ایکسرے سے ہارٹ اٹیک کا بروقت پتہ لگایا جا سکتا ہے

بوسٹن: پھیپھڑوں کو دیکھ کر دل کی کیفیت کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی تاہم اب کمپیوٹر الگورتھم اور مشین لرننگ کی بدولت پھیپھڑوں میں جمع ہونیوالے مائعات سے دل کے دورے بلکہ ہارٹ فیل کی پیشگوئی کرنا بھی ممکن ہوگیا ہے۔

ماہرین متفق ہیں کہ پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے سے دل پر بوجھ پڑتا ہے اور ہارٹ فیل کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے ایک مشین لرننگ سافٹ ویئر بنایا ہے جو پھیپھڑوں میں مائع جمع ہونے کی شدت کو نوٹ کرکے بہت درستی کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے کہ اس سے دل کا دورہ پڑسکتا ہے یا نہیں۔ اسی طرح معالجین کو مرض کی شدت جاننے میں مدد مل سکتی ہے اور مریضوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

ایم آئی ٹی کی کمپیوٹر سائنس اینڈ آرٹیفشل انٹیلی جنس (سی ایس اے آئی ایل) نے پہلے لاتعداد ایکس رے جمع کیے اور ان کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔ جدید کمپیوٹنگ اور الگورتھم کی مدد سے ان کا تجزیہ کیا گیا۔ اس بنا پر سافٹ ویئر وہ تفصیلات نوٹ کرسکتا ہے جو ڈاکٹروں کی آنکھ سے اوجھل رہتی ہیں۔ اسی ٹیم نے کمپیوٹنگ قوت کی بدولت سی ٹی اسکین سے کینسر کی تشخیص، الزائیمر کی قبل ازوقت نشاندہی اور یہاں تک کہ ای سی جی کی مدد سے بھی دل کی مزید خرابیوں سے آگاہی حاصل کی ہے۔ واضح رہے کہ عام حالات میں ڈاکٹراس کا اندازہ نہیں لگاپاتے اور جان لیوا مرض خاموشی سے اندر پلتا رہتا ہے۔

ایم آئی ٹی کی ٹیم نے تین لاکھ ایکسرے کا ڈیٹا حاصل کیا اور اس پر ڈاکٹروں کی رائے کو بھی شامل کیا۔ اس طرح مشین لرننگ ہر ایکسرے اور اس سے وابستہ کیفیت کو دیکھنے اور سمجھنے لگی اور اس کا ڈیٹا بیس بڑھتا رہا۔ اس کے بعد کمپیوٹر اس قابل ہوگیا کہ اپنے ڈیٹا کی روشنی میں کسی بھی ایکسرے کا تجزیہ کرکے رائے دے سکے۔ جب اس سے ہارٹ فیل کے بارے میں پوچھا گیا تو سافٹ ویئر نے درست ترین پیشگوئی کی جو ان مریضوں کے اگلے ڈیٹا سے سامنے آچکی تھی۔ یہاں تک کہ سافٹ ویئر نے امراضِ قلب کی شدت کی درجہ بندی بھی کرکے دکھائی۔ اس اہم پیش رفت کے بعد ہم مشین لرننگ کو نائب ڈاکٹر کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ دن دور نہیں جب اپنے ڈیٹا اور کمپیوٹنگ کی بدولت سافٹ ویئر ڈاکٹروں کو اپنی رائے دے سکیں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.