سانحہ ماڈل ٹاﺅن انکوائری ،رجسٹرار ہائیکورٹ کی شہباز شریف ،رانا ثناءاللہ کے بیانات کی نقول متاثرین کو فراہم کرنے سے معذرت

پنجاب حکومت کے بعد رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے بھی سانحہ ماڈل ٹاﺅن انکوائری کے دوران جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل ٹربیونل کے روبرو وزیراعلیٰ پنجاب ،صوبائی وزیرقانون اور سرکاری افسروں کے بیانات کی نقول کی متاثرین ماڈل ٹاﺅن کو فراہمی سے معذرت کرلی ہےاس سلسلے میں متاثرین کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ کو رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے جوابی مراسلے بھجوا یا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انکوائری سے منسلک کوئی بھی دستاویز ہائیکورٹ کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی عدالت عالیہ ایسی انکوائریوں سے منسلک دستاویزات کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی پابند ہے،جس کے بعد سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے متاثرہ شہری قیصر اقبال کے وکیل کی طرف سے الزام عائد کیا گیاہے کہ پنجاب حکومت کے اعلیٰ افسران سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ذمہ دار وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور صوبائی وزیرقانون رانا ثناءاللہ کو بچانے کے لئے متحرک ہو گئے ہیں۔ ماڈل ٹاﺅن جوڈیشل انکوائری سے منسلک شہباز شریف، رانا ثناءاللہ سمیت دیگر کے بیان حلفی، آڈیو ,ویڈو ریکارڈ غائب کر دیا گیا۔سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے متاثرہ شہری قیصر اقبال کی طرف سے محکمہ داخلہ پنجاب کو مراسلہ بھی لکھا گیا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری سے منسلک وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر قانون رانا ثناءاللہ سمیت دیگر افسروں اور اہلکاروں کے بیان حلفی اور آڈیو ویڈیو بیانات کا ریکارڈ فراہم کیا جائے لیکن محکمہ داخلہ پنجاب نے مراسلہ جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انکوائری سے منسلک کوئی بھی دستاویزات موجود نہیں ہیں جس کے بعد رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو مراسلہ بھیجا گیا ،رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے بھی جوابی مراسلے میں یہ اعتراف کیا ہے کہ انکوائری سے منسلک کوئی بھی دستاویز ہائیکورٹ کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی عدالت عالیہ ایسی انکوائریوں سے منسلک دستاویزات کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی پابند ہے۔مراسلے میں محکمہ داخلہ پنجاب سے کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کی عدم فراہمی پر عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.