Latest news

عدنان سمیع کو ایوارڈ دینے پر بھارتی اداکارہ کی مودی سرکار پر تنقید

عدنان سمیع کو ایوارڈ دینے پر بھارتی اداکارہ کی مودی سرکار پر تنقید

بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر  نے گلوکار عدنان سمیع کو ’پدما شری ایوارڈ‘ دینے پر بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھارت میں جاری متنازع شہریت قانون کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

Image result for swara bhaskar adnan sami

 اب اداکارہ سوارا بھاسکر نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ’بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پاکستان سے محبت ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے سابق پاکستانی گلوکار عدنان سمیع کو پدما شری ایوارڈ سے نوازا ہے‘۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ ’ایک طرف بی جے پی ہم جیسے لوگوں کو یعنی متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو گالیاں دیتی ہے، ہم پر تشدد کرتی ہے، لاٹھی چارج کرتی ہے اور دوسری طرف یہ ایک پاکستانی گلوکار کو پدما شری ایوارڈ سے نوازتی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ عدنان سمیع نے حکومت کا دل اور ذہن دونوں جیت لیا ہے جب ہی تو انہیں اس ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے اور ہم سے ہمارا حق چھینا جارہا ہے۔

سوارا نے کہا کہ ہماری حکومت کو ہر طرف صرف پاکستان ہی نظر آتا ہے، مودی سرکار نفرت کی سیاست پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی۔

خیال رہے کہ بھارت میں 71 ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر 141 افراد کو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سر انجام دینے پر ’پدما شری ایوارڈ‘ سے نوازا گیا جن میں سابق پاکستانی گلوکار عدنان سمیع بھی شامل ہیں۔

پدماشری ایورڈ کو بھارتی حکومت کی جانب سے دیا جانے والا چوتھا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سمجھا جاتا ہے۔

متنازع شہریت قانون کیا ہے؟

متنازع شہریت بل 9 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا) سے منظور کروایا گیا اور 11 دسمبر کو ایوان بالا (راجیہ سبھا) نے بھی اس بل کی منظوری دے دی تھی۔

بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے بل پیش کیا گیا جس کے تحت پاکستان، ب

نگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔

تارکینِ وطن کی شہریت سے متعلق اس متنازع ترمیمی بل کو ایوان زیریں (لوک سبھا) میں 12 گھنٹے تک بحث کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔

ایوان زیریں کے بعد ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں بھی اس متنازع بل کو کثرت رائے سے منظور کیا جا چکا ہے۔

متنازع شہریت بل بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد باقاعدہ قانون کا حصہ بن گیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.