افغان حکومت عید الاضحیٰ پر جنگ بندی کے لیے تیار

کابل: افغانستان کی قومی مفاہمتی کونسل نے کہا ہے کہ افغان حکومت عید الاضحیٰ کے دوران جنگ بندی پر تیار ہے اور اس توقع کا اظہار کیا کہ طالبان بھی عید کے دنوں کے دوران لڑائی بند کرنے پر اتفاق کریں گے۔

کونسل کے ترجمان فریدون خازون نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر ڈیڈلاک سفیر زلمے خلیل زاد کے خطے میں موجودگی کے دوران حل کر لیا جائے گا۔ ادھر افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان طارق آرین کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران طالبان نے افغانستان میں پُر تشدد کارروائیوں میں 34 فی صد اضافہ کیا ہے۔

افغان سیاسی تجزیہ کار خلیل صفی کہتے ہیں کہ قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر طالبان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور گروپ اپنی فہرست میں شامل تمام 5000 قیدیوں کی رہائی پر اب تک بضد ہے۔ اگر خلیل زاد قیدیوں کے مسئلے کو حل کرا لیتے ہیں تو بین الافغان مکالمے کا پہلا اجلاس عیدالاضحیٰ کے فوری بعد منعقد ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف حکومت افغانستان نے پیر کے روز کابل میں سینئر عہدے داروں کا چوتھا اجلاس منعقد کیا۔ افغان وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ صدر اشرف غنی آج منگل کے روز ابتدائی اجلاس سے خطاب کریں گے۔ وزارت کے ترجمان، سمروز خان مسجدی نے کہا ہے کہ آج کے اجلاس میں شرکا نے فریقین کو درپیش مسائل پر گفتگو کی۔

ترجمان نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ گروپ کے اجلاسوں میں آج سماجی اور معاشی نوعیت کے اثرات، افغانستان میں امن و امان اور ترقی سے متعلق معاملات پر گفتگو کی گئی۔

حکومت کی کارکردگی کے بارے میں، افغان حکومت دوسری رپورٹ پیش کرنے والی ہے، جس کا موضوع افغانستان کا قومی امن اور ترقیاتی لائحہ عمل ہوگا۔ اس دو روزہ اجلاس کا انعقاد اقوام متحدہ کے اعانتی ادارے کے توسط سے افغان وزارت خزانہ اور فن لینڈ کا سفارتخانہ کر رہا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.