اہم خبرِیں

برطانوی وزیراعظم بھی کورونا وائرس کا شکار، قرنطینہ میں چلے گئے

برطانیہ کے میک اپ اسٹور مالکان نے اپنی دکانوں یں موجود میک اپ ٹیسٹرز کو کورونا کے پھیلاؤ کا ممکنہ سبب قرار دیتے ہوئے انہیں پھینکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسٹور مالکان کا کہنا ہے کہ میک اپ ٹیسٹرز کو ایک کے بعد ایک گاہک استعمال کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ کورونا کے جراثیم پھیلنے کا ایک بڑا سبب بن سکتے ہیں۔ برطانیہ کے میک اپ فروخت کرنے والے چند اسٹور مالکان نے کہا ہے کہ وہ ان ٹیسٹرز کو مستقبل قریب میں اپنی دکانوں سے ہٹا دیں گے۔ یہ بھی پڑھیں: کورونا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکہ پہلے نمبر پر خیال رہے کہ کورونا وائرس کھانسی یا چھینک کے دوران منہ سے خارج ہونے والے ذرات کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ہونٹوں، آنکھوں یا چہرے کے کسی اور حصے پر استعمال کیا گیا ٹیسٹر ایک سے دوسرے گاہک میں وائرس منتقل کرنے کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کورونا وائرس کے سبب دنیا میں 24 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور532,119 متاثر ہیں۔ متاثرہ مریضوں میں امریکہ پہلے نمبر پر آگیا جہاں مریضوں کی تعداد 85 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔گورنر نیوجرسی کے مطابق 25سو کے قریب کیسز روزانہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ امریکی سینیٹ نے کورونا سے لڑنے کے لیے 2 ٹریلین ڈالرز کا امدادی پیکج منظور کیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: پینگولیئن میں کورونا وائرس کی تصدیق رقم کم آمدنی والے افراد کی براہ راست امداد کے علاوہ معیشت کی بحالی اور طبی سہولتیں بہتر بنانے پر خرچ ہوگی۔ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے میکسیکو نے امریکہ کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی ہے۔ برطانیہ میں مزید 115 افراد کورونا کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے ہیں اورمجموعی ہلاکتیں 578 ہوگئی ہیں۔ اٹلی میں کورونا سے مزید سات سو بارہ افراد ہلاک ہوگئے اور مجموعی تعداد آٹھ ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ برطانوی وزیراعظم بھی کورونا وائرس کا شکار، قرنطینہ میں چلے گئے

لندن:  دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی زد میں برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن بھی آ گئے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو پیغام میں برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چوبیس گھنٹے پہلے مجھ میں بیماری ظاہر ہوئی تھی جس کے بعد کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ لہٰذا میں نے خود کو قرنطینہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 ویڈیو پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ قرنطینہ میں رہنے کے باوجود حکومتی ذمہ داری نبھاتا رہوں گا۔ ویڈیو لنک کے ذریعے حکومت کو لیڈ کرتا رہوں گا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی فنانس منسٹر اور ہیلتھ منسٹر بھی خود کو قرنطینہ کرسکتے ہیں، دونوں وزیربورس جانسن کے ساتھ مصروف وقت گزار رہے تھے۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے پیر کے روز ملک میں تین ہفتوں کے لیے دکانیں اور دو سے زائد افراد کے مجمعے پر پابندی لگاتے ہوئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

پیر کی شام کو ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ تمام غیر ضروری دکانیں، بند رہیں گی۔ انہوں نے ملک میں کورونا وائرس کو لڑنے کے اقدامات کا بتاتے ہوئے عوام کو گھروں پر رہنے کی ہدایت کی تھی۔

وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان پروفیسر کرِس وہیٹی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا ٹیسٹ برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر کے مشورے پر کروایا گیا تھا جو 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں ہوا اور مثبت آیا۔

اس سے قبل بدھ کو برطانیہ کے شہزادہ چارلس میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ شاہی خاندان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں شہزادہ چارلس کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔ 71 سالہ شہزادہ چارلس میں کورونا کی ہلکی علامات ظاہر ہوئی ہیں تاہم وہ اچھی صحت میں ہیں۔

اس سے قبل دنیا بھر میں کورونا کا خوف، 199 ممالک میں 24 ہزار 87 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، عالمی وبا نے پانچ لاکھ بتیس ہزار 224 افراد کو لپیٹ میں لے لیا جبکہ صحت یاب افراد کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار 326 ہے، امریکا میں کورونا سے متاثرین افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہو گئی۔

عالمی وبا سے امریکا میں 1300 افراد ہلاک اور 85 ہزار 594 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ چین میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 3 ہزار 292 ہو گئی جبکہ متاثرین کی تعداد 81 ہزار 340 ہے۔ اٹلی میں کورونا سے آٹھ ہزار دو سو پندرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 80 ہزار 589 افرادعالمی وبا کی لپیٹ میں ہیں۔

اسپین میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 4 ہزار 365 ہے۔ ایران میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 234 ہو چکی ہے۔

برطانیہ میں کورونا سے 578، جنوبی کوریا میں 139، فرانس میں ایک ہزار 696، جاپان میں 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب میں کورونا سے تین افراد موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ متاثرین کی تعداد ایک ہزار 12 ہے۔

بھارت میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد بیس جبکہ متاثرین کی تعداد سات سو ستائیس ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.