اسلام آباد کی فضاؤں میں پولن کی مقدارخطرناک سطح پر پہنچ گئی

اسلام آباد کی فضاؤں میں پولن کی مقدارخطرناک سطح پر پہنچ گئی۔ جنگلی شہتوت پیلے پھولوں اور خاص قسم کی گھاس سے ہونے والی پولن الرجی سے سانس کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔اسلام آباد کی فضاؤں میں پولن کی مقدار 50 ہزار548 فی مکعب میٹر تک جا پہنچی ۔وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں چہارسو رنگ بکھرے پڑے ہیں لیکن پولن کے شکارافراد پارکوں کی بجائے اسپتالوں کارخ کرنےپرمجبورہیں۔جوں ہی درختوں سے کونپلیں پھوٹتی ہیں ، زمین پر خاص قسم کی گھانس اگتی ہے، پیلے پھول کھلتے ہیں، پولن الرجی سے متاثرہ افراد کی جان پر بن آتی ہے۔پمز ہسپتال کے ڈاکٹر وسیم خواجہ کے مطابق پولن جیسے ہی ٹکراتے ہیں ناک آنکھ گلے سے تو ساتھ ہی ری ایکشن ہوتا ہے جسے ہم پولن الرجی کا نام دیتے ہیں، کھانسی نزلہ زکام آنکھوں سے پانی آنا ،جسم پر خارش ہونا ، سانس بند ہو جانا اور بات جان پر بن آتی ہے۔ماہرین کے مطابق 5 سے 15 سال کی عمر کے 50 فیصد بچوں پر ویکسین کا مثبت اثر ہو سکتا ہے، سیزن شروع ہونے کے بعد ویکسین کا فائدہ نہیں ، ایک سے زائد اشیاء سے الرجی کی صورت میں ویکسین بالکل بے فائدہ ہے۔ماہرین نے الرجی سے متاثرہ افراد کو باہر نکلتے وقت ہر روز نیا ماسک استعمال کر نے، سر پر ٹوپی یا ہیٹ پہننے، چھت پر کپڑے سکھانے سے گریز کرنے، بیڈ شیٹ چادریں دھلی ہوئی استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے

ماہرین کہتے ہیں پولن الرجی کا سبب بننے والے جنگلی شہتوت کے درختوں کو ختم کر کے ماحول دوست درخت اگانا ہوں گے.موسم بہار میں دھوپ تیز ہو تو پولن الرجی میں بھی شدت آ جاتی ہے ،محکمہ موسمیات کہتا ہے اپریل کے وسط سے فضا میں پولن کی مقدارمیں بتدریج کمی آ جائےگی ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.