اہم خبرِیں
مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک بل گیٹس نے پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کر لیا کورونا سے نمٹنے میں پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے، اقوام متحدہ مسجد وزیرخان میں گانے کی عکس بندی، منیجر اوقاف معطل چمن، بم دھماکہ 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی حب ڈیم، پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ لاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں تفریحی مقامات کھل گئے سپریم کورٹ کا کراچی سے تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے مقدمات بن رہے ہیں، ، زردار... وفاق کے اوپر کوئی وزارت نہیں بن سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان پوسٹ آن لائن سسٹم سے منسلک اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ر... موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوارکم ہوئی، وزیراعظم اسٹاک مارکیٹ، کاروباری حجم 4 سال کی بلندترین پرپہنچ گیا سائنسی انقلاب، مرے ہوئے شخص سے "حقیقی ملاقات" ممکن آمنہ شیخ نے دوسری شادی کرلی؟ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری افغانستان لویہ جرگہ، 400 طالبان کی رہائی کی منظوری

چین کے خلاف بھارتی تجارتی معائدے مزید سخت

نئی دہلی: بھارت چین سرحدی کشیدگی کے بعد بھارت نے چینی سرمایہ کاری کے خلاف سخت اقدامات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہت خراب دور سے گزر رہے ہیں۔

بھارت نے جو نئے ضوابط جاری کیے ہیں ان کے تحت وہ کمپنیاں جن کے ملکوں کی سرحدیں بھارت سے ملتی ہیں انہیں حکومت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے پہلے وزارت خارجہ اور داخلہ سے سیاسی اور سیکورٹی کلیرینس حاصل کرنا ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بھارت کے دفاع اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔

تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے ضابطے میں چین کا نام نہیں لیا گیا۔ تاہم اس کا مقصد بھارت کے انفرا سٹرکچر میں چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو روکنا ہے۔ پروفیسر بسواجیت دھر کا کہنا ہے کہ اس سے بڑے بڑے منصوبے متاثر ہوں گے۔ بھارت کئی بڑے منصوبوں کے سلسلے میں چین پر انحصار کرتا آیا ہے۔

پچھلے ماہ بھارت نے 59 کمپیوٹر کی ایپس کو بند کردیا تھا، جن میں اکثر چینی تھیں۔ اس میں انتہائی مقبول ایپ ‘ٹک ٹاک بھی شامل ہے۔
اپریل میں بھارتی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان غیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی چھان پھٹک کرے گی، جن کے ملکوں کے ساتھ اس کی زمینی سرحد ملتی ہے۔

چین کی بہت بڑی معیشت پر ان اقدامات کا کوئی بڑا اثر تو نہیں پڑے گا۔ تاہم اس سے دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات متاثر ہوں گے جو برسوں سے پھل پھول رہے تھے اور جن کی وجہ چین بھارت کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار تھا۔ اب بھارت چین پر اپنے انحصار کو کم سے کم کرنا چاہتا ہے۔ مگر اس کوشش کا بھارت کے بڑے بڑے منصوبوں پر منفی اثر پڑے گا۔

پروفیسر دھر کہتے ہیں کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کے بعد چین کی جگہ کون لے گا کیوںکہ بھارت کے کئی بڑے منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری کی جڑیں بہت گہری ہیں اور وہ مشینری کے پرزے بھی فراہم کرتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ امکان ہے کہ بھارت ٹیکنالوجی انرجی، دفاع اور خلائی منصوبوں میں امریکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دے سکتا ہے۔

پچھلے ہفتے بھارت امریکہ بزنس کونسل کے آن لائین اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ بھارت کے عروج کا مطلب ان ملکوں کے ساتھ تجارت کا فروغ ہے جن پر آپ اعتماد کرتے ہوں۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ بھارت کے پاس موقع ہےکہ وہ چین کی سپلائی لائین کو ترک کردے اور چینی کمپنیوں پر اپنے انحصار کو کم کر دے۔

وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ بھارت پر کئی ملک اعتماد کرتے ہیں، جن میں امریکہ بھی شامل ہے۔ چین کے ساتھ فوجی جھڑپ کے بعد بھارت میں امریکہ سے تعلقات بڑھانے کی مانگ زور پکڑ چکی ہے۔ ​سرحدی تنازعے پر دونوں ملکوں کے درمیان جاری مذاکرات میں بڑی محدود پیش رفت ہوئی ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.