سب سے اچھا کوکنگ آئل کون سا ہے ؟

لاہور: وہ تیل جس میں کھانا پکایا جاتا ہے اس کی تمام اقسام چربی اور کیلوریز سے بھرپور ہوتی ہیں لیکن ان کی کیمیائی اجزائے ترکیبی اور ہم پر اثرات مختلف قسم کے ہو سکتے ہیں۔

کوکنگ آئل کسی بھی کچن کا بنیادی جزو ہوتے ہیں لیکن اس بارے متضاد دعوے ہیں کہ ان میں سے کون سا تیل ہماری صحت کے لیے بہتر ہے۔ کسی بھی دکان کے شیلف پر ناریل سے لے کر زیتون، سبزیوں، کنولہ، توری کے بیجوں، ناشپاتی کے تیل تک مختلف انواع و اقسام کے آئل دستیاب ہوتے ہیں۔ مگر ہم یہ کیسے طے کرتے ہیں کہ کون سا تیل ہمیں استعمال کرنا چاہیے اور کس تیل کے استعمال سے مکمل گریز کرنا چاہیے؟

کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والے کوکنگ آئل کے نام عموماً ان بیجوں، پھلوں، پودوں یا اناج پر رکھے جاتے ہیں جن سے انھیں کشید یا تیار کیا جاتا ہے۔ پھر ان کی درجہ بندی ان میں موجود چربی کے اجزا کی بدولت کی جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں ناریل کے تیل، جو کہ نوے فیصد سیچوریٹڈ فیٹ ہے، کا بحیثیت بہترین خوراک استعمال زیادہ ہو گیا ہے۔ ناریل کے تیل کی بطور بہترین غدائیت والے آئل کے بہت تعریف کی جا رہی ہے اور یہ بھی کہ اس آئل کے انسانی جسم میں چربی بن کر سٹور ہونے کے کم امکانات ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ناریل کے تیل کے استعمال میں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ انسانی جسم میں توانائی کی طرح صرف ہو جاتا ہے لیکن ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک ماہرِ وبائیات اسے (ناریل کا تیل) ایک ’خالص زہر‘ قرار دیتی ہیں۔ برطانیہ میں رائج صحت کے رہنما اصولوں کے مطابق بہت زیادہ مقدار میں سیچوریٹڈ فیٹ والا تیل استعمال کرنے سے کولیسٹرول پیدا ہوتا ہے جس سے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ زیادہ مقدار کا مطلب 20 گرام تیل یومیہ سے زیادہ استعمال خواتین کے لیے اور 30 گرام یومیہ سے زیادہ استعمال مردوں کے لیے ہے۔

چربی کے تمام مالیکیولز فیٹی ایسڈ کی زنجیروں کے سلسلوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو یا تو کسی ایک ربط کی وجہ سے جڑے ہوتے ہیں یا دوہرے ربط کی وجہ سے۔ فیٹی ایسڈز کی تین قسمیں ہوتی ہیں: چھوٹی، درمیانی اور لمبی زنجیریں۔ چھوٹی اور درمیانی قسم کے فیٹی ایسڈز تو خون میں باآسانی شامل ہو جاتے ہیں اور توانائی کے طور پر استعمال ہو جاتے ہیں تاہم لمبی زنجیروں والے فیٹی ایسڈ جگر کی جانب چلے جاتے ہیں جو خون میں کولیسٹرول کی مقدار میں اضافہ کرتے ہیں۔

امریکی ریاست میساچیوسِٹس میں یونیورسٹی آف ٹفٹس کی غذائی سائنس کی پروفیسر ایلِس لیشٹنسٹائین کہتی ہیں کہ ’ناریل کا تیل تین چار برس پہلے تک بہت مقبول تھا، جب اس کے بارے میں دعوے کیے جاتے تھے کہ اس کے (صحت پر) کچھ خاص اثرات ہوتے ہیں۔ تاہم اگر آپ اُن تحقیقاتی رپورٹوں کو دیکھیں جن میں اس کا تیل کی دوسری اقسام کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے تو نتائج اس کو زیادہ سیچوریٹڈ فیٹ کی فہرست میں شامل کریں گے جبکہ ابتدائی دعوؤں کی حمایت میں لیبارٹری کی سطح کی کوئی تحقیق موجود ہی نہیں۔‘

محدود قسم کے ٹیسٹوں، جن میں اس تیل کا دیگر اقسام کے ساتھ موازنہ کیا گیا تھا، سے پتا چلا کہ ناریل کا تیل نقصان دہ کولیسٹرول کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے، جو ایل ڈی ایل (ڈینسیٹی لِپوپروٹین) کہلاتا ہے، اور جس کا امراضِ قلب اور دل کے دورے سے براہِ راست ایک تعلق بنتا ہے لیکن یہ سود مند کولیسٹرول یعنی ایچ ڈی ایل (ہائی ڈینسیٹی لِپوپروٹین) میں اضافہ کرتا ہے جو ایل ڈی ایل کو خون سے پرے بہا دیتا ہے۔

کوئی ایک غذا جس میں سیچوریٹڈ فیٹ زیادہ ہوتے ہیں وہ کیسے ایچ ڈی ایل کولیسٹرول میں اضافہ کرتی ہے، اس بات کی وضاحت اس طرح دی جاتی ہے کہ اس میں نسبتاً زیادہ مقدار میں لارک ایسڈ موجود ہوتا ہے۔ لارک ایسڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خون میں ایل ڈی ایل کی نسبت ایچ ڈی ایل کی مقدار میں زیادہ اضافہ کرتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ کم سیچوریٹڈ فیٹ والا تیل جس میں چربی کی دیگر اقسام کی مقدار زیادہ ہو، اس کا مناسب مقدار میں استعمال صحت کے لیے بہتر ہوتی ہے۔

امریکی ریاست ورجینیا میں جارج میسن یونیورسٹی کی نیوٹریشن سائنسز اور فوڈ سٹڈیز کے شعبے کی پروفیسر ٹیلر والیس دیگر ماہرین کے دعوؤں کے برعکس کہتی ہیں کہ لارک ایسڈ جسم کے لیے صحت مند نہیں ہے۔ اسے درجہ بندی کے لحاظ سے ’سی 12‘ کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس میں کاربن کے 12 ایٹم ہوتے ہیں اور یہ مقدار اسے چربی والے تیزاب کی درمیانی سطح کی حد تک لے جاتا ہے۔

والیس کہتی ہیں کہ ’سی 12 ‘ چربی والے ایسِڈ لمبی زنجیر کی طرح ہوتے ہیں جو انھیں درمیانی زنجیر کی درجہ بندی کے قریب لے جاتے ہیں۔ سی 12 میں 70 فیصد فیٹی ایسڈ کی لمبی زنجیر کی طرح عمل کرتا، جو جگر کی جانب بھیج دییجاتے ہیں۔ فیٹی ایسڈ کی لمبی زنجیر کا مطلب ہے کہ چربی کے جگر میں جمع ہونے کے زیادہ امکانات ہیں، جو صحت کے لیے اسی طرح کے مسائل پیدا کرتے ہیں جو الکوحل کے بغیر والی چربی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

اس کی جگہ ماہرین کہتے ہیں کہ کم سیچوریٹڈ فیٹ والا تیل جس میں چربی کی دیگر اقسام کی مقدار زیادہ ہو، اس کا مناسب مقدار میں استعمال صحت کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ متعدد پولی ان سیچوریٹڈ فیٹ اومیگا 3 اور اومیگا 6 سمیت اور مونو ان سیچوریٹ کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ یہ کولیسٹرول کی مقدار کو کم کرتے ہیں اور ضروری فیٹی ایسڈ اور وٹامنز پیدا کرتے ہیں۔

یہ مختلف قسم کے ویجیٹیبل آئلز میں پائے جاتے ہیں تاہم یہ کتنی مقدار میں ہوتے ہیں اس کا انحصار پودے کی صحت اور کس طریقے سے یہ تیل نکالا گیا ہے اس پر ہوتا ہے۔ لیشٹنسٹائین کہتی ہیں ’ زیادہ تحقیقاتی رپورٹیں یہ کہتی ہیں کہ وہ غذا جن میں کثیر مونو ان سیچوریٹ اور متعدد پولی ان سیچوریٹ زیادہ مقدار میں ہوتی ہے ان سے امراضِ قلب کے پیدا ہونے کے کم امکانات ہوتے ہیں۔ تجویز یہ کیا جاتا ہے کہ ہم ناسیر شدہ چربی کی جگہ متعدد پولی ان سیچوریٹڈ کا استعمال کریں، نباتات اور گری دار میووں اور بیجوں سے نکالا گیا تیل۔‘

مثال کے طور پر سیچوریٹڈ تیل کی جگہ زیتون کا تیل استعمال کرنے کے بارے میں ایک تحقیقی رپورٹ بتاتی ہے کہ اس کا امراضِ قلب کم ہونے کے امکانات سے تعلق بنتا ہے۔ مکھن، مارجیرین، مایونیز یا جانوروں کی چربی کی جگہ زیتون کے تیل کے استعمال سے پانچ سے سات فیصد تک خطرات کم ہوتے ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ٹی ایچ چان سکول آف پبلک ہیلتھ کے نیوٹریشن ڈپارٹمنٹ سے وابستہ ریسرچر اور منصنف مارٹا گوش فیر نے صحت اور غذا کے تعلق کا گذشتہ 24 برسوں میں ایک لاکھ افراد کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا اور انھیں پتہ چلا کہ کسی بھی قسم کے زیتون کے تیل کی زیادہ مقدار استعمال کرنے والوں میں 15 فیصد تک امراضِ قلب کے کم خطرات تھے۔ زیتون کا تیل جو زیتون کے گودے کو الگ کر کے نکالا جاتا ہے، اب تمام نباتاتی ذرائع سے نکالے جانے تیلوں کی اقسام میں سب سے زیادہ صحت مند تیل کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔

زیتون کے تیل کے فائدوں کو مونو ان سیچوریٹڈ آئل سے جوڑا جا سکتا ہے جس میں معدنیات اور وٹامنز موجود ہوتے ہیں اور پودوں سے حاصل کیے گئے بہت سے غذائی اجزا ہوتے ہیں۔ گوش فیر کہتی ہے ’یہ صرف زیتون کے تیل کا خوراک میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ زیتون کا تیل دیگر غیر صحت مند عناصر کا متبادل بن رہا ہوتا ہے۔‘

زیتون کا تیل جو زیتون کو کچل کر اور اس کے گودے کو الگ کر کے نکالا جاتا ہے، اب تمام نباتاتی ذرائع سے نکالے جانے تیلوں کی اقسام میں سب سے زیادہ صحت مند تیل کی حیثیت سے پہچانا جا رہا ہے۔ ایک تحقیق کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ زیتون کے تیل کے اثرات سے آنتوں کے جراثیم اور امراضِ قلب میں فائدہ پہنچا اور یہ کہ خالص زیتون کا تیل کینسر اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

سپین میں یونیورسٹی آف ویلینشیا میں پبلک ہیلتھ کی پروفیسر فرانسسکو باربرا کہتی ہیں ’مونو ان سیچوریٹڈ اور زیتون کے تیل میں پائے جانے والے دیگر مرکبات غیر متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مددگار ہوتے ہیں، کسی خاص نظام کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ ہمارے جسم کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

زیتون کا تیل بحیرہِ روم کی بنیادی خوراک کا دوسرا نام ہے جس میں پھل کثرت سے موجود ہوتے ہیں، سبزیاں اور لوبیہ، لبریز چربی بہت کم ہوتی ہے اور ان سے امراضِ قلب کا بہت کم تعلق ہوتا ہے باوجود اس کے اس میں چربی کے اجزا بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ گوش فیر کہتی ہیں کہ بحیرہ روم کے خطے کی خوراک کو دوسرے خطوں کی خوراک سے جو شے مختلف بناتی ہے وہ زیتون کا تیل ہے۔ باقی دیگر اجزا میوے، بیج اور سبزیاں مختلف غذاؤں کا حصہ ہوتے ہیں جن میں نباتات سے حاصل ہونے والی غذا بھی شامل ہے۔

چند تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خالص زیتون کے تیل کا صحت کے کئی فائدوں سے تعلق بنتا ہے۔ تاہم کچھ اور تحقیقات بتاتی ہیں کہ ان فائدوں کا زیتون کے تیل کے علاوہ غذا کے کچھ دیگر اجزا سے بھی تعلق بنتا ہے۔ ایک ثبوت کے تجزیے سے پتہ چلا کہ زیتون کے تیل کا بحیرہ روم کے خطے کی خوارک سے ہٹ کر جو تنہا فائدہ تھا وہ اس کی کولیسٹرول میں ایچ ڈی ایل کی مقدار میں اضافے کی صلاحیت تھی۔

محققین نے تیس افراد کی خوراک کا تجزیہ کیا جن کی خوراک کو تبدیل کیا جاتا رہا تاکہ زیتون کے تیل کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ مغربی ممالک کی عمومی غذا کی نسبت بحرہ روم کے خطے کی عمومی غذا سے خون میں گلوکوز کی مقدار کم بنی اور ایل ڈی ایل کی مقدار بھی کم بنی۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ زیتون کے تیل والی غذا، جس میں پولیفنینول کے اجزا زیادہ تھے، اس سے ایچ ڈی ایل کی مقدار میں مزید اضافہ ہوا تاہم بحیرہِ روم کے خطے کی غذا کے انداز کی پیروی کرتے ہوئے زیتون کے تیل کے استعمال کا گلوکوز کی مقدار کے بہتر ہونے سے تعلق بنتا تھا اور اگر یہ ایک حد سے زیادہ نہ بڑھ جائے تو اس کا ٹائپ ٹو ذیابیطس کے پیحیدہ ہونے کے خطرے سے بھی تعلق بنتا ہے اس سے ایل ڈی ایل کولیسٹرول اور ٹرائیگلیسیرائیڈ کی مقدار میں بھی کمی ہوتی ہے، جو خون میں چربی کی ایک قسم ہے۔

ان تحقیقات میں مختلف اقسام کی زیتون کے تیل کا مطالعہ کیا گیا لیکن چند تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خالص زیتون کے تیل (ایکسٹرا ورجن آلیو آئل) کا صحت کے کئی فائدوں سے تعلق جڑتا ہے جن میں امراضِ قلب کے خطرے کا کم ہونا بھی ہے۔

زیتون کے خالص تیل میں اینٹی آکسیڈنٹ اور وٹامنز کی کافی زیادہ صلاحیت اور مقدار ہوتی ہے اور محققین کہتے ہیں کہ یہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو محفوظ بنانے میں دیگر اقسام کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔ زیتون کے تیل کی دیگر اقسام تیل نکالنے کے بعد پراسس کی جاتی ہیں، جس سے ان کے کچھ غذائی اجزا ضائع ہوتے ہیں۔ تاہم زیتون کی خالص قسم سے کم درجہ حرارت پر دھواں نکلنے لگتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ کم درجہ حرارت پر جلنا شروع کر دیتا ہے اور حالیہ برسوں میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس سے مضرِ صحت مرکبات خارج ہوتے ہیں اور اسے گرم کرنے کے عمل کے دوران بھی اس کے چند فائدے ضائع ہو جاتے ہیں۔

باربرا کہتی ہیں ’زیتون کا خالص تیل اس وقت زیادہ فائدہ مند ہے جب اُسے پکایا نہ جائے لیکن پکانے کے باوجود بھی اس میں مونو ان سیچوریٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔‘ ایلِس لیشٹنسٹائین کے بقول ’مقصد یہ نہیں کہ تیل کی مقدار میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا جائے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہے، زیادہ استعمال سے تو بہت زیادہ کیلوریز پیدا ہوں گی۔‘

حالیہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ زیتون کا خالص تیل کوکنگ میں استعمال کرنے کے لیے محفوظ ہے۔ محققین نے 120 سیلسیس درجہ حرارت تک برتن پر کافی طویل وقت تک تیل کو پکانے کے کئی سارے تجربات کیے۔ انھیں معلوم ہوا کہ درجہ حرارت کے، نا کہ وقت کے، تیل میں پولیفینول اجزا پر کچھ اثرات ہوتے ہیں۔

سنہ 2011 میں یورپین فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ زیتون کا تیل بنانے والے کہہ سکتے ہیں کہ یہ تکسیدی دباؤ کو کم کرتا ہے، جس میں آزاد ریڈیکلز اور انیٹی آکسیڈنٹس کا عدم توازن اور ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو تکسیدی عمل کے نقصانات سے محفوظ رکھتا ہے، جن سے خلیوں کی عمر بڑھتی ہے۔محققین جنھوں نے یہ تجربات کیے، انھوں نے دریافت کیا کہ کوکنگ میں استعمال ہونے والا زیتون کا خالص تیل ابھی بھی صحت کے رہنما اصولوں کے معیار کی حد میں آتا ہے۔

لیشٹنسٹائین کہتی ہیں کہ زیتون کے تیل میں ایسی کوئی منفرد خصوصیت نہیں ہے سوائے اِس کے کہ جو ہر اُس تیل میں ہوتی ہے جس میں مونو ان سیچوریٹ اور پول ان سیچوریٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن جو بات واضح ہے وہ یہ کہ سیچوریٹڈ فیٹ والے تیل کی جگہ اس تیل کے یا ویجیٹیبل کے تیل کی اقسام کے استعمال کا ثابت ہونا، تاہم تیل کی خوراک کی ایک معمول کی حد ہونی چاہیے۔

ایلس لیشٹنسٹائین کہتی ہے ’ ہم جب ایک مرتبہ سیچوریٹڈ فیٹ کی جگہ ان سیچوریٹڈ فیٹ کا توازن قائم کر لیتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی پسند کے تیل کا انتخاب کرنا چاہیے۔‘


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.