عوام کی توہین‘ قرار دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ الزام کہ داعش افغانستان میں سرگرم ہے، افغانستان سے پاکستان کو دھمکیاں دینا واضح پروپیگنڈا ہے کیونکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

حامد کرزئی نے کہا تھا کہ پاکستان کو بین الاقوامی فورمز پر افغانستان کی جانب سے بات کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت اور مہذب تعلقات قائم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

تاہم افغانستان کی طلوع نیوز کے مطابق افغانستان میں عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کابل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سابق افغان صدر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا بیان افغانستان کی توہین کا باعث نہیں بنا ہے۔

صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سربراہی کانفرنس میں سب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور وزیر اعظم عمران خان نے سابق افغان حکومت پر تنقید کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ تنقید پر سابق صدر نے ردعمل کا اظہار ضروری سمجھا، میں عمران خان کے بیان کو توہین آمیز نہیں سمجھتا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »