Daily Taqat

وزیراعظم ہاؤس کی مبینہ آڈیوز لیک، مریم نواز کے داماد کیلیے لندن سے پاور پلانٹ منگوانے کا انکشاف

اسلام آباد: سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر وزیراعظم ہاؤس کی متعدد آڈیو لیک ہوئی ہیں جن میں پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری لندن سے لیے جانے، مریم نواز کے داماد کے لیے بھارت سے پاور پلانٹ منگوانے جیسے انکشافات ہوئے ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس کی کئی آڈیو لیک ہوئی ہیں جن میں مختلف انکشافات کیے گئے ہیں، ایک آڈیو وزیراعظم اور کسی اعلیٰ آفیسر کی ہے، دوسری آڈیو وزیر اعظم ، رانا ثناء اللہ ، ایاز صادق اور کسی اعلی آفیسر کی ہے جب کہ تیسری آڈیو مریم نواز کی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی جانب سے ٹویٹر پر شیئر کرائی گئی ایک آڈیو میں مبینہ طور پر وزیر اعظم شہباز شریف کو اعلی آفیسر بتا رہے ہیں کہ ‏مریم صفدر نے بھارت سے اپنے داماد کے لیے پاور پلانٹ منگوانے کے لیے سفارش کی، آدھا پاور پلانٹ انڈیا سے آگیا ہے اور آدھا باقی ہے۔

اعلیٰ آفیسر نے بتایا کہ یہ اہم معاملہ ہے، وزیر اعظم کے رشتہ دار ہونے کے ناطے شور پڑ جائے گا، یہ بات پہلے ای سی سی اور بعدازاں وفاقی کابینہ میں جائے گی تو معاملہ گلے پڑ جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ترکی سے واپسی پر مریم سے خود بات کروں گا۔ اعلیٰ آفیسر نے تجویز دی کہ یہ معاملہ اسحاق ڈار پر چھوڑ دیں وہ کرلیں گے، پہلے بھی ایک گاڑی انہوں نے اس طرح کی تھی۔

اعلیٰ آفیسر نے کہا کہ مریم صاحبہ نے دوسرا کام اتحاد ٹاؤن کے لیے گرڈ اسٹیشن کا کہا ہے، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ یہ کام روٹین میں ہوجائے گا سب کرتے ہیں۔

 

اسی طرح دوسری آڈیو لیک ہوئی جو کہ وفاقی کابینہ کی لگتی ہے جس میں تحریک ارکان کے ‏مستعفی ارکان سے متعلق حتمی منظوری لندن سے لیے جانے پر مشاورت کی گئی۔ وائرل آڈیو میں اعظم تارڑ، رانا ثناء اللہ، ایاز صادق، خواجہ آصف اور وزیراعظم کے درمیان گفتگو ہوئی ہے۔

اس آڈیو میں ن لیگ کے لیڈرز پی ٹی آئی کے بعض استعفوں کو قبول کرنے پر حکمت عملی ڈسکس کر رہے ہیں۔ اسی طرح تیسری آڈیو بھی سامنے آئی ہے جو کہ مبینہ طور پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ میں اس شخص کی بہت احسان مند ہوں جو میری مرضی کی خبر لگواتا ہے اور بند بھی کرواتا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »