اہم خبرِیں

کورونا وائرس دماغ پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟

کیمبرج یونیورسٹی: الج، ہذیانی کیفیت، اضطراب، پریشانی، تھکن، اور اس جیسی ایک طویل فہرست۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کووڈ 19 نظام تنفس کی بیماری ہے تو دوبارہ سوچیے۔۔۔

جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے ہیں، یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس مختلف نوعیت کی دماغی بیماریوں کا موجب ہے۔

ایسے کئی لوگ جو اس بیماری سے متاثر ہوئے انھوں نے معالج سے رابطہ کیا اور بتایا کیا کہ انھیں شدید نوعیت کا مرض نہیں ہوا تھا مگر اس کے باوجود کئی دن گزر جانے کے باوجود انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی یادداشت متاثر ہوئی ہے، وہ ہر وقت تھکن محسوس کرتے ہیں اور توجہ ایک جگہ مرکوز کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

لیکن وہ جو اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ان کے ساتھ ہونے والے واقعات زیادہ باعث پریشانی ہیں۔ برطانیہ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس عرصے میں فالج کے مریضوں کو ایمرجنسی میں لایا نہیں جا رہا تھا۔ لیکن دو ہفتے کے دوران این ایچ این این کے ماہرین نے ایسے چھ مریضوں کا علاج کیا جنھیں کووڈ 19 کا مرض لاحق تھا اور انھیں فالج کے بڑے حملے ہوئے۔

اور ان میں سے کسی میں بھی وہ علامات نہیں تھیں جو فالج کے خطرے کو ظاہر کرتیں جیسے بلند فشار خون یا ذیابطیس۔ اور ہر مریض میں انھوں نے بڑے پیمانے پر خون کے لوتھڑے بنتے ہوئے دیکھے۔ فالج ہونے کی بظاہر ایک وجہ تو یہ تھی کہ وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے جسم کا مدافعتی نظام اتنا رد عمل ظاہر کرتا جس سے جسم اور دماغ میں سوزش ہو جاتی۔

یہ واضح ہے کہ کورونا وائرس دماغ میں بھی مسائل پیدا کرتا ہے جبکہ ہم پہلے صرف سمجھتے تھے کہ یہ پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی اور بھی وجوہات ہوں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ یہ وائرس براہ راست دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے یا نہیں۔’

این ایچ این این میں کام کرانے والے دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر مائیکل زانڈی کہتے ہیں کہ ماضی میں سامنے آنے والی دو بیماریاں، سارس اور میرس دونوں کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئی تھیں اور ہم نے ان بیماریوں کا دماغی امراض سے تعلق دیکھا تھا لیکن ہم نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اس کا موازنہ صرف 1918 میں آنے والے ہسپانوی فلو سے کیا جا سکتا ہے۔

ہمیں اس بات پر یقین کر لینے سے پہلے احتیاط سے کام لینا ہوگا کہ آیا کووڈ 19 اور ہسپانوی فلو میں کوئی مماثلت ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس مرض سے متاثرہ افراد کے دماغ پر اثر ہوتا ہے اور اس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.