ٹی بی ویکسین سے کورونا کا علاج ممکن؟

لندن: کورونا وائرس کیخلاف ٹی بی ویکسین کی آزمائش شروع کردی ہے جو 1921 میں تیار کی گئی تھی۔ ان طبّی آزمائشوں کو ’’بریس‘‘ (BRACE) کا نام دیا گیا ہے جو یونیورسٹی آف ایکسیٹر میڈیکل اسکول کے تحت جاری کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اب تک ناول کورونا وائرس کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی ویکسین آئندہ برس ہی بڑے پیمانے پر دستیاب ہوسکے گی۔

اس دوران کورونا وائرس کی شدت کم مرنے اور اس سے ہونے والی اموات پر قابو پانے کےلیے ہر طرح کی تدبیر آزمائی جارہی ہے۔ سو سال پرانی ٹی بی ویکسین کے یہ تجربات بھی اسی نوعیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ٹی بی کی معروف ویکسین جسے ’’بی سی جی ویکسین‘‘ بھی کہا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں کی گئی تحقیق سے نمونیا اور سانس کی دیگر بیماریوں کے خلاف بھی خاصی حد تک مؤثر پائی گئی ہے۔

اس کے استعمال سے افریقی ملک گنی بساؤ کے بچوں میں نمونیا اور سیپسس سے ہونے والی اموات میں 38 فیصد کمی ہوئی، جنوبی افریقہ میں یہ تنفسی تعدیوں (respiratory infections) میں 73 فیصد کمی کی وجہ قرار پائی جبکہ ہالینڈ میں بھی اسے زرد بخار (یلو فیور) کے خلاف مفید پایا گیا۔

کووِڈ 19 بھی چونکہ سانس (تنفس) ہی کی ایک بیماری ہے، اس لیے امید کی جارہی ہے کہ بی سی جی ویکسین کے استعمال سے کورونا وائرس کے مریضوں کو بھی افاقہ ہوگا۔ یہ تجویز معروف طبّی جریدے ’’دی لینسٹ‘‘ کے 19 مئی 2020 کے شمارے میں ماہرین کے پینل نے پیش کی تھی جسے گزشتہ ہفتے سے عملی جامہ پہنانے کا آغاز ہوچکا ہے۔ ’’بریس‘‘ کےلیے یونیورسٹی آف ایکسیٹر کی ویب سائٹ پر رجسٹریشن جاری ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.