اہم خبرِیں
افغان صدر کا وزیراعظم کو فون، امریکا طالبان معاہدے پر گفتگو آکسیجن سلنڈر اور اسٹوریج ٹینک کی درآمد پر سیلز ٹیکس ختم پی آئی اے نے 63 ملازمین کوبرطرف کردیا رام اوردام تحفظات کا تحفظ (سیف سٹی اتھارٹی) تیرا یار میرا یار ۔۔۔ عثمان بزدار پنجاب میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم افغانستان، جیل پر حملہ، تین افراد ہلاک، متعدد قیدی فرار بینکوں کے معمول کے اوقات کار بحال آدم علیہ السلام کے بعد کعبہ شریف میں عبادت کرنے والی واحد خاتو... امریکی خلا باز زمین پرواپس پہنچ گئے کورونا کیسزگھٹ کر25 ہزار172 رہ گئے عشرئہ ذو الحجہ اورعیدا لاضحی کے فضائل واحکام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، شاہ محمود قریشی ملک میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد 25 ہزار رہ گئی افغانستان، صوبہ لوگر میں خودکش حملہ، 17 افراد ہلاک حجاجِ کرام آج رمی جمار اور قربانی میں مصروف مریخ کے پہلے راؤنڈ ٹرپ پرخلائی گاڑی "پرسویرینس" روانہ افغان حکومت کے بعد طالبان کا بھی تمام قیدی رہا کرنے کا اعلان

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پرمیزائلوں سے حملہ

جازان: سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پیر کو حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے چار میزائل اور چھ بارود سے لیس ڈرون تباہ کیے ہیں۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں تیل کی ریفائنری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

باغیوں کے ترجمان کے مطابق حوثی فورسز نے سعودی عرب کے جنوبی شہر جازان میں تیل کی بڑی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی حکام نے کسی بھی تیل کی تنصیب کے نشانہ بننے کی تصدیق نہیں کی۔ حوثیوں کے ترجمان یحییٰ ساریہ کے مطابق حوثی فورسز نے سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط میں پیٹریاٹ میزائل کے نظام کو نشانہ بنایا ہے۔

اُن کے بقول سعودی شہر جازان اور ابھا شہر میں جنگی جہازوں، پائلٹوں کی رہائش گاہ اور دیگر تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ترجمان نے نجران ایئر پورٹ کو نقصان پہنچانے کے علاوہ جازان شہر میں سعودی عرب کی تیل کی بڑی تنصیب کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط، ابھا، نجران اور جازان یمن کے سرحد کے قریب واقع ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی کمپنی آرمکو بحیرۂ احمر کے ساتھ واقع شہر جازن میں ریفائنری سے یومیہ چار لاکھ بیرل تیل برآمد کرتی ہے۔ تیل کی یہ تنصیبات یمن کی سرحد سے 60 کلو میٹر دور ہیں۔ سعودی کمپنی آرامکو کا بھی حملے سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ایران نواز حوثی باغیوں نے مئی کے آخر سے سرحد پار حملے ایک بار پھر تیز کر دیے تھے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے باغیوں اور اتحادی فوج میں عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا جس کی مدت مئی کے آخر میں ختم ہو گئی تھی۔

حوثی باغیوں نے جون میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر میزائل داغے تھے تاہم فوج نے انہیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جب کہ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

حوثی باغیوں کے تازہ ترین حملے سے متعلق سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘ایس پی اے’ کے مطابق سعودی فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ میزائل اور بارود بردار ڈرون حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمن کے دارالحکومت صنعا سے سعودی عرب کی جانب داغے گئے تھے جنہیں تباہ کر دیا گیا ہے۔ بیان میں یہ واضح نہیں ہے کہ ان ڈرونز یا میزائلوں کو کس جگہ تباہ کیا گیا ہے۔

قبل ازیں حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساریہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں حوثی فورسز نے وسیع فوجی آپریشن کا آغاز کیا ہے اس آپریشن کے حوالے سے تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحادی نے 2015 میں یمن میں اس وقت مداخلت کی تھی جب حوثی باغیوں نے 2014 کے آخر میں اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کے خاتمے کا اعلان اور دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیا تھا۔

حوثی باغی یمن کے کئی شہری علاقوں پر قابض ہیں جب کہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک میں بدعنوانی کے نظام کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے حالیہ دنوں میں فریقین میں ورچوئل مذاکرات کا آغاز کیا تھا تاکہ یمن میں قیامِ امن کے لیے مستقل جنگ بندی اور اعتماد سازی کے اقدامات ہو سکیں۔

تاہم اعتماد سازی کے لیے کیے گئے اقدامات اس وقت پیچیدہ شکل اختیار کر گئے تھے جب جنگ بندی کی مدت ختم ہوئی اور فریقین کی جانب سے ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیے گئے۔ اقوامِ متحدہ یمن میں جاری جنگ کو طویل ترین انسانی المیہ قرار دے چکا ہے۔ اس جنگ کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.