انسانوں کے گرنے کی شرح میں تیزی سے اضافہ

لندن: دنیا کے سینکڑوں ممالک سے ایک عجیب خبر آئی ہے جس نے خود سائنسدانوں کو بھی حیران کردیا ہے۔ خبر یہ ہے کہ کرہِ ارض پر انسانوں کے گرنے، چوٹ لگنے، دیرینہ معذوری اور اموات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ قرار دی گئی ہے کہ جدید طرزِ حیات کا اثر ہمارے جسمانی توازن پر ہورہا ہے اور گرنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا جس میں چھوٹوں اور بڑوں کی کوئی تفریق نہیں تاہم اچھی بات یہ ہےکہ ہم اس رحجان کو ختم کرسکتے ہیں۔ گرنے، چوٹ لگنے، معذوری اور اموات کے یہ واقعات محض کھڑا ہونے اور چلنے دوران بھی پیش آئے ہیں۔ عالمی سطح پر ٹریفک حادثات کے بعد ہمارے گرنے کا عمل ہلاکت کی دوسری بڑی وجہ بن چکا ہے۔ اس ضمن میں برٹش میڈیکل جرنل نے ایک بہت بڑا سروے کیا ہے جس میں 195 ممالک میں گرنے، چوٹ لگنے، جزوی یا مکمل معذوری اور اموات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ سال 1990 سے 2017 کے درمیان عالمی سطح پر گرنے سے سنگین نتائج کی شرح دوگنا ہوچکی ہے جو ایک تشویشناک امر ہے۔ اس عمل میں گرنے کے بعد زندگی کے بے کار ہوجانے والے سال، معذوری کے سال اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق گرنے سے چوٹ لگنے کے سب سے زیادہ واقعات میں کولہے، گھٹنے اور ٹخنوں کی چوٹ کے واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔

تاہم ماہرین نے جوانوں اور نوجوانوں میں نشے، الکحل، موبائل فون کے استعمال اور تیزروی کو گرنے کے حادثات کا ذمے دار بھی قرار دیا ہے۔ تاہم 60 سال سے زائد افراد میں گرنے کے بعد معذوری اور موت کا خطرہ سب سے زیادہ دیکھا گیا ہے۔ لیکن کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوتی کہ ایسے 80 فیصد واقعات غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں رونما ہورہے ہیں۔ ان ممالک کی بڑی آبادی تیزی سے بوڑھی ہورہی ہے جہاں گرنے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ہر سال 646000 افراد گرنے سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب تین کروڑ ستر لاکھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جن میں طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ان میں بچوں کی تعداد کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن سائنسدانوں کا اصرار ہے کہ اس کی دماغی اور اکتسابی وجہ بھی ہے۔ ہمارے استحکام کی کمی میں خود دماغ اور جسم کا کمزور ہوتا ہوا امتزاج بھی شامل ہے۔ اسی طرح جذباتی اور نفسیاتی طور پر ہم بہت تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ ان کی تہہ میں پہنچ کر ہم بہت حد تک اس عالمگیر مسئلے کی شدت کم کرسکتے ہیں۔

اسی بنا پر ماہرین نے دماغی ورزشوں، یوگا، چہل قدمی اور جاگنگ پر بھی زور دیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.