Daily Taqat

کینسر کو براہِ راست تباہ کرنیوالے ’نینوذرات‘ تیار

برلن: کیموتھراپی کینسر کے علاج کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ ہے لیکن یہ صحتمند خلیات (سیلز) کو متاثر کرتی ہے اور اس کے کئی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے اب نینوذرات کی نئی قسم تیار کی گئی ہے جو عین کینسر پر حملہ آور ہوکر ان کا قلع قمع کرتی ہے۔

جرمنی میں واقع لڈوِگ مکمیلن یونیورسٹی میں واقع شعبہ کیمیا ڈاکٹرکونسٹاٹائن وان شرڈنگ، ڈاکٹر ہینا اینجیلکا اور تھامس بائن نے ایک بالکل نئے قسم کے نینوذرات بنائے ہیں۔ یہ کیلشئیم اور سائٹریٹ سے بنے ہیں اور جسم کے اندر کئی رکاوٹوں کو عبور کرکے براہِ راست کینسر کے خلیات تک پہنچتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ کیلشیئم فاسفیٹ اور سائٹریٹ میں خلیاتی سگنلنگ کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے کیلشیئم فاسفیٹ اور سائٹریٹ سے بنے نینوذرات کو چکنائی (لائپڈ) کے ایک غلاف میں لپیٹا گیا ہے۔ سرطانی خلیات کے اندر جاکر لائپڈ کا خلاف گھل جاتا ہے اور خلیے کے سائٹوپلازم میں کیلشیئم اور سائٹریٹ کی وسیع مقدار جذب ہوکر پھیل جاتی ہے۔

جب تجربہ گاہ میں افزائش کردہ کینسر کے خلیات پر انہیں ڈالا گیا تو بہت کامیابی سے انہوں نے سرطان والے سیلز کو چن چن کر ختم کردیا لیکن صحتمند خلیات کو ویسے ہی رہنے دیا۔ اس کے بعد انہیں چوہوں پر آزمایا گیا تو بہت امید افزا نتائج برآمد ہوئے۔ نینوذرات نے سرطانی رسولیوں کی جسامت کو 40 سے 70 فیصد تک گھٹادیا۔ دو ماہ کے اندر یہ حیرت انگیز نتائج موصول ہوئے اور اس ضمن میں کوئی مضر اثرات نہیں دیکھے گئے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »