ہولوگرام سے وائرس کی شناخت ممکن

نیویارک: دنیا بھر میں نت نئے وائرس، بیکٹیریا اور اینٹی باڈیز سامنے آتے رہتے ہیں اب ماہرین نے ہولوگرافک تصویر سازی کا بالکل نیا طریقہ وضع کردیا ہے جو وائرس اور اینٹی باڈؑیز کو شناخت کرکے طبی آزمائش میں مدد دے گا۔

یہ تحقیق کووڈ 19 کے پس منظر میں کی گئی ہے جس میں خالصتاً طبیعیات سے مدد لی گئی ہے۔ اس کے روح رواں پروفیسر ڈیوڈ گرائیر ہیں جو کہتے ہیں کہ فزکس کو پہلے اس طرح کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا جس میں ہم نے حقیقی طور پر وائرس اور اینٹی باڈیز کو خاص دانوں پر چپکے ہوئے دیکھا ہے۔

یہ تحقیق سافٹ میٹر نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے اور اسے بہتر بنا کر صرف 30 منٹ میں انجام دیا جاسکتا ہے۔ یکساں طور پر یہ وائرس (انفیکشن) یا پھر اینٹی باڈیز ( امیونٹی) کو دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس تحقیق میں نیویارک یونیورسٹی کے دیگر سائنسدانوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ تاہم سب نے ملکر اسے ہولوگرافک ویڈیو مائیکرواسکوپی یا ہولوگرافک تشخیص کا نام دیا ہے۔

اس میں سب سے اہم کردار انتہائی باریک موتیوں کا ہے جو جو حیاتی کیمیائی عمل سے وائرس اور اینٹی باڈیز کو چپکالیتا ہے۔ اس طرح موتی ایک میٹر کے اربویں حصے تک تھوڑی پھیل جاتی ہیں۔ پھر ان تبدیلیوں کو ہولوگرام کے ذریعے دیکھا جاتا ہے۔ ہولوگرام نظام ایک سیکنڈ میں ایک درجن موتیوں کا جائزہ لے سکتا ہے یعنی 20 منٹ میں ایک ہزار موتیوں سے چمٹے وائرس اور اینٹی باڈؑیز کو دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ نظام مکمل طور پر قابل اعتماد اور انتہائی کم خرچ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں خاص آلہ ’ایکس سائٹ‘ استعمال ہوا ہے جسے خود ڈیوڈ نے ایجاد کیا ہے۔ اس نظام کو آسانی سے استعمال کرکے مختلف موتیوں کو خاص بصری طریقوں سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے ہولوگرام کاڑھے جاتے ہیں۔
توقع ہے کہ یہ انقلابی ٹیکنالوجی وائرس کی تشخیص اور علاج میں اہم کردار ادا کرسکے گی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.