مذاکرات سے پہلے افغانستان میں امن نہیں ہو سکتا، طالبان

کابل: طالبان کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آخر میں ہونے والے بین الافغان مذاکرات کے دوران جامع جنگ بندی پر بات چیت ہو گی. تاہم افغان حکام سے مذاکرات کے آغاز پر ہی تشدد میں کمی نہیں ہو سکتی۔

افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کا مرحلہ تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔ افغان حکومت نے طالبان کے 400 قیدیوں کو رہا کرنا ہے جس کے بعد اگلے مرحلے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بین الافغان مذاکرات سے متعلق منگل کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان امن مذاکرات امریکہ سے ہونے والے معاہدے کے تحت آگے بڑھیں گے۔ معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جنگ بندی ایک الگ موضوع ہے جس پر بین الافغان مذاکرات کے دوران بحث ہو گی اور اس کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔

سہیل شاہین نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان افغان تنازع کا حل تلاش کرنے کے لیے بین الافغان مذاکرات میں شامل ہوں گے جب کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے افغان حکومت کو بھی لچک دکھانا ہو گی۔ افغان تنازع یک طرفہ طور پر حل نہیں ہو سکتا۔ اگر افغان حکومت بھی مسئلے کا حل چاہتی ہے تو فریقین کو ایک ساتھ مل کر مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.