موکل جنّ کا وہ واقعہ جس نے حضرت عمر فاروقؓ کو اسلام کے قریب کردیا

حضرت عمر فاروقؓ کے اسلام لانے کا واقعہ تو ہر کسی کو معلوم ہوگا لیکن بعض  سیرت نگاروں کے مطابق یہ واقعہ بھی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اسلام کے قریب لانے کا سبب بناتھا ۔ بخاری شریف میں بیان کیا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کا ایک کاہن حضرت عمرفاروقؓ کے پاس سے گزرا تو آپؓ اس سے سوال کیا کوئی عجیب اور انوکھی بات بتاؤ جس کی خبر تمہیں تمہارے جنیہ نے دی ہو۔ وہ کہنے لگا:میں ایک دن بازار میں جا رہا تھا کہ میری موکل جنیہ گھبرائی ہوئی میرے پاس آئی،
اس نے کہا
الم ترالجن وابلا سھا
ویا سھا من بعد انکا سھا
ولحو قھا بالقلاص واحلاسھا
’’ آپ کو خبر ہے کہ جنات ایک انقلاب کے آنے کے بعد نہایت خوف زدہ اور نا اْمید سے ہو گئے ہیں۔ وہ اپنا رختِ سفر تک باندھ چکے ہیں‘‘سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تائید کرتے ہوئے فرمایا:
یہ سچ کہتا ہے ،ایک دفعہ میں ان کے بتوں کے پاس سویا ہوا تھا۔اچانک ایک شخص آیا اس نے بتوں کے نام پر وہاں ایک بچھڑا ذبح کیا۔(بہیقی اور مجاہد نے بیان کیا ہے کہ یہ نذرقبیلہ ہو غفاء کی تھی) اس کے اندر سے اس قدر زور کی آواز نکلی۔یہ اس قدر بلند چیخ تھی کہ اس سے بلند چیخ میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں سنی،وہ کہنے لگا’’
ہائے ہم مارے گئے۔ ایک صائب الرائے اور فصیح شخص آگیا ہے جو ” لا الہ الا اللہ” کا اعلان کرتا ہے‘‘
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں’’ میں وہاں سے چل دیا، پھر تھوڑے عرصے بعد ہم نے سْنا کہ ایک نبی کا ظہور ہوا ہے جو ” لا الہ الا اللہ” کہتا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.