Latest news

جسم کو حرکت نہ دینے کے نقصانات

لیورپول اور نیوکیسل یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ 2 ہفتے تک جسمانی سرگرمیوں کو کم کردینا جیسے روزانہ 10 ہزار قدم سے ڈیڑھ ہزار قدم چلنے پر آجانا دل اور پھیپھڑوں کی صحت کو متاثر کرسکتا ہے، کمر اور پیٹ کا گھیراﺅ بڑھا سکتا ہے، جسمانی اور جگر کی چربی کا ذخیرہ بڑھا سکتا ہے اور انسولین کی مزاحمت بڑھ سکتی ہے۔آسان الفاظ میں 2 ہفتے کا آرام ذیابیطس ٹائپ ٹو اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک یا فالج کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔مگر اچھی خبر یہ ہے کہ جسم کو ایک بار سرگرم کرکے اس نقصان کی تلافی کی جاسکتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ بات اہم ہے کہ جب لوگ معمول کی جسمانی سرگرمیوں کی سطح پر واپس آتے ہیں تو صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات ریورس ہوجاتے ہیں۔اس تحقیق کے لیے محققین نے 28 صحت مند اور جسمانی طور پر متحرک رہنے والے افراد کی خدمات حاصل کیں جن میں 18 خواتین بھی شامل تھیں اور ان کی اوسط عمر 32 سال تھی۔یہ تمام افراد عام زندگی میں کافی متحرک تھے اور عموماً 10 ہزار قدم روزانہ چلنے کے عادی تھے، مگر محققین نے انہیں اپنی جسمانی سرگرمیوں کو نمایاں حد تک کم کرنے کی ہدایت کی اور روزانہ سو منٹ تک کمی لائے۔نتائج سے معلوم ہوا کہ 2 ہفتے تک بیٹھے رہنے کی عادت کے نتیجے میں خون کی شریانوں کی فٹنس کی سطح میں 4 فیصد تک کمی آئی، کمر کا گھیراﺅ ایک انچ کے ایک تہائی حصے تک بڑھ گیا، جگر کی چربی 0.2 فیصد بڑھ گئی جبکہ مجموعی جسمانی چربی میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا اور انسولین کی مزاحمت اور خون میں چربی کی سطح بھی کچھ بڑھ گئی۔مگر معمول کی جسمانی سرگرمیاں بحال ہونے کے 14 دن بعد یہ تمام منفی اثرات ریورس ہوگئے اور مھققین کا کہنا تھا کہ جسمانی سرگرمیوں میں معمولی اضافہ بھی صحت کے لیے مثبت ثابت ہوسکتا ہے۔یہ نتائج اس لیے بھی حیران کن ہیں کیونکہ اس میں نوجوان اور صحت مند افراد کی جسمانی تبدیلیوں کو دیکھا گیا تھا اور محققین کے مطابق جو لوگ اتنے صحت مند نہ ہوں ان میں ان امراض کے خطرات کی سطح کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.