’امریکا خطے میں مخالف اتحاد کے خوف سے پاکستان کیخلاف سخت رویہ اپنا رہا ہے‘

سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستانی اتحاد روکے جانے کی وجہ عدم تعاون نہیں بلکہ خطے میں بننے والا امریکا مخالف اتحاد ہے۔

افغانستان کے سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے افغان چینل کو انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کی امداد روکے جانے کی وجہ عدم تعاون نہیں بلکہ خطے میں بننے والا امریکا مخالف اتحاد ہے۔

گلبدین حکمت یار نے کہا کہ امریکا سمجھتا ہے کہ خطے میں اس کے خلاف نیا اتحاد بن رہا ہے جو واشنگٹن کے لیے غصے کا باعث ہے، امریکا خطے میں مخالف اتحاد کے خوف سے پاکستان کے خلاف سخت موقف اپنا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال 2018 کے آغاز میں سوشل میڈیا پر اپنے پہلے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دیکر حماقت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی امداد کے بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔

پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے امریکی صدر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکی امداد کے لیے نہیں لڑی۔

خیال رہے کہ حزب اسلامی کے سربراہ اور سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار اپنی حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے بعد 20 برس بعد گزشتہ برس اپریل میں وطن واپس لوٹے تھے۔

افغان حکومت نے گلبدین حکمت یار کی وطن واپسی کا ِخیر مقدم کرتے ہوئے ان کے خلاف تمام مقدمات بھی ختم کر دیے تھے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.