اہم خبرِیں
ملک میں2 ہزار 165 افراد کورونا کی نذر، 67 افراد جاں بحق بنگلہ دیش میں بدترین سیلاب، 10 لاکھ افراد متاثر مندر کی تعمیر پر کسی کو اعتراض نہیں، نورالحق قادری پاکستان نے ہمیشہ ترکی کے خلاف اٹھنے والے اقدام کی مخالفت کی، و... چترال: گلیشیئر پھٹنے سے جھیل میں شگاف، مکانات اور فصلوں کو نقص... کورونا وائرس ویکسین کا تجربہ 27 جولائی سے انسانوں پر ہوگا انوپم کھیر کا خاندان بھی کورونا وائرس کا شکار فیصل واوڈا نے کے الیکٹرک سے متعلق بلاول بھٹو کی رپورٹ کو کرپشن... چین میں طوفانی بارشوں کے باعث بدترین سیلابی صورتحال پیدا گوگل کا بھارت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان ’ارطغرل غازی‘ کی حلیمہ سلطان کو کیو موبائل نے اشتہار کیلئے منت... احسن اقبال کی نیب کو وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی د... ہوٹل کی7 ویں منزل سے گرنے والے شخص کی بالکونی میں دوسرے شخص سے... اسلام آباد ہائیکورٹ نے آن لائن پب جی گیم پر پابندی کےخلاف درخو... افغانستان سے پاکستان چرس کی بڑی کھیپ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام سیاست سے دور جہانگیر ترین ان دنوں کہاں؟ لاہور سمیت پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں بجلی کی آنکھ مچولی جا... حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت، سپریم کورٹ دودھ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ بن قاسم پاور پلانٹ میں تکنیکی خرابی کا دعویٰ ،کے الیکٹرک

!!مہلک کورونا وائرس کے خلاف صدرِ مملکت ، وزیر اعظم اور پاک فوج کا متحدہ جہاد

!!مہلک کورونا وائرس کے خلاف صدرِ مملکت ، وزیر اعظم اور پاک فوج کا متحدہ جہاد

 

محاورتاً نہیں بلکہ عملی سطح پر دیکھا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کی ہلاکت خیزیاں جنگل کی آگ کی مانند دُنیا بھر میں پھیل رہی ہیں ۔ چین کے شہر ”ووہان” سے شروع ہونے والی اس مہلک بیماری کو ”عالمی ادارئہ صحت”(WHO) عالمی وبا قرار دے چکا ہے .  یہ وبا نہائت سرعت سے 153ممالک تک پہنچ چکی ہے ۔مستند اعداد و شمار کے مطابق ، اب تک کورونا کی وبا نے 8ہزار سے زائد افراد کی جانیں لے لی ہیں ۔

 

جو اس متاثر ہو چکے ہیں ، اُن کی تعداد دو لاکھ تک بتائی جارہی ہے ۔ کئی مغربی اور مشرقی ممالک اپنی زمینی ، فضائی اور سمندری سرحدیں بند کر چکے ہیں ۔ کئی ممالک میں کرفیونافذ ہو چکا ہے تاکہ لوگ باہر نہ نکل سکیں ۔یہ اقدامات اسلئے کئے جارہے ہیں کہ یہ وبا انسانوں سے انسانوں تک منتقل نہ ہو سکے ۔

اس وبا کا علاج ابھی تک دریافت نہیں کیا جا سکا ہے لیکن ابھی تک یہی ”علاج” دریافت ہُوا ہے کہ لوگوں کا آپسی میل جول نہائت محدود کر دیا جائے ۔ انہی احتیاطی تدابیر کے پیشِ نظر مکہ شریف اور مدینہ منورہ میں زائرین کی حاضری محدود تر بنا دی گئی ہے ۔ عمرہ فلائٹس بھی بند ہیں ۔ پاکستان میں بھی یہ وبا پھیل رہی ہے ۔

حکومتی اعدادو شمار کے مطابق اب تک تقریباً 500 پاکستانی شہری اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ لیکن مبینہ طور پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب پوچھ رہے ہیں کہ یہ جراثیم کہاں سے کاٹتا ہے؟ سب سے زیادہ مریض سندھ میں سامنے آئے ہیں ۔حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر پاکستان میں تمام تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے ہیں اور امتحانات مئی ، جون تک ملتوی ہو چکے ہیں ۔پی ایس ایل کے باقی میچ موخر کر دئیے گئے ہیں ۔ شادی ہال اور سینیما و تھیٹروں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں ۔ مساجد میں نمازوں کے اوقات کے دورانئے کم کرنے کی استدعا ئیں کی گئی ہیں ۔

حکومت بھی اس بارے علمائے کرام کی تجاویز، مشورے اور فتاویٰ لینے کی کوشش میں ہے ۔ دین کے معاملات میں ہم اپنے علما کی رائے ہی کو ترجیح دیں گے ۔ دُنیا کے ساتھ ساتھ پھیلتے مہلک کورونا وائرس کے آگے بند باندھنے اور اس کے موثر تدارک کیلئے حکومتِ پاکستان کی کوششیں یوں تو ابتدا ہی سے جاری تھیںلیکن رواں ہفتے ان کوششوں میں برق رفتاری سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔کورونا وائرس کا دائرئہ کار پھیلنے سے روکنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان جنگی اور ہنگامی بنیادوں پر کوششیں کرتے نظر رہے ہیں ۔ ہونا بھی ایسا ہی چاہئے تھا ۔ اُن کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا ، جنہیں وزیر مملکت کا عہدہ بھی دے رکھا ہے ، کورونا کے خلاف خاصی بھاگ دوڑ کرتے نظر آ رہے ہیں ۔ غیر ممالک سے پاکستان آنے والوں کی طبی چیکنگ بھی ہو رہی ہے اور اُنہیں کرنطینہ میں رکھنے کی مساعی جمیلہ بھی بروئے کار ہیں ۔

پاکستان بھر میں وہ ہسپتال جو وفاق کے زیر انتظام بروئے کار ہیں ، وہاں ممکنہ حد تک ممکنہ مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے اور اُن کا فوری علاج کرنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں ۔ ملک میں اگرچہ ابھی ہر جگہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے والی کٹیں دستیاب نہیں ہیں لیکن پھر بھی کوشش کی جارہی ہے کہ ہر جگہ یہ کٹیں فوری فراہم کی جائیں ۔ اس وائرس کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی حوصلہ افزا اعلان کیا ہے ۔ انشاء اللہ ہماری فوج بھی قوم کے شانہ بشانہ ہوگی ۔صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی اس جنگ کے خلاف متحرک ہو چکے ہیں ۔

اُنہوں نے اس خاص مقصد کیلئے چین کا تازہ ترین دَورہ بھی کیا ہے ۔کورونا وائرس کے خلاف پورے جنوبی ایشیا میں جس جنگ کا آغاز کیا گیا ہے ، اس کی بازگشت ”سارک” کے پلیٹ فارم تک بھی پہنچی ہے؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان ”سارک” کے تحت کورونا کے خلاف اُٹھائے گئے اقدامات میں بھی پورا پورا تعاون کررہے ہیں ۔ چند دن پہلے جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ”سارک” کے پلیٹ فارم سے کورونا کے خلاف متحدہ جنگ کرنے اور اس عفریت بارے اجتماعی سوچ بچار کرنے کی تجویز دی تو وزیر اعظم پاکستان نے بھی فوری طور پر اس میں شرکت کرنے کی ہامی بھر لی ۔

اس فورم میں وزیر اعظم خود تو شریک نہیں ہُوئے لیکن اُنہوں نے اپنے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کو ضرور بھیجا ۔ ظفر مرزا کا ”سارک” ممالک کے اس فورم میں کورونا کے خلاف ویڈیو خطاب بھی موثر تھااور تجاویز بھی شاندار ۔ ہم نے یہ بات بھی ملاحظہ کی ہے کہ ”سارک” کے مذکورہ اجلاس میں ظفر مرزا نے ہاتھ لگتے اور موقع پاتے ہی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے مسائل اور مصائب کا ذکر بھی کیا ۔ اس سے مودی جی کو ممکن ہے تکلیف بھی پہنچی ہو لیکن پاکستان نے ”سارک” کانفرنس میں کشمیریوں کے مصائب کا ذکر کرکے اپنا سفارتی ، دینی اور اخلاقی فریضہ ادا کر دیا ۔

اس سے یہ بھی معلوم ہُوا کہ وزیر اعظم عمران خان کشمیریوں اور مسئلہ کشمیر سے کسقدر وابستگی رکھتے ہیں ۔کورونا کے خلاف جہادکرتے ہُوئے عمران خان صاحب کو یہ خیال بھی مسلسل ستا رہا ہے کہ وطنِ عزیز کی تو پہلے ہی مالی حالت خاصی پتلی ہے ، کورونا کے بڑھتے اخراجات کیسے پورے کئے جائیں گے ؟ جبکہ کورونا کے باعث عالمی معیشت کے ساتھ پاکستانی معیشت بھی بیٹھ رہی ہے ۔پاکستان کا اسٹاک ایکسچینج زوال اور گراوٹ کا شکار بن چکا ہے ۔ اگر یہی حالات رہے تو ہماری مالی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے ۔

اِسی خیال کے پیشِ نظر عمران خان نے عالمی مالیاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ پاکستان کے قرضے ختم کرنے کیلئے ہمدردانہ اقدام کیا جائے ۔وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو تباہ کرسکتا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ عالمی امیر معیشتیں دنیا کے غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے کی تیاری کریں۔وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیتے ہُوئے یہ بھی کہا ہے کہ کورونا وائرس سے لڑتے پاکستان جیسے غریب ممالک جو بہت کمزور ہیں ،ان کے لیے کچھ قرضے معاف کرنے پر غور کیا جائے۔ 18مارچ کو معروف امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو اسلام آباد میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا: ”مجھے غربت اور بھوک پر تشویش ہے، قرضوں کی کمی سے کم از کم ہمیں کورونا وائرس پر قابو پانے میں مدد ملے گی”۔اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں پریشانی ہے کہ اگر پاکستان میں وائرس کا پھیلاؤ شدید ہوگیا تو گرتی ہوئی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے جو کوششیں ان کی حکومت نے کی ہیں، وہ واپس ہونا شروع ہوجائیں گی۔

وزیر اعظم نے کورونا کی قیامت کے کارن خدشات کا اظہار کرتے ہُوئے اِسی ضمن میں مزید کہا :” برآمدات کم ہوجائیں گی، بے روزگاری میں اضافہ ہوگا اور ملکی قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہوجائے گا۔یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ میرے خیال میں بھارت، برصغیر اور افریقی ممالک کے لیے بھی ایسی ہی صورتحال ہوگی”۔وائرس کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا :’ ‘اگر یہ مزید پھیلا تو ہمیں صحت کی سہولیات کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہوگا، ہمارے پاس اتنی صلاحیت ہی نہیں، نہ ہی ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں”۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے مذکورہ انٹرویو میں مشرق وسطیٰ میں کورونا وبا کے مرکز ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔وزیر اعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ یہ وقت ہے کہ ایران پر سے امریکی پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ خیال رہے کہ ایران ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال بدترین ہے۔ وہاں اب تک 1200سے زائد ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں۔مذکورہ انٹرویو میں ایران کا ہمدردانہ ذکر کرکے عمران خان نے ایک شاندارمثال قائم کی ہے ۔ ایران کا ذکر کرکے اُنہوں نے ثابت کیا ہے کہ ملتِ اسلامیہ کیلئے اُن کا دل یکساں طور پر دھڑکتا ہے ۔

اس میں اسلامی اخوت نظر آتی ہے ۔ کورونا وائرس کا خوف اتنا پھیل چکا ہے کہ دُنیا کا تقریباً ہر حکمران میڈیا پر آ کر قوم سے خطاب کررہا ہے تاکہ قوم کو حوصلہ بھی رہے اور مقابلے کی گائیڈ لائن بھی ملے ۔ ہمارے وزیر اعظم جناب عمران خان نے بھی اِسی غرض سے17مارچ کی شام قوم سے خطاب کرکے قوم کو ہمت باندھنے ، صبر سے کام لینے اور احتیاط برتنے کی تلقین بھی کی اور وائرس کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات سے قوم کو باخبر بھی کیا ۔ وزیر اعظم کا خطاب نہائت بروقت اور حوصلہ افزا تھا۔اُنہوں نے کہا:” کورونا وائرس کی خاصیت تیزی سے پھیلنا ہے لیکن اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ بحیثیت قوم اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔سب سے پہلے ہم نے 15 جنوری کو فیصلہ کیا کہ کورونا وائرس پر ایکشن کرنے لگے ہیں ۔ قوم کو مطمئن ہونا چاہیے کہ کورونا کے 97 فیصد کیسز ٹھیک ہوجاتے ہیں، ان میں سے 90 فیصد ایسے کیسز ہیں جن میں معمولی یعنی کھانسی اور زکام ہوا اور ٹھیک ہوگئے اور صرف 4 یا 5 فیصد کو ہسپتال جانا پڑتا ہے۔جیسے ہی ہمیں کورونا کا پتہ چلا تو چین سے ہماری مسلسل بات ہونے لگی۔چین نے بہادری اور ہمت سے اس وبا کا مقابلہ کیا ہے اور ہم اس سے اسی حوالے سے بہت کچھ سیکھ بھی رہے ہیں ۔

ہمارے صدر صاحب عارف علوی نے اِسی لئے چین کا دو روزہ دَورہ بھی کیا ہے ۔ ایران سے واپس پاکستان آنے والے زائرین کا ہم ہر لحاظ سے طبی خیال رکھ رہے ہیں ۔ایران سے متصل تفتان کی سرحد ویران ہے، اس لیے میں خاص طور پر بلوچستان کی حکومت اور پاکستان فوج کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے کورونا کے خطرے کے پس منظر میں شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ ” وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا:”اب تک ہم 9 لاکھ لوگوں کی ایئرپورٹ پر اسکریننگ کر چکے ہیں۔پاکستان میں پہلا کیس 26 فروری کو آیاتھا۔پچھلے ہفتے جب پاکستان میں 20 کیس سامنے آئے تو ہم نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلایا۔ اس اجلاس میںہمارے شہروں کو بھی بند کرنے کی ایک تجویز آئی تھی لیکن میں آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے حالات وہ نہیں ہیں جو امریکا اور یورپ میں ہیں۔ ہمارے ملک میں غربت ہے اور 25 فیصد لوگ شدید غربت میں ہیں۔ تب ہم نے سوچا کہ اگر شہروں کو بند کر دیتے ہیں تو یہاں لوگوں کے حالات پہلے سے بھی برے ہو جائیں گے۔

ایسے میںہم ایک طرف سے اپنے عوام کو کورونا وائرس سے بچائیں گے تو دوسری طرف شہروں کا لاک ڈاؤن کرنے سے لوگ بھوک سے مرجائیں گے ۔ ہمارے غریب لوگوں کا کیا بنے گا؟ لہٰذا ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا تھا ۔ہم نے فیصلہ کیا کہ جہاں بھی عوام جمع ہوسکتے ہیں، کرکٹ میچ، اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں چھٹیاں دی اور ان کو بند کردیا۔ ہمارا این ڈی ایم بھی پوری طرح حرکت میں ہے کہ اس کا کام ہی خطرات سے نمٹنا ہے ۔این ڈی ایم اے کو ہم نے پیسے دیے ہیں اور ان کی ڈیوٹی لگائی کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے وہ دنیا سے جو بھی چیزیں ضرورت کی ہیں، فوری خریدے ۔

ماسک پاکستان میں کافی ہیں اور وینٹی لیٹرز مزید منگوانے کے آرڈرز دے دئیے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے طبی ماہرین کی ایک کور کمیٹی بھی کام کررہی ہے۔ یہ ڈاکٹروں کی کمیٹی انفیکشنز ڈیزیز کی ماہر ہے ۔ یہ کمیٹی مسلسل تجاویز دے رہی ہے ۔”وزیراعظم عمران خان نے قوم سے مخاطب ہوتے ہُوئے کہا:”آپ سب کے لیے کہہ رہا ہوں کہ اس وائرس نے پھیلنا ہے، یہ اپنے ذہن میں ڈال دیں لیکن اس کے مقابلے کیلئے ہم سب نے کوشش پوری کرنی ہے۔کورونا کے ہماری معیشت پر بھی اثرات پڑیں گے ۔سب سے پہلے ہماری برآمدات پر اثر آئے گا جو بڑی مشکل سے بہتر ہوئی تھی ۔دوسرے کاروباروں پر بھی اثر پڑے گا۔ مثلاً شادی ہال وغیرہ بند ہیں ۔

نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے ہم نے ایک کمیٹی بھی بنا دی ہے ۔اس کمیٹی کا یہ مقصد ہوگا کہ ہر روز دیکھے گی کہ کون کون سے شعبے اس کی وجہ سے متاثر ہورہے ہیں اور ہم اس کی مدد کیسے کرسکتے ہیں۔ ہمیں اپنی صنعتوں اور برآمد کنندگان کو ریلیف دینا پڑے گا جس پر ہم نے پوری نظر رکھی ہوئی ہے، خاص طور پر یہ کمیٹی دیکھے گی کہ مہنگائی نہ ہو۔کمیٹی کھانے پینے کی چیزوں پر مہنگائی نہیں ہونے دے گی۔ مجھے خوف اور خدشہ ہے کہ جس طرح پہلے چینی اور آٹے پر ذخیرہ اندوزی کرکے مہنگائی کی گئی ،اسی طرح پھر کوشش کی جائے گی۔ میں آج خاص طور پر ان سب لوگوں کو جو ذخیرہ اندوزی کا سوچ رہے ہیں، ان کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ کے خلاف ہمارا ردعمل بڑا برا ہوگا، پوری ریاست آپ کے خلاف کارروائی کرے گی اور جس جس نے عوام کی تکالیف سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، اس کے خلاف کارروائی کرکے سزا دی جائے گی۔ آپ نے پوری ذمہ داری لینی ہے اور احتیاط کرنی ہے کہ جہاں بڑے اجتماع ہیں ،وہاں نہیں جانا ہے، 40 افراد سے زائد کے اجتماع میں جانے سے گریز کریں، بند کمروں میں جہاں زیادہ لوگ جمع ہوتے ہیں، وہاں بھی وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے، اس لیے اس سے بھی اجتناب کریں۔

ہاتھ نہیں ملانا اور ہاتھوں کو اچھی طرح صابن سے دھونا اور صفائی پر زور دینا ہے۔اگر آپ کو کھانسی یا زکام ہوجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کو کورونا ہوگیا ہے۔ تھوڑی سی چیز پر ٹیسٹ کرانے نہ چلے جائیں۔ہسپتالوں کے وسائل اور جگہ محدود ہے ۔ صرف مستند مریض ہی ہسپتال کا رخ کریں۔گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ قوم کی حیثیت سے ہم اس وبا کا مقابلہ کریں گے اور انشااللہ ہم یہ جنگ جیتیں گے”۔علمائے کرام سے وزیر اعظم نے کہا کہ آپ کی بڑی ذمہ داری ہے ، آپ لوگوں کو اس وبا کے بارے مسلسل آگاہ کریںاور بتائیں کہ ان کو اس مشکل وقت میں کس طرح احتیاط کرنی ہے ۔وزیر اعظم کا یہ خطاب خاصا موثر تھا ۔

اب دیکھنا یہ ہے کورونا وائرس کے خلاف جس جہاد کا اعلان جناب عمران خان نے کیا ہے ، اسے جیتنے کیلئے ہم اجتماعی حیثیت میں کس طرح وزیر اعظم کی تجاویز، مشوروں اور نصیحتوں پر عمل کرتے ہیں۔ قومی حیثیت میں یہ ہمارا بھی امتحان ہے !!


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.