Latest news

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج ہوگا یا نہیں؟ کابینہ کمیٹی کی سفارشات مکمل

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے یا نہ نکالنے سے متعلق کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے سفارشات پر مشاورت مکمل کرلی اور وزیراعظم آفس کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت اورمسلم لیگ ن کےدرمیان نوازشریف کا نام ای سی ایل سےنکالنےپرڈیڈلاک برقرار ہے، وزیرقانون فروغ نسیم کی زیرصدارت ذیلی کمیٹی کا مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں معاون خصوصی شہزاد اکبر، سیکریٹری داخلہ اور عطا تارڑ شریک ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے سفارشات پر مشاورت مکمل کرتے ہوئے سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے اور وزیراعظم آفس کو سفارشات سے آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ وفاقی وزیر فروغ نسیم اور فردوس عاشق اعوان پریس کانفرنس کریں گے۔


 

دوسری جانب ذرائع کے مطابق شہبازشریف کے نمائندے عطااللہ تارڑ ذیلی کمیٹی کے اجلاس سے چلے گئے اور کہا حکومتی کمیٹی کی پریس کانفرنس کے بعد اپنا ردعمل دیں گے، اسلام آباد اورلاہورہائیکورٹ کےفیصلوں کے دستاویزات لیےگھوم رہاہوں ،فیصلہ آنے کے بعد مؤقف ترجمان مسلم لیگ ن ہی دیں گی۔

خیال رہے مسلم لیگ ن کو ذیلی کمیٹی کے صبح کے فیصلے کا انتظار ہیں ، ن لیگ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے حکومت پر دباو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا سیکورٹی بانڈز جمع کر ادیئے تو ن لیگ کو سیاسی طور نقصان ہوگا، ذیلی کمیٹی کے فیصلے کے بعد پارٹی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

گذشتہ روز وزیرقانون فروغ نسیم کی زیرصدارت کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ن لیگ کے نمائندے عطا تارڑ اور ڈاکٹر عدنان نے شرکت کی ، انہوں نے صاف منع کیا کہ نوازشریف ضمانتی بانڈز کسی صورت جمع نہیں کرائیں گے، عطا تارڑکا کہنا تھا کہ عدالت میں پہلے ہی زرضمانت جمع کراچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق شریف فیملی کا کہنا تھا ضمانتی مچلکوں کےعلاوہ اضافی دستاویزنہیں دی جائیں گی جبکہ نوازشریف نے کہا کہ پاکستان میں علاج کرانے کو تیار ہوں، بانڈز دے کر باہر جانا گوارا نہیں۔

دوسری جانب وزیرقانون فروغ نسیم کی زیرصدارت کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے شریف خاندان کے نمائندوں اور نیب کو صبح دس بجے تک کا وقت دیا ہےاور کہا کہ اگر شریف فیملی اپناموقف تبدیل کرتی ہے تو آگاہ کردے جبکہ ن لیگ کے نمائندے عطا تارڑ کو حتمی مؤقف جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کمیٹی کی جانب سے نیب کو کہا گیا کہ اگر وہ نیا جواب جمع کرانا چاہتے ہیں تو دس بجے صبح تک کرادے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط کی منظوری دے دی گئی تھی، ذرائع کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو باہر جانے کے لئے سیکیورٹی بانڈز دینا ہوں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.