اہم خبرِیں
نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان آصف علی زرداری کےخلاف چارج شیٹ جاری سینیٹ کمیٹی نے جسٹس رٹائرڈ جاوید اقبال کو طلب کرلیا نواز شریف نے احتساب عدالت کی کارروائی چیلنج کردی نواز شریف کواس حال میں پہنچانے والی مریم نواز ہے، شیخ رشید پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، سعودی عرب حکومت کا پاکستانی واٹس ایپ بنانے کا منصوبہ اسٹاک ایکسچینج منفی ومثبت خبروں کی لپیٹ میں سائنسدانوں نے ’’سپر مِنی‘‘ پاور بینک تیار کرلیا بیکٹیریا کے نمونے لینے والابرقی کییپسول تیار صبا قمراوربلال سعید کی عبوری ضمانت منظور قومی ٹیم جارحانہ کرکٹ کھیلیں، انضمام الحق پاکستان کرکٹ ٹیم نے تمام ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا بھارت کے یوم آزادی پر دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے پاکستان قوم کوسلام محبت پیش کرتا ہوں، طیب اردگان آرمی چیف اور بل گیٹس میں ٹیلی فونک رابطہ پاکستان میں اقلیتوں کو عزت اوروقار دیا گیا ہے، فیاض الحسن چوہا... جوائنٹ ایکشن کمیٹی اسکول کھلوانے میں ناکام پروفیسر خالد مسعود گوندل کیلئے حکومت کا تمغہ حسن کارکردگی کا ا... یوم آزادی تقریب،184 شخصیات کیلئے پاکستان سول ایوارڈزکا اعلان

کورونا وائرس ویکسین کا تجربہ 27 جولائی سے انسانوں پر ہوگا

نیویارک: امریکہ کی بایوٹیک کمپنی موڈرنا کی تیار کردہ کورونا وائرس کی ویکسین نے پہلی آزمائش میں تمام رضاکاروں میں مدافعتی نظام کو متحرک کردیا جس سے اس کی کامیابی کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ موڈرنا نے اس ویکسین کو نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے تعاون سے تیار کیا ہے۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں منگل کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ویکسین کے معمولی مضر اثرات دیکھنے میں آئے ہیں جن میں تھکن، ٹھنڈ لگنا، سر درد، پٹھوں کا درد اور انجکشن کے مقام پر درد شامل ہیں۔ یہ پہلی امریکی ویکسین ہے جس کی آزمائش کے نتائج سینئر ماہرین کی نگرانی میں شائع ہوئے ہیں۔

اس ویکسین کی تیسری اور وسیع پیمانے کی آزمائش 27 جولائی کو شروع کی جائے گی جس میں تسلی بخش نتائج ملنے کی صورت میں نگراں انتظامیہ فیصلہ کرے گی کہ اسے کب عوام کو فراہم کیا جاسکتا ہے۔ یہ امریکہ میں پہلی ویکسین ہوگی جس کی تیسری آزمائش کی جائے گی۔

موڈرنا نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو کمپنی ہر سال ویکسین کی 50 کروڑ خوراکیں فراہم کرنے کے قابل ہوگی اور 2021 سے یہ تعداد ایک ارب بھی ہوسکتی ہے۔

تحقیق میں شامل ڈاکٹر لیزا جیکسن نے بتایا کہ پہلے مرحلے کی آزمائش کا بنیادی مقصد یہ جاننا تھا کہ ویکسین کس قدر محفوظ ہے اور کیا مدافعتی نظام کو بیدار کرتی ہے۔ قوت مدافعت سے متعلق ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں لیکن ہم نہیں جانتے کہ ویکسین بیماری سے بچا سکے گی یا نہیں۔ اب ہم اس مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں تمام جواب مل جائیں گے۔

کسی بھی دوا یا ویکسین کے پہلے مرحلے کی آزمائش میں مختصر تعداد میں صحت مند رضاکار شریک ہوتے ہیں جس کا مقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک محفوظ ہے۔ دوسرے مرحلے میں اسے مختلف عمر اور صحت کے لوگوں پر آزمایا جاتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں جس میں اس کے موثر ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

موڈرنا کی ویکسین کے پہلے مرحلے میں 18 سے 55 سال کی عمر کے 45 صحت مند رضاکار شریک ہوئے جنھیں 28 دن کے وقفے سے ایم آر این اے 1237 ویکسین کی دو خوراکیں دی گئیں۔ کچھ افراد سیاٹل اور باقی اٹلانٹا میں اس آزمائش میں شامل ہوئے۔ انھیں تین مختلف مقدار میں ویکسین لگائی گئی۔

ڈاکٹر لیزا جیکسن نے کہا کہ تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ وائرس سے بچاؤ کے لیے مدافعتی نظام کا جس طرح کا ردعمل درکار ہے، اس کے لیے ایک بار ویکسین کافی نہیں ہوگی۔ رضاکاروں میں معمولی سے درمیانے درجے کے سائیڈ افکیٹس دیکھنے میں آئے اور وہ لوگ زیادہ متاثر ہوئے جنھیں زیادہ مقدار دی گئی۔

تحقیق کے ڈیٹا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ویکسین نے اینٹی باڈیز ردعمل کو بھی جنم دیا۔ اینڈی باڈیز وہ پروٹین ہوتے ہیں جو جسم وائرس سے لڑنے کے لیے پیدا کرتا ہے۔ ان کا درجہ ویسا ہی تھا جیسا کوویڈ نائنٹین سے صحت یاب افراد میں دیکھا جارہا ہے۔

ماہرین حتمی آزمائش میں امریکہ کے 87 مقامات پر 30 ہزار افراد کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان میں وہ لوگ شامل ہوں گے جو زیادہ خطرے والے علاقوں یا حالات میں رہتے ہیں۔ انھیں 100 مائیکروگرام کی ویکسین کی دو خوراکیں چار ہفتوں کے وقفے سے دی جائیں گی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کی 23 ممکنہ ویکسینز کی آزمائش جاری ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.