امریکہ کاطالبان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے 6 افرادپر مستقل پابندی

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے 6 افراد کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیا۔ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے اعلان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل افراد کا رابطہ مبینہ طور پر پاکستان سے ہے۔امریکا کی جانب سے جن لوگوں کو اس فہرست میںشامل کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان حکومت کا بھی حصہ رہے ہیں جن میں مرکزی بینک کے سابق

گورنر بھی شامل ہیں۔ٹرمپ انظامیہ کی جانب سے اس فہرست کے بارے میں شامل لوگوں کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ یہ پاکستان میں مبینہ طور پر موجود طالبان قیادت ہے جو مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کو افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج پر حملہ کرنے کے لیے مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ہتھیار بھی فراہم کرتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ برس اگست میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا اور افغانستان کے لیے نئی حکمت عملی وضع کی تھی جس میں انہوں نے افغانستان میں جاری 17 سالہ جنگ کے خاتمے اور طالبان کو شکست دینے کے لیے پاکستان پر اس حکمت عملی میں ساتھ دینے پر زور دیا گیا تھا۔دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس سیکریٹری کے نائب منڈلکر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو اپنی سرزمین پر طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی مبینہ پناہ گاہیں ختم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔جن لوگوں کا نام شال کیا گیا ہے ان میں عبدالقدیر باصر عبدالبصیر ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ پشاورمیں طالبان کی فنانس کمیشن شوریٰ کے سربراہ ہیں اور انہوں نے ہی گزشتہ برس طالبان کو افغانستان کے صوبے کنر میں حملے کے لیے ہزاروں ڈالر فراہم کیے۔اس فہرست میں شامل ایک اور نامور عسکریت پسند حافظ محمد پوپلزئی ہیں جو کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ طالبان کی فنانس کمیشن کے سربراہ رہے ہیں جبکہ مغربی اور جنوبی افغانستان میں وہ اپنے گروپ کے مالیاتی امور کے انچارج بھی ہیں۔حافظ محمد پوپلزئی پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے 2011 کے وسط میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے طالبان کو دیے جانے والے ایک کروڑ یورو کوئٹہ میں فنانس کمیشن کے سربراہ کو فراہم کیے۔امریکا کی جانب سے ان افراد پر لگائی جانے والی پابندی سے امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں مزید دوریاں پیدا ہوں گی۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں ماہ یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ امریکا نے گزشتہ 15 برسوں میں اسلام آباد کو احمقوں کی طرح 33 ارب ڈالر امداد کی مد میں دیے لیکن بدلے میں اسے جھوٹ اور دھوکہ ملا۔دوسری جانب امریکا نے پاکستانکی 255 ملین ڈالرز (25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر) یعنی 28 ارب روپے کی فوجی امداد پر پابندی بھی معطل کردی تھی۔تاہم ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل اور معیشت کی قیمت پر لڑی، لہذا ان قربانیوں اور شہدائ￿ کے خاندانوں کے درد کا بیحسی سے مالی قدر سے موازنہ کرنا ممکن نہیں۔پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے مشترکہ موقف اپنایا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل جنگ لڑی اور قیام امن کے لیے پاکستان نے تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد بار امریکا کی جانب سے پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ خطے میں امن کے لیے مزید اقدامات کرے اور دہشت گروپوں کے خلاف کارروائیاں کرے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.