اہم خبرِیں
کور کمانڈر کانفرنس،ایل او سی کی صورت حال پر غور جشن آزادی کو شایان شان طریقے سے منایا جائے، وزیراعظم پاکستان کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دس کروڑ سال پرانی چیونٹی دریافت عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری انتقال کرگئے نیوزی لینڈ نے پاکستان کیخلاف سیریز کی تصدیق کردی نائجیریا، توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت مریم نوازنیب پیشی، حکومت کا موقف سامنے آگیا کارکنوں اور پولیس تصادم کے بعد مریم نواز کا بیان سامنے آگیا روس نے کورونا وائرس ویکسین تیار کر لی، ولادی میر پیوٹن بیروت دھماکے کی پیشگی اطلاع حکومت کو تھی نیب نے ن لیگی رہنماوَں کے خلاف بڑا فیصلہ کرلیا مریم نواز کی نیب پیشی منسوخ شریف فیملی کے خلاف مقدمات صاف ہیں، فواد چوہدری کورونا کی فتح شکست میں نہ بدل جائے، اسد عمر ٹائیگر فورس تشدد، ویڈیو وائرل اسمارٹ لاک ڈاوَن کا فارمولا کامیاب رہا، وزیراعظم مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک

سوشل میڈیا پوسٹ پر خاتون پروفیسر پر مودی سرکار آپے سے باہر

نئی دہلی : بھارت میں کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ پر خاتون پروفیسر اور شوہر پر مقدمہ درج کردیا گیا ، مقدمہ ہندو مہاسبھا کے رہنما اشوک پانڈے نے  درج کرایا، ہما پروین علی گڑھ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کے بھارت میں کشمیر کی صورتحال پر بات کرنا بھی جرم بنا دیا گیا، مقبوضہ کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ پر مسلمان خاتون پروفیسراور ان کے شوہر پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ہندو مہاسبھا کے رہنما اشوک پانڈے نے پروفیسر کے خلاف فوج کے مورال اور ملک کی سلامتی کو نقصان کے الزام میں مقدمہ درج کرایا، پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق علی گڑھ یونیورسٹٰی کے شعبہ ماس کمیونیکیشن کی پروفیسرہما پروین نے پوسٹ میں مقبوضہ کشمیرمیں جاری کمیونیکشن بلیک آؤٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سچ میں رابطہ ٹوٹ جانا کتنا خطرناک اور دکھ بھرا ہوتا ہے چاہے چندریان ہو یا کشمیر۔بھارت نے گزشتہ دنوں چندریان کے نام سے چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا جس کے چاند پر اترنے سے چند لمحوں قبل رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔ ہما پروین نے اسی کا موازنہ کشمیر سے کیا۔

ہما پروین کے شوہر نعیم شوکت کشمیری صحافی ہیں، جو 5 اگست کو بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کے وقت کشمیر میں تھے اور دونوں میاں بیوی کا ایک دوسرے سے رابطہ کافی عرصے تک منقطع رہا۔

دوسری جانب ہما پروین نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ میں نے سوشل میڈیا پر پہلے سے موجود پوسٹ شیئر کرائی تھیں، جن میں مشہور شاعر راحت اندوری اور گاندھی کی جمہوریت اور اختلاف رائے کے احترام کے اقوال شامل ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.