دل کی دھڑکن سے ڈپریشن کا پتا لگایا جاسکتا ہے، طبی ماہرین

فرینکفرٹ: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دل دھڑکنے کی رفتار میں کمی بیشی پر نظر رکھ کر یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کوئی شخص ڈپریشن میں مبتلا ہے یا نہیں۔

یہ تحقیق جرمن ماہرین نے ’’یورپین کالج آف نیوروسائیکو فارماکولوجی‘‘ کے زیرِ اہتمام آن لائن منعقد ہونیوالی کانگریس میں پیش کی۔ گوئٹے یونیورسٹی، فرینکفرٹ کے ڈاکٹر کارمن شیویک اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا ہے کہ پورے 24 گھنٹوں کے دوران دل کی دھڑکنوں میں اتار چڑھاؤ کو بنیاد بناتے ہوئے ڈپریشن ہونے یا نہ ہونے کی تشخیص 90 فیصد درستی کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔

ماضی میں تحقیقات سے یہ تو معلوم ہوچکا تھا کہ ڈپریشن انسانی دل کی دھڑکنوں کی رفتار پر اثر انداز ہوتا ہے، لیکن یہ علم نہیں تھا کہ اس تعلق کی نوعیت کس طرح کی ہے۔ تازہ مطالعے میں اسی بات پر تحقیق کی گئی ہے۔ اس مطالعے میں 32 رضا کار شریک کیے گئے جن میں سے 16 صحت مند جبکہ باقی 16 شدید ڈپریشن کے ایسے مریض تھے جنہیں ڈپریشن کی عام دواؤں سے افاقہ نہیں ہورہا تھا۔

دورانِ مطالعہ ڈپریشن کے مریضوں کو سکون آور دوا ’’کیٹامائن‘‘ دی گئی جو اعصاب میں تناؤ ختم کرتے ہوئے ڈپریشن کی شدت میں کمی لاتی ہے۔ تاہم یہ دوا صرف اور صرف انتہائی اقدامات کے تحت ہی تجویز کی جاتی ہے۔ مطالعے میں شریک تمام رضاکاروں میں دل کی دھڑکنوں پر مسلسل نظر رکھی گئی۔

ماہرین جانتے ہیں کہ صحت مند لوگوں میں دل کی دھڑکنیں دن میں نسبتاً تیز جبکہ رات کے وقت تھوڑی سست رفتار ہوجاتی ہیں۔ لیکن کیا ڈپریشن کے مریضوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ اس بارے میں وہ کچھ خاص نہیں جانتے تھے۔ رضاکاروں میں دھڑکنوں پر مسلسل چوبیس گھنٹے نظر رکھنے کےلیے کلائی میں پہنے جانے والے اور ہلکے پھلکے ’’ای سی جی‘‘ آلات استعمال کیے گئے جبکہ یہ سلسلہ چار دن اور تین راتوں تک جاری رہا۔ اگلے مرحلے میں اس ڈیٹا کا تجزیہ مصنوعی ذہانت سے لیس، ایک خاص کمپیوٹر پروگرام پر کیا گیا۔

اس تجزیئے سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ ڈپریشن کے مریضوں میں دل کی دھڑکن، صحت مند افراد کے مقابلے میں تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے، وہیں یہ انکشاف بھی ہوا کہ ڈپریشن کی شدت جتنی زیادہ ہوگی، چوبیس گھنٹوں کے دوران دل کی دھڑکنوں میں بھی اتنی ہی کم تبدیلی آئے گی۔ ان نتائج سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ دھڑکنوں کی مدد سے ڈپریشن کی تشخیص، اس کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی کی جاسکتی ہے؛ جبکہ ڈپریشن میں دی جانے والی ادویہ کی اثر پذیری بھی ہفتوں اور مہینوں کے بجائے ایک سے دو دن میں جانچی جاسکے گی۔

مطالعے کے دوران دھڑکنوں کے ذریعے ڈپریشن کی تشخیص کا یہ طریقہ 90 فیصد درست ثابت ہوا ہے جو بلاشبہ ایک غیرمعمولی شرح ہے۔ اس سب کے باوجود، ڈاکٹر کارمن شیوک نے خبردار کیا ہے کہ یہ صرف ابتدائی نوعیت کا مطالعہ ہے جس کے نتائج بہتر اور پختہ بنانے کےلیے مزید وسیع تر تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ہی یہ حتمی طور پر کہا جاسکے گا کہ ڈپریشن کی تشخیص میں دھڑکنوں کے اتار چڑھاؤ یا کمی بیشی پر کس حد تک انحصار کیا جاسکتا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.