اہم خبرِیں
دیامربھاشا ڈیم کے تعمیر کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم خود موقع ... ملک میں2 ہزار 165 افراد کورونا کی نذر، 67 افراد جاں بحق بنگلہ دیش میں بدترین سیلاب، 10 لاکھ افراد متاثر مندر کی تعمیر پر کسی کو اعتراض نہیں، نورالحق قادری پاکستان نے ہمیشہ ترکی کے خلاف اٹھنے والے اقدام کی مخالفت کی، و... چترال: گلیشیئر پھٹنے سے جھیل میں شگاف، مکانات اور فصلوں کو نقص... کورونا وائرس ویکسین کا تجربہ 27 جولائی سے انسانوں پر ہوگا انوپم کھیر کا خاندان بھی کورونا وائرس کا شکار فیصل واوڈا نے کے الیکٹرک سے متعلق بلاول بھٹو کی رپورٹ کو کرپشن... چین میں طوفانی بارشوں کے باعث بدترین سیلابی صورتحال پیدا گوگل کا بھارت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان ’ارطغرل غازی‘ کی حلیمہ سلطان کو کیو موبائل نے اشتہار کیلئے منت... احسن اقبال کی نیب کو وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی د... ہوٹل کی7 ویں منزل سے گرنے والے شخص کی بالکونی میں دوسرے شخص سے... اسلام آباد ہائیکورٹ نے آن لائن پب جی گیم پر پابندی کےخلاف درخو... افغانستان سے پاکستان چرس کی بڑی کھیپ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام سیاست سے دور جہانگیر ترین ان دنوں کہاں؟ لاہور سمیت پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں بجلی کی آنکھ مچولی جا... حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت، سپریم کورٹ دودھ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ

امریکی اسپتالوں میں ’ڈراؤنا خواب‘ نامی مہلک جراثیم کی بھرمار

محققین کئی برس سے خبردار کرتے آرہے ہیں کہ جراثیم میں اینٹی بایوٹک ادویہ کے خلاف مزاحمت پیدا ہورہی ہے اور ان کا قلع قمع کرنے والی موجودہ ادویہ مستقبل قریب میں بے اثر ہوجائیں گی۔

حال ہی میں امریکی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کے اسپتالوں میں ایسے بیکٹیریا کی بھرمار ہے جن میں بیشتر اینٹی بایوٹکس ادویہ کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔ انہیں شکست دینا قریب قریب ناممکن ہے اسی لیے ان جراثیم کو ’ڈراؤنا خواب‘ کا نام دیا گیا ہے۔

سی ڈی سی کی پرنسپل ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر این شوشیٹ کہتی ہیں کہ جراثیم کی بڑھتی ہوئی مزاحمت پر قابو پانے کے لیے ہم کام کررہے ہیں مگر کچھ جراثیم اس دوڑ میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔

دوران تحقیق سی ڈی سی کی لیبارٹری میں امریکا کے مختلف حصوں سے بھیجے گئے ہر چار میں سے ایک نمونے کے جراثیم میں خصوصی جینز پائے گئے جو انہیں اپنی مزاحمت دوسرے جراثیم میں منتقل کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

ان جراثیم سے متاثرہ ہر 10 میں سے ایک مریض اسپتالوں میں موجود صحت مند افرد جیسے ڈاکٹر، نرس اور تیمارداروں میں ان جراثیم کی منتقلی کا باعث بن رہا تھا۔

محققین کے مطابق’ڈراؤنا خواب‘ نامی جراثیم سنگین امراض میں مبتلا عمر رسیدہ افراد کے لیے خاص طور پر مہلک ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان جراثیم کی وجہ سے سالانہ 23000 امریکی شہری اسپتالوں میں مختلف امراض سے لڑتے ہوئے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.