بیروت دھماکے، ہنگامی حالت کا نفاذ

بیروت: لبنان دھماکے کے نتیجے میں ملک میں دوہفتوں کے لیے ہنگامی حالت کا نفاذ کردیا گیا ہے۔ دھماکے کی تحقیقات کے باعث بندرگاہ کے متعدد حکام کوان کے گھروں میں نظربند کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب ورلڈ بینک نے بھی بیروت میں دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان پرمدد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق بندرگاہ کی تعمیرنوکے لئے سرکاری اورنجی مالی اعانت کے لیے متحرک ہیں اوروسائل کوبروئے کارلاتے ہوئے لوگوں کی بہترزندگیوں اورروزگارکے لیے مدد کریں گے۔

اس سے قبل بیروت کے گورنرمروان عبود نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ بندرگاہ کے علاقے میں تباہ کن دھماکوں کے نتیجے میں تین سے پانچ ارب ڈالرتک مالی نقصان، آدھا شہرمتاثرجب کہ کم سے کم تین لاکھ افراد بے گھرہوگئے ہیں تاہم ابھی مزید تباہ کاریوں کا تخمینہ لگا یا جارہا ہے۔ دھماکوں کے نتیجے میں اب تک کم ازکم 135 افراد جاں بحق اور 4000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بیروت میں ہونے والے قیامت خیز دھماکے سے مجموعی طور پر 100 ہلاکتوں اور 4 ہزار افراد کے زخمی ہونے کے ساتھ 3 لاکھ افراد کے بے گھر ہونے اور3 سے 5 ارب ڈالر کے املاک کی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ شہر کے 90 فی صد ہوٹل تباہ ہو چکے۔ جب کہ شہرمیں 5 ارب ڈالر تک کی املاک کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

دوسری جانب دھماکے سے ہونےو الی ہنگامی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے100 ارب لبنانی پاونڈز مختص کیے گئے ہیں۔ دھماکے کے نتیجے مین 3 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور انتظامیہ متاثرین کو سائبان، خوراک اور پانی وغیرہ کی فراہمی کررہی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.