لبنان، دھماکے میں ہلاکتیں 100 سے تجاوز کر گئیں

بیروت: لبنان کی حکومت نے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر منگل کو ہونے والے دھماکے کے بعد دو ہفتوں کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

صدر مشیل ایون نے دھماکے کے بعد کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔ لبنان میں کام کرنے والی تنظیم “ریڈ کراس” کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 100 سے زیادہ ہو گئی ہے جب کہ چار ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

ریڈ کراس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُن کی ٹیمیں بیروت کے نواحی علاقوں میں ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے جب کہ ریسکیو ورکرز دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں بندر گاہ اور اس کے اطراف املاک کو شدید نقصان پہنچا اور کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔

بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے کی وجوہات اب تک سامنے نہیں آ سکیں۔ تاہم حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بندرگاہ کے ویئر ہاؤس میں 2750 ٹن امونیئم نائٹریٹ موجود تھا جس میں دھماکا ہوا جو گزشتہ چھ برس سے وہاں محفوظ کر رکھا تھا۔ لبنان کے کسٹم آفس کے ڈائریکٹر بدری دہر نے کہا کہ اُن کا ادارہ امونیم نائٹریٹ کو بندرگاہ پر محفوظ رکھنے کا ذمہ دار نہیں ہے۔

دوسری جانب صدر مشیل ایون نے ملک کی دفاعی کونسل کو دھماکے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں نے بیروت دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جب کہ ملائیشیا کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ملائیشیا لبنان کی مدد کے لیے تیار ہے۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے بھی اپنے ایک بیان میں بیروت دھماکے کے متاثرہ افراد کے لیے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم بیروت دھماکوں کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس سانحے کے اثرات سے باہر نکلنے کے لیے لبنان کی مدد کے لیے بھی تیار ہیں۔ بھارت کے وزیرِ اعظم آفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بیروت دھماکوں کا سن کر گہرا صدمہ ہوا ہے۔ ہماری دعائیں اور نیک خواہشات متاثرین کے ساتھ ہیں۔

برطانیہ نے کہا ہے کہ بیروت دھماکے کی وجوہات سے متعلق کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ برطانیہ کے جونیئر وزیرِ تعلیم نک گب نے کہا ہے کہ لبنان کے حکام یقینی طور پر دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہوں گے۔ اس لیے تحقیقات سے قبل قیاس آرائیاں کرنا مناسب نہیں ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.