پولیس مقابلے میں ہلاک نقیب محسودسے متعلق سوشل میڈیا پر خبریں بے بنیاد ہیں،راﺅ انوار

ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار نے کہا ہے کہ کراچی میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے نقیب سے متعلق سوشل میڈیا پر خبریں بے بنیاد ہیں،ان کا کہناتھا کہ نقیب محسودکالعدم تحریک طالبان ساو¿تھ وزیرستان کاسابق کمانڈرتھا اور اس حوالے سے پولیس کے پاس ثبوت موجود ہیں۔
راﺅ انوار نے کہا کہ نقیب محسود فورسز پرحملوں اورٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث تھااورحب بلوچستان میں ٹی ٹی پی نیٹ ورک چلارہاتھااس کے علاوہ ملزم نے نسیم اللہ کے نام سے جعلی شناختی کارڈبنارکھاتھا،ان کا کہناتھا کہ سوشل میڈیاپرمہم ملک دشمن تنظیموں نے چلائی۔جبکہ مقتول کے رشتہ دار مقبول محسود کا کہناتھا کہ نقیب محسود محب وطن تھا اور کراچی میں محنت مزدوری کرتاتھا ، مقبول کا کہناتھا کہ نقیب شادی شدہ اوراس کے 3 بچے تھے جن میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل تھااور وہ اپنے بیٹے کو فوجی بنانا چاہتا تھا،اس کے فیس بک اکاﺅنٹ پربیٹے کو فوجی بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، اس نے کہا کہ نقیب اللہ محسوس کوپولیس نے 3 جنوری کوگرفتارکیا،نقیب کوسہراب گوٹھ کے ملک شیرآغاہوٹل سے اٹھایاگیااور پولیس نے مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے سوشل میڈیا پر خبروںکا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.