اہم خبرِیں
نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان آصف علی زرداری کےخلاف چارج شیٹ جاری سینیٹ کمیٹی نے جسٹس رٹائرڈ جاوید اقبال کو طلب کرلیا نواز شریف نے احتساب عدالت کی کارروائی چیلنج کردی نواز شریف کواس حال میں پہنچانے والی مریم نواز ہے، شیخ رشید پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، سعودی عرب حکومت کا پاکستانی واٹس ایپ بنانے کا منصوبہ اسٹاک ایکسچینج منفی ومثبت خبروں کی لپیٹ میں سائنسدانوں نے ’’سپر مِنی‘‘ پاور بینک تیار کرلیا بیکٹیریا کے نمونے لینے والابرقی کییپسول تیار صبا قمراوربلال سعید کی عبوری ضمانت منظور قومی ٹیم جارحانہ کرکٹ کھیلیں، انضمام الحق پاکستان کرکٹ ٹیم نے تمام ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا بھارت کے یوم آزادی پر دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے پاکستان قوم کوسلام محبت پیش کرتا ہوں، طیب اردگان آرمی چیف اور بل گیٹس میں ٹیلی فونک رابطہ پاکستان میں اقلیتوں کو عزت اوروقار دیا گیا ہے، فیاض الحسن چوہا... جوائنٹ ایکشن کمیٹی اسکول کھلوانے میں ناکام پروفیسر خالد مسعود گوندل کیلئے حکومت کا تمغہ حسن کارکردگی کا ا... یوم آزادی تقریب،184 شخصیات کیلئے پاکستان سول ایوارڈزکا اعلان

بنگلہ دیش میں بدترین سیلاب، 10 لاکھ افراد متاثر

ڈھاکہ: شدید بارشوں کے بعد دریائوں میں طغیانی آنے سے ملک کا وسیع علاقہ زیرآب آگیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ 10 لاکھ سے زائد متاثرین گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ منگل کو ان بپھرے ہوئے دریاؤں میں کم از کم دو درجن مقامات پر پانی کناروں سے بہہ کر قریبی آبادیوں کے نشیبی علاقوں میں بھر گیا، جس سے کئی افراد کے ڈوبنے کی اطلاع ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بنگلہ دیش کے شمالی، شمال مشرقی اور وسطی علاقے کے متعدد مقامات زیر آب آچکے ہیں۔ سیلابی صورتحال کا آغاز گزشتہ ماہ ہوا، جو بڑھتے بڑھتے شدت اختیار کرگیا۔ اس کی زد میں آکر وسیع علاقے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، جبکہ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ملک کے شمال مغربی اور وسطی میں صورت حال مزید بگڑنے کے خدشات ہیں۔ ادارے کے ایک اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ اس عشرے کا بدترین سیلاب ہے۔ اس کا آغاز شدید بارشوں سے ہوا، جس کے بعد سیلابی پانی نے تیزی کے ساتھ نشیبی علاقوں کی جانب رخ کیا۔ دریائوں کی سطح اونچی ہوتی گئی اور پانی کناروں کو کاٹتے ہوئے قریبی نشیبی علاقوں کی طرف بہنے لگا۔

متاثرین کی فوری امداد اور کھانے پینے کی اشیا کی تقسیم کا کام شروع کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ادارے نے 975 مراکز قائم کیے ہیں جب کہ 175 طبی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔ آئندہ چند روز کے دوران مون سون کی شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

خطے میں مون سون کا موسم جون سے ستمبر تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران بنگلہ دیش کے 230 دریاؤں میں طغیانی آتی ہے، جن میں سے 53 دریا ایسے ہیں جو بھارت اور بنگلہ دیش گزرتے ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.