بھوک بڑھنے سے 12 ہزار افراد روزانہ ہلاک ہو سکتے ہیں، رپورٹ

واشنگٹن: اگر دنیا میں بھوک و افلاس اور معاشی بدحالی کی موجودہ صورت حال جاری رہتی ہے اور اسے درست کرنے کے لئے کچھ نہ کیا گیا تو آکسفام کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کے آخر تک بھوک سے روزانہ 12 ہزار افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

آکسفام کے عہدے دار ایرک مونوز کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے یہ رپورٹ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تخمینوں کی بنیاد پر تیار کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اگر اس انسانی بحران کو روکنے کے لئے ابھی سے اقدامات نہ کئے گئے تو اس سال کے آخر تک مزید 12 کروڑ سے زیادہ لوگ شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔

آکسفام نے اپنی رپورٹ میں ایسے دس مقامات کی نشاندہی بھی کر دی ہے جہاں بھوک پھیلنے کا شدید خطرہ ہے اور وہاں فوری اقدامات کی ضرورت ہے ان میں یمن، شام اور سوڈان جیسے علاقے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مندرجات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کرونا نے جس طرح معیشتوں کو تباہ کیا ہے اور غربت و افلاس میں جس قدر اضافہ کیا ہے وہ پوری دنیا کے لئے ایک چیلنج ہے۔

اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے ان ملکوں کو جن کی معیشتیں بہتر ہیں اور اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو آگے آنا پڑے گا ورنہ پھر ساری دنیا اس بحران کی لپیٹ میں آ جائے گی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.