Latest news

دہلی فسادات میں 34 افراد ہلاک، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

دہلی فسادات میں 34 افراد ہلاک، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

دہلی/اسلام آباد: بھارت کے دارالحکومت دہلی میں مسلم مخالف فسادات سے 34 افراد ہلاک اور200 زخمی ہیں جبکہ سینکڑوں  مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

دارالحکومت میں کرفیو کے باوجود انتہاپسندوں کے مسلمانوں اور ان کی املاک پر حملے جاری ہیں جس کے سبب خوف کے شکار مسلمان متاثرہ علاقے سے ہجرت کرنے پرمجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئترس نے بھارت کی صورتحال تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی ڈیموکریٹ رہنمابرنی سینڈرز نے بھی بھارت میں اقلیتوں کےخلاف پرتشدد کارروائیوں پراظہارتشویش کیا ہے۔ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پرٹرمپ کاردعمل قیادت کی ناکامی ہے۔

امریکی سینیٹرمارک وارنر کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں حالیہ تشدد کے واقعات اطمینان بخش نہیں، بھارتی حکام اقتلیوں کےخلاف پرتشدد کارروائیاں رکوائے۔

بھارت کی انتہاپسند حکومت نے اقلیتوں کیلئے آواز اٹھانے کی پاداش میں دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایس مورالی دھار کا تبادلہ ہریانہ کی عدالت میں کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت نے یہ حکم نامہ رات 11 بجے جاری کیا۔

ہندو مسلم فسادات دہلی کے شمالی مشرقی علاقوں میں ہو رہے ہیں جہاں کم سےکم تین مساجد اور ان گنت دکانوں کو نذرآتش کردیا گیا ہے۔

جھڑپوں میں شریک دونوں دھڑے ایک دوسرے پر پتھراؤ کر رہے ہیں اور جب کہ پولیس ہندوانتہاپسندوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر رہی ہے اور آنسوگیس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

دہلی کے مشرقی علاقوں جعفرآباد، موج پور، سلیم پور اور چاند باغ میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر تشدد کیا جس سے جانی نقصان ہوا تاہم پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ہندو مسلم فسادات والے علاقوں میں تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں اور امتحانات معطل ہیں۔

دہلی کے نومنتخب وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کہا ہے کہ پولیس ہنگاموں پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے اور انہوں نے فوج کو شہر میں بلانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ سےمستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہلی میں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

سونیا گاندھی نے نئی دہلی میں ہلاکتوں کے ذمہ دار وزیراعظم مودی کو ٹھہرایا ہے اور فوج بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.