Daily Taqat

کیفی اعظمی کے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں

’یہ دنیا یہ محفل‘ ، ’تم اتنا جو مسکرا رہے ہو‘ جیسے خوبصورت گیت لکھنے والے معروف شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے۔

کیفی اعظمی کی شاعری کے اہم اجزا میں جذبات کا بھرپور اظہار، الفاظ کی خوبصورتی اور غیر منصفانہ معاشرے کے خلاف بغاوت کا عنصر شامل تھا۔ان کے لکھے گئے سریلے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔

فلمی دنیا کے مشہور شاعر اور نغمہ نگار اختر حسین رضوی عرف کیفی اعظمی اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے اور پہلی نظم 11 سال کی عمر میں تحریر کی۔

1940 کے اوائل میں کیفی اعظمی بمبئی آ گئے اور صحافت کے شعبے سے منسلک ہوگئے اور یہیں ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’جھنکار‘ شائع ہوا۔ مختلف صلاحیتوں کے مالک کیفی اعظمی نے لاتعداد فلموں کے لئے نغمے لکھے، فلم کاغذ کے پھول میں ان کے گانے ـ’وقت نے کیا کیا حسیں ستم‘ کو بہت سراہا گیا۔

فلم پاکیزہ کا گانا ’چلتے چلتے کہیں کوئی مل گیا تھا‘ ہیر رانجھا کا ’یہ دنیا یہ محفل‘ اور ارتھ کے گیت ’تم اتنا جو مسکرا رہے ہو‘ بے حد مقبول ہوئے۔

ان کی غزلوں اور نظموں کی مقبولیت کی اصل وجہ ان میں جذبات کا بے پناہ اظہار، الفاظ کی خوبصورتی اور غیر منصفانہ معاشرے کے خلاف بغاوت کا عنصر تھا۔اردو شاعری کے فروغ کے لئے انتھک کام کرنے پر انہیں ساہتیا اکیڈمی فیلوشپ انعام سے نوازا گیا۔

کیفی اعظمی معروف بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی کے والد اور شاعر جاوید اختر کے سسر تھے۔ اپنے نغموں سے ناظرین کا دل جیتنے والے عظیم شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی 10 مئی 2002 کو اس دنیا سے رخصت ہو ئے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »