اس وقت تک میڈیا آزاد نہیں ہو سکتا جب تک عدلیہ او رپارلیمنٹ آزاد نہیں ہوں گے:صحافی حامد میر

سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت تک میڈیا آزاد نہیں ہو سکتا جب تک عدلیہ او رپارلیمنٹ آزاد نہیں ہوں گے، صحافیوں پر حملے مسلسل ہو رہے ہیں مگر کوئی بھی اس جانب توجہ نہیں دے رہا، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی صحافیوں کی گمشدگی پر اپنی بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں میں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ایک نجی محفل میں آف دی ریکارڈ پوچھا کہ دیکھیں مطیع اللہ جان کے ساتھ کیا ہوا ؟ احمد نورانی کو کس طرح نشانہ بنایا گیا؟ آپ اس کی تحقیقات کیوں نہیں کر وا رہے ؟ اس کے جواب میں وزیر اعظم نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ یہ کیا بات ہوئی ، بلوچستان میں ہماری ساری اسمبلی کو اٹھا لیا گیا اور آپ صحافیوں کو اٹھانے کے بارے میں سوال کر رہے ہیں۔حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ اب آپ خود ہی دیکھ لیں کہ ایک منتخب وزیر اعظم نے اس معاملے پر اپنی بے بسی کا اظہار کردیا ہے ، جب پارلیمنٹ آزاد نہیں ہوگی تو میڈیا کیسے آزاد ہو سکتا ہے۔
سینئر صحافی کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو عدلیہ خود نوٹس لے لیتی ہے مگر صحافیوں پر ہونے والے حملوں کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں کی جاتی۔صحافیوں کے ساتھ نہ تو پولیس تعاون کرتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ اور عدلیہ اس حوالے سے کوئی اقدام اٹھاتی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.