اہم خبرِیں
مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک بل گیٹس نے پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کر لیا کورونا سے نمٹنے میں پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے، اقوام متحدہ مسجد وزیرخان میں گانے کی عکس بندی، منیجر اوقاف معطل چمن، بم دھماکہ 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی حب ڈیم، پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ لاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں تفریحی مقامات کھل گئے سپریم کورٹ کا کراچی سے تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے مقدمات بن رہے ہیں، ، زردار... وفاق کے اوپر کوئی وزارت نہیں بن سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان پوسٹ آن لائن سسٹم سے منسلک اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ر... موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوارکم ہوئی، وزیراعظم اسٹاک مارکیٹ، کاروباری حجم 4 سال کی بلندترین پرپہنچ گیا سائنسی انقلاب، مرے ہوئے شخص سے "حقیقی ملاقات" ممکن آمنہ شیخ نے دوسری شادی کرلی؟ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری افغانستان لویہ جرگہ، 400 طالبان کی رہائی کی منظوری

رافیل طیاروں کے بعد بھارت کا فرانس سے ہیمر میزائلوں کا بھی معاہدہ

نئی دہلی: 29 جولائی کو بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر امبالہ میں رافیل جنگجو طیاروں کا پہنچنا متوقع ہے اور ساتھ ہی بھارت فرانس سے خطرناک ہیمر میزائل کا معاہدہ بھی کر رہا ہے۔

یہ معاہدہ انڈین فوج ایمرجنسی پاورز کے استعمال کے تحت کر رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا 60 سے 70 کلو میٹر کے فاصلے تک مار کرنے والے ہیمر میزائلوں کو چین کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں خرید رہا ہے۔ فرانس نے اکتوبر 2018 میں پہلا رافیل جنگی طیارہ فرانس میں ہی بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حوالے کیا تھا۔

بھارتی میڈیا نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ کم نوٹس کے باوجود فرانس ہمارے رافیل جنگجو طیاروں کے لیے میزائل سپلائی کرنے کو تیار ہو گیا ہے۔ رافیل کے پانچ جنگجو طیاروں کی پہلی کھیپ چار دن بعد 29 جولائی کو ہریانہ میں واقع فضائیہ کے امبالہ ہوائی اڈے پر اترے گی۔

ہیمر میزائل تیار کرنے والی کمپنی سافران الیکٹرنک اینڈ ڈیفینس کے مطابق ہیمر میزائل دور سے ہی آسانی سے استمعال کیا جا سکتا ہے۔ فضا سے زمین پر مار کرنے والے اس میزائل کا نشانہ بہت درست بتایا گیا ہے۔ یہ نظام آسانی سے فٹ ہو جاتا ہے، گائڈنس کِٹ کے سہارے نشانے لگا سکتا ہے اور کبھی جام نہیں ہوتا۔ میزائل کے آگے لگی گائڈنس کِٹ میں جی پی ایس، انفراریڈ اور لیزر جیسی ٹیکنالوجی فٹ ہوتی ہے۔

جو جنگجو رافیل طیارے انڈیا نے فرانس سے خریدے ہیں ان میں پہلے سے ہی فضا سے فضا میں مار کرنے والے میٹیؤر یعنی دور مار کرنے والے میزائل نصب ہوتے ہیں۔ گذشتہ 50 برسوں میں انڈین فضائیہ کی طاقت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ڈھائی سو کلو وزن سے شروع ہونے والا ہیمر میزائل رافیل کے علاوہ میراج جنگجو طیاروں میں بھی فٹ ہو سکتا ہے۔

فرانس کے علاوہ ہیمر میزائل ایشائی ممالک جیسے مصر، قطر وغیرہ کے پاس بھی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہیمر میزائل کسی بھی علاقے مثال کے طور پر پہاڑی علاقوں تک میں موجود بنکرز کو تباہ کر سکتے ہیں۔ بھارت نے پالیسی کے حوالے سے کئی فیصلے کیے ہیں جو چین کی جانب اشارہ کرتے ہیں لیکن جنگ یا کسی حملے سے متعلق کوئی اشارہ انڈیا کی جانب سے آیا ہے نہ ہی چین کی طرف سے۔

دونوں ملک ماضی میں دو جنگیں لڑ چکے ہیں۔ 1962 میں بھارت اور چین کی جنگ میں بھارت کو سکشت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بھارت نے فرانس سے 36 جنگجو طیاروں کا معاہدہ تقریباً 60 ہزار کروڑ روپے میں کیا تھا حالانکہ ان طیاروں کی صحیح قیمت کے بارے میں متعدد تنازعات کھڑے ہو چکے ہیں۔

یہ جنگی طیارے فرانس کی کمپنی داسا نے بنائے ہیں اور اس کی خریداری پر کئی طرح کے سوال اٹھائے گئے ہیں۔ فرانس کے ساتھ بھارت کا رافیل طیاروں کی خریداری کا معاہدہ متنازع رہا ہے اور انڈیا کی حزب اختلاف مطالبہ کرتی رہی ہے کہ فرانسیسی طیاروں کی خریداری میں مبینہ طور پر اربوں ڈالر کی بدعنوانی پر وزیراعظم نریندر مودی استعفیٰ دیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.