سائنسدانوں نے قیامت کی گھڑی نصب کر دی۔اہم معلومات

عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ 1950 کے عشرے میں پہلے ہائیڈروجن بم کے تجربے کے بعد پہلی مرتبہ دنیا ایٹمی تباہی کے بہت قریب پہنچ چکی ہے، جوہری سائنسدانوں کی جانب سے جاری ہونے والے بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے قیامت کا وقت بتانے والی (علامتی ) گھڑی نصف شب سے دو منٹ قبل پر سیٹ کردی ہے۔ ان سائنسدانوں کے مطابق یہ اقدام شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے میزائل و جوہری ہتھیاروں کے تجربات اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے میں دنیا کی ناکامی کے باعث کیا گیا ہے۔ شکاگو سے یہ سائنسی بلیٹن جاری کرنے والے ادارے کے سربراہ سینئر سائنسدان راچل برونسن نے کہا کہ 2017 کے دوران جوہری مسئلے پر فریقوں کے درمیان تلخ کلامی اور کشیدگی میں بے اندازہ اضافہ ہوگیا تھا، یہ سب کچھ ایسے وقت ہوا جب صورتحال پہلے ہی انتہائی خطرناک ہوچکی تھی۔ یہ نتیجہ بھی اخذ کیا گیا کہ ماحولیات سمیت دنیا کو درپیش دیگر چیلنجوں کے بارے میں حقائق کی بنیاد پر جائزوں میں کمی کے باعث عوام سے متعلق اچھی پالیسیاں وضع کرنے کا عمل بہت متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال بھی قیامت کا وقت بتانے والی اس گھڑی کی سیٹنگ کو جو نصف شب سے 3 منٹ قبل پر تھی تبدیل کرکے نصف شب سے اڑھائی منٹ قبل پر سیٹ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 1998 کے دوران بھارت کے جواب میں پاکستان کے جوہری تجربے کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کے بعد اس گھڑی کا وقت صرف ایک عدد (Single Digit) تھا۔ اس بلیٹن کے سائنس اینڈ سکیورٹی بورڈ نے جوہری طاقت رکھنے والے تمام ممالک کی جانب سے اپنے اپنے ایٹمی اسلحے میں اضافے کیلئے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر بھی کیا ہے۔ بلیٹن میں بین الاقوامی تعلقات کی ماہر اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی پروفسر شیرون سکواسونی کے خیالات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی عوامل کی وجہ سے دنیا کی جوہری تباہی کے خطرات بڑھ گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان اسباب میں ایٹمی اسلحے پر کنٹرول سے متعلق امریکا اور روس کے مابین اعلیٰ سطح پر مذاکرات کا نہ ہونا، کریمیا میں روس کی سرگرمیاں اور امریکا کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد اور تباہی پھیلانے کی استعداد میں اضافے کیلئے کوششیں بھی شامل ہیں۔ پروفسر شیرون سکواسونی نے کہا کہ امریکا اور روس کے تعلقات اس قدر کشیدہ ہوچکے ہیں کہ اب کسی بھی شعبے میں ان کے مابین مفاہمت اور کوئی بہتری خارج از امکان دکھائی یتی ہے۔ اس بلیٹن میں شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر اورآسٹروفزسٹ رابرٹ روسنر کی رائے بھی شائع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں امریکی صدر ٹرمپ شدید کوتاہی کے مرتکب ہوئے ہیں، وہ ایک ایسی خارجہ پالیسی وضع کرنے میں ناکام رہے جس کی بنیاد جوہری طاقت نہ ہو، اسی طرح صدر ٹرمپ دنیا کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے کہ وہ دیگر ممالک کے ساتھ خیرسگالی پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ

ٹرمپ انتظامیہ میں ماہر سفارتکاروں کی شدید کمی ہے۔ اس کا اظہار اس وقت ہوا جب اکتوبر 2017 میں صدر ٹرمپ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کریں گے کہ ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کی پابندی کررہا ہے۔ واضح رہے کہ اس معاہدے میں ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری اسلحہ بنانے کی کوششیں ترک کردے گا اس بلیٹن میں سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ جوہری خطرے کے علاوہ ماحولیاتی صورتحال میں تبدیلی بھی ایسا عنصر ہے جس کی وجہ سے دنیا کی تباہی کا خدشہ بہت بڑھ گیا ہے۔ بلیٹن کے مطابق دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہر، امریکا اور کینیڈا کے جنگلات میں آگ بھڑکنا اور مختلف ممالک میں طوفان باد و باراں ،گرین ہائوس گیسز کے اخراج میں اضافہ اورArctic Ice Cover میں کمی ان عوامل میں شامل ہیں جن کی وجہ سے دنیا تباہی کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔ سینئر سائنسدان راچل برونسن نے کہا کہ 1953 میں امریکا اور روس دونوں نے تھرمو نیوکلیئر بم کے دھماکے کیے تھے تو نہ صرف یہ کہ دونوں کے تعلقات بدترین کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے بلکہ عالمی صورتحال بھی بے حد خطرناک ہوگئی تھی، لیکن راچل برونسن نے کہا کہ یہ موازنہ بہت مشکل ہے کہ دنیا اور اس کے امن کیلئے کیا حالات اسی قدر خراب اور دھماکا خیز ہیں جیسے 1953 میں ہوگئے تھے ، انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ 1950 کی دہائی کی نسبت اس وقت دنیا میں جوہری طاقت رکھنے والے ممالک کی تعداد واضح طور پر زیادہ ہوگئی ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم ( سائنسدانوں) نے بہت واضح طور پربتادیا ہے کہ تمام حقائق کا گہری نظر سے جائزہ لینے کے بعد ہماری دانست میں ماضی کے دور کی نسبت دنیا کی تباہی کے خطرات میں بہت اضافہ ہوچکا ہے۔ ہم نے خطرے کی صورتحال کی نشاندہی کیلئے جو گھڑی بنائی ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں اس پر سنجیدگی سے توجہ دیں، یہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام بھی اس پر غور کریں،اریزونا یونیورسٹی کے پروفیسر لارنس کرائوس نے کہا کہ دنیا کی تباہی کے خطرے کی نشاندہی کرنے والی گھڑی کا مقصدبھی یہی ہے کہ عالمی رہنما خطرے کی سنگینی کا احساس کریں اور ایسے تمام اقدامات کریں جو دنیا کو بچانے میں مددگار ہوسکتے ہیں، سٹاک ہوم انوائرمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر سیوان کارتھا نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کے اشتعال انگیز بیانات کو نظر انداز کردیتے تو عالمی سطح پر کشیدگی بڑھنے کا عمل کم ہوجاتا، یا اگر دیگر تمام عالمی رہنما دنیا کو لاحق خطرات کا ادراک کرتے ہوئے ان میں کمی کیلئے کوشش کرتے تو شاید صورتحال جیسی اس وقت ہے اس سے بہتر ہوتی، انہوں نے کہاکہ دنیا بھر کے عوام اپنے رہنمائوں اور حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ سائنسدانوں کی باتوں پر توجہ دیں، حقائق کونظر انداز کرنے کے بجائے ان پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کریں، اس کے ساتھ ہی ایسے دانشمندانہ فیصلے کریں جن کی بدولت دنیا مکمل تباہی کے خطرے سے محفوظ ہوجائے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.