Daily Taqat

شاہزیب قتل کیس :ملزم شاہ رخ جتوئی پھر جناح اسپتال منتقل

ہر بااثر قیدی کی طرح شاہزیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی جناح اسپتال منتقل ہوگیا ۔شاہ رخ جتوئی جو ضمانت پر رہائی سے پہلے اسپتال میں زیر علاج تھا، لیکن رہا ہوتے ہی بھلا چنگا ہوکر گھر چلاگیا۔سپریم کورٹ کے حکم پر گرفتاری کے بعد سینٹرل جیل کراچی میں مشکل سے 2ہی دن گزارے تھے کہ ایک بار پھر جناح اسپتال کے اسپیشل وارڈ میں منتقل ہوگئے ۔جناح اسپتال میں جواں سال شاہ رخ جتوئی کی کمر کی تکلیف کا علاج 3 روز سے جاری ہے۔ شاہ رخ جتوئی کو 8فروری کی رات حالت تشویشناک ہونے کے بہانے ایمرجنسی میں لایا گیا تھا ۔ اسپتال کے اسی اسپیشل وارڈ میں میگا کرپشن کیس کےملزم سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن بھی داخل ہیں۔ جناح اسپتال کے اسپیشل وارڈ میں میگا کرپشن کیس کے دوسرے ملزم انعام اکبرجبکہ دیگر بااثر قیدیوں میں گلزار علی ، منصور احمد ، پرویز رحمان اور شیخ محمد فیروز بھی زیرعلاج ہیں۔ 20 سالہ نوجوان شاہزیب خان کو دسمبر 2012 میں ڈیفنس کے علاقے میں شاہ رخ جتوئی اور اس کے دوستوں نے معمولی جھگڑے کے بعد گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جون 2013 میں اس مقدمہ قتل کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج علی تالپور کو سزائے موت اور دیگر ملزمان بشمول گھریلو ملازم غلام مرتضٰی لاشاری اور سجاد علی تالپور کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔تاہم بعدازاں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزائیں کالعدم قرار دینے اور کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کیے جانے کے بعد سیشن کورٹ نے تمام ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے شاہ زیب قتل کیس کی اپیل 6 جنوری کو اسلام آباد طلب کر کے 13 جنوری کو اپیل سماعت کے لیے مقرر کی تھی۔بعد ازاں چیف جسٹس پاکستان نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت سراج تالپور، سجاد تالپور اور مرتضیٰ لاشاری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا تھا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »