اہم خبرِیں
انوپم کھیر کا خاندان بھی کورونا وائرس کا شکار فیصل واوڈا نے کے الیکٹرک سے متعلق بلاول بھٹو کی رپورٹ کو کرپشن... چین میں طوفانی بارشوں کے باعث بدترین سیلابی صورتحال پیدا گوگل کا بھارت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان ’ارطغرل غازی‘ کی حلیمہ سلطان کو کیو موبائل نے اشتہار کیلئے منت... احسن اقبال کی نیب کو وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی د... ہوٹل کی7 ویں منزل سے گرنے والے شخص کی بالکونی میں دوسرے شخص سے... اسلام آباد ہائیکورٹ نے آن لائن پب جی گیم پر پابندی کےخلاف درخو... افغانستان سے پاکستان چرس کی بڑی کھیپ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام سیاست سے دور جہانگیر ترین ان دنوں کہاں؟ لاہور سمیت پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں بجلی کی آنکھ مچولی جا... حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت، سپریم کورٹ دودھ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ بن قاسم پاور پلانٹ میں تکنیکی خرابی کا دعویٰ ،کے الیکٹرک 45 سالہ شخص کی 6 سالہ بچی سے زیادتی شوگر ملز ایسوسی ایشن سے جہانگیر ترین گروپ کا خاتمہ کووڈ-19 کی ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے خدمات انجام دینے پرپاکستان... سی ٹی ڈی کی کاروائی پر کالعدم تنظیم کے تین دہشت گرد گرفتار پنجاب میں لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری یواے ای کا مریخ پرروانہ ہونیوالا مشن ملتوی

انسانی بال کبوتروں کو پیروں سے محروم کررہے ہیں

:پیرس

شہروں میں ایک ٹانگ سے محروم کبوتر دیکھے جاتے ہیں اور اب ان کے متاثرہ ہونے کی ایک عجیب وجہ سامنے آئی ہے کہ انسانی بال انہیں اپاہج کررہے ہیں۔

کئی کبوتر پیروں سے محروم پائے جاتے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ کبوتر اپنی ہی بیٹ پر کھڑے رہتے ہیں جس سے پنجوں میں انفیکشن پھیل جاتا ہے اور وہ پاؤں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ بعض افراد کے مطابق مختلف کیمیکل اور خود ماحول انہیں انفیکشن کا شکار بنارہا ہے جس کی وجہ سے ان کے پیرو یا پنجے گلنے لگتے ہیں۔

لیکن پرندوں کے ماہرین نے ان کے پیروں پر لپٹے بالوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انسانی بال کے گچھے ان بے بس پرندوں کے پیروں سے لپٹ جاتے ہیں اور دھیرے دھیرے تنگ ہوکر خون کا دباؤ روک دیتےہیں۔ اس سے پاؤں مفلوج ہوجاتا ہے یا پھر جھڑ کر گرجاتا ہے۔

اسی بنا پر فرانس کے میوزیم برائے نیچرل ہسٹری کے ماہر فریڈرخ جیگاؤ نے اپنے ساتھیوں سمیت پورے پیرس کا جائزہ لیا ۔ انہوں ںے 46 مقامات پر آبادی، ماحول اور کبوتروں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ جہاں شور، آبادی اور فضائی آلودگی زیادہ تھی وہاں مفلوج کبوتروں کی تعداد دیگر علاقوں سے زیادہ تھی۔

پھر جہاں حجاموں کی دکانیں اور ہیئرڈریسنگ پارلر زیادہ تھے وہاں مفلوج کبوتر زیادہ ملے کیونکہ بال وہاں سے نکل کر ماحول میں شامل ہورہے تھے اور کبوتروں تک پہنچ رہے تھے۔ ڈاکٹر فریدرخ کے مطابق پرندے خود بالوں میں نہیں الجھتے بلکہ ان کے پیر کے نیچے آنے والے بالوں کے گچھے تیزی سے لپٹتے جاتےہیں اور رفتہ رفتہ تنگ ہوتے جاتے ہیں جس میں کبوتروں کا نازک پاؤں مفلوج ہوکر رہ جاتا ہے۔

ماہرین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہہے کہ اگر کسی علاقے میں سبزہ زیادہ ہوتو کبوتر وہاں خوش رہتے ہیں اور ان کے پیروں کے متاثر ہونے کی شرح بھی کم ہوتی ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.