سرگودھا : 150سے زائد افراد کے ایڈز میں مبتلا ہونے کا انکشاف

سرگودھا :پنجاب کے شہر سرگودھا کے گاؤں کوٹ عمرانہ سے ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریض سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے جن کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے اور اطلاعات ہیں کہ عطائی ڈاکٹر ہی اس کی بڑی وجہ ہیں جو استعمال شدہ سرنج استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ ماہ اس گاؤں سے 2700 سے زائد نمونے حاصل کئے گئے تھے۔ اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ان میں 100 سے زائد افراد میں ایچ آئی وی اور ایڈز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس طرح جنوری سے اب تک سرگودھا کے اس ایک گائوں سے سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔ مقامی محکمہ صحت کے حکام کو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں جیسے نتائج آتے رہیں گے ویسے ہی یہ تعداد مزید بڑھے گی۔

سرگودھا کے مقامی محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ 100 سے زائد مریضوں کو سرگودھا میں کوٹ مومن میں قائم کردہ سپیشل سنٹر میں رجسٹرڈ کیا جا چکا ہے۔ یہ خصوصی سنٹر گزشتہ ماہ لئے گئے نمونوں کے ابتدائی نتائج آنے کے بعد قائم کیا گیا تھا جب 35 کیس سامنے آئے تھے۔ یہاں ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریضوں کو رجسٹر کرنے کے بعد مفت علاج معالجہ فراہم کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 90 فیصد سے زیادہ مریضوں نے یہی بتایا ہے کہ انہوں نے عطائیوں سے ٹیکے لگوائے ہیں۔ سپیشل میڈیسن یونٹ کے انچارج ڈاکٹر سکندر حیات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ درست ہے کہ عطائی ایچ آئی وی اور ایڈز کے وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا سبب بن سکتے ہیں۔ ضلع سرگودھا میں اس وقت تقریباً آٹھ ہزار کے قریب عطائی موجود ہیں۔ہر گاؤں میں تقریباً 5 سے 6 ایسے جعلی ڈاکٹر موجود ہیں اور یہ لوگ زیادہ تر لوگوں کو استعمال شدہ سرنج سے ٹیکے لگاتے ہیں جو ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے پھیلائو کا باعث بنتے ہیں۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ایک ہی گاو¿ں سے اتنے زیادہ ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریض سامنے آنا اور ان میں وائرس کے پھیلاؤ کا سبب عطائی ہونا تشویشناک ہے۔ تاہم پنجاب ہیلتھ کیئر کمشن کے ضلع سرگودھا کے ریجنل منیجر عامر سلیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر مختلف دیہاتوں میں عطائیوں کیخلاف آپریشن میں مصروف ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.