ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے؟ تم ہی کہو!!

اللہ اللہ،کیسے کیسے عجائبات اِس حکومت میں ظہور پذیر ہورہے ہیں !یہ حکومت جو تبدیلی اور شفافیت کے دلفریب نعروں کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آئی تھی اور جس پر پاکستان کے اکثر عوام نے معصومیت اور بھولپن سے یقین بھی کر لیا تھا۔ دو سال گزرے ہیں تو سارے وعدوں کا ملمع اُتر گیا ہے ۔اور صرف وعدوں کی زنجیر باقی رہ گئی ہے جس پر غریب عوام لٹک کر زندگی کی سانسیں گننے پر مجبور پائے جاتے ہیں ۔ ابھی کے پی کے میں وزیر اعلیٰ محمود خان کے ایک مشیر (برائے اطلاعات) کی کرپشن کے الزامات پر برطرفی کی کہانیوں کی بازگشت تھمی بھی نہیں تھی کہ پنجاب کے ایک وزیر محض اس بنیاد پر وزیر اعظم کے حکم سے برطرف کر دئیے گئے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاہور میں دو ایسی شخصیات کو بڑے سرکاری عہدے بخش دئیے تھے جن پر الزام ہے کہ وہ پراپر ٹیز کے کاروباریوں سے قریبی تعلقات رکھتے تھے ۔ شنید ہے کہ وزیر اعظم کو توقع تھی کہ دونوں میں سے ایک نیا متعین کیا جانے والا افسر لاہور کی ایک اشرافیہ طبقے کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ساتھ لگنے والی رنگ روڈ کو جادو کی طرح جلد از جلد تعمیر کر ڈالے گا۔ اس ناکامی پر دونوں سینئر ترین سرکاری افسروں کو بیک بینی و دوگوش عہدوں سے فارغ کر دیا گیا ہے ۔ پنجاب کے جس وزیر کو نکالا گیا ہے ، اُس نے اپنی صفائی میں کہا ہے کہ میرا دونوں مذکورہ افسروں کی تعیناتی سے کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا اور نہ ہی مجھے وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم نے ناراض ہو کر وزارت سے فارغ کیا ہے بلکہ مَیں نے از خود مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے ”کیونکہ مَیں اپنے حلقے کے کاموں اور ووٹروں کی طرف توجہ نہیں دے پارہا تھا۔”سبحان اللہ، ووٹروں اور حلقے سے اسقدر محبت؟پی ٹی آئی کے ووٹر اور عمران خان کے چاہنے والے پاکستانی شہری حیران ہیں کہ عمران خان کی حکومت میں اُن کی یہ کیا درگت بن رہی ہے!ہم میںسے کسی نے بھی اس پٹائی اور درگت کا خواب تک نہیں دیکھا تھا۔ بس ہم سب کو یہ نظر آرہا ہے کہ اگر اس ملک میں اور اس حکومت سے کوئی خوش اور مطمئن ہے تو وہ صرف عمران خان کے دوست اور محبّ ہیں ۔ یا پھر وہ عناصر جنہیں عرفِ عام میں خانصاحب کے ”اے ٹی ایم” کہا جاتا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کے جن15معاونینِ خصوصی اور مشیرانِ خاص نے اپنی شہریتیں اور اثاثے ڈیکلئر کئے ہیں ، ان سے بھی عیاں ہے کہ عمرانی حکومت میں مفادات سمیٹنے اور موجیںکرنے والے کون ہیں؟ اپوزیشن کا یہ کہنا ہے کہ دہری شہریتیں رکھنے اور پونے دو ارب کے اثاثے رکھنے والے ان افراد میں زیادہ تر وہ ہیں جو عمران خان کے اے ٹی ایمز ہیں ۔ ورنہ ان کی اہلیت اور قابلیت سب پر عیاں ہے ۔عمران خان کے یہ معاونینِ خصوصی وہ ”ہیرے” ہیں جن پر خانصاحب تو فخر کرتے ہوں گے لیکن یہ دراصل پاکستان کے قومی خزانے پر بھاری بوجھ ہیں کہ پاکستان کے خزانے میں بہرحال جو بھی سرمایہ ہے ، وہ پاکستان کے عوام کی ہڈیوں سے جبریہ طور پر ٹیکس کی شکل میں نچوڑا جاتا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پورے پاکستان میں سوشل میڈیا پر ان معاونینِ خصوصی اور مشیرانِ خاص(SAPMs)کے خلاف سخت ردِ عمل آیا ہے ۔ یہ ردِ عمل اب بھی جاری ہے ۔ حکومت کو بھی اس پر سخت تشویش ہے ۔تشویش ہونی بھی چاہئے ۔خصوصاً اُن افراد پرعوام کو سخت طیش ہے جو اپنی جیبوں میں غیر ملکی اقامے، گرین کارڈز، امریکی و کینیڈین پاسپورٹ ڈال کر پاکستانی عوام کا خون چوس رہے ہیں اور ان سے پاکستان کی سیکورٹی بھی محفوظ نہیں رہی ۔ خاص طور پر عمران خان کے وہ مشیران جن کے پاس امریکی و کینیڈین و برطانوی پاسپورٹ ہیں ، ہم اُن پر کیونکر اعتبار کر سکتے ہیں کیونکہ ان افراد نے یہ پاسپورٹ لیتے ہُوئے پاکستان سے وفاداری کا نہیں بلکہ امریکہ ، کینیڈا اور برطانیہ سے وفاداری کا حلف اُٹھا رکھا ہے ۔لیکن یہ ”ہیرے” عمران خان صاحب کو پیارے اور دلارے ہیں ۔ نجانے کس بنا پر؟مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ”ہیرے” کسی بھی قومی اور بین الاقوامی فورم پر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کی پالیسیوں اور اقدامات کا موثر انداز میں دفاع نہیںکر پا رہے ۔یوں پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کو چاروں اطراف سے مخالف تھپیڑے پڑ رہے ہیں اور خانصاحب کی ساری میڈیا ٹیم قطعی ناکامی اور نامرادی کا منہ دیکھ رہی ہے ۔ ان مخالف تھپیڑوں کا منہ پھیرنے میں عاصم سلیم باجوہ بھی ناکام دکھائی دے رہے ہیںجنہیں بڑی توقعات کے تحت وزیر اعظم صاحب نے اپنا مشیر خاص برائے اطلاعات مقرر کیا تھا۔ ایسے مایوس کن حالات میں وزیر اعظم اور اُنکی اطلاعاتی و میڈیا ٹیم کو اُس وقت ایک اور سخت دھچکا لگا ہے جب 21جولائی2020ء کو اسلام آباد میں ملک کے ایک سینئر اور معزز صحافی ( مطیع اللہ جان) کو دن دیہاڑے بعض پُر اسرار لوگوں نے اغوا کر لیا۔ اُنہیں اُن کی اسکول ٹیچر اہلیہ محترمہ کے اسکول کے باہر سے زبردستی اٹھایا گیا۔ مبینہ اغوا کاروں نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی وردیاں بھی پہن رکھی تھیں اور کچھ لوگ سول کپڑوں میں ملبوس تھے ۔ یہ سارا منظر اسکول کے سی سی ٹی وی کیمروں نے محفوظ کرلیا۔ 21جولائی کا سارا دن اس سانحہ پر سارے ملک میں اور سارے سوشل میڈیا پر صحافی مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا کی واردات کی خبر سے گونجتا رہا ۔ ملک بھر کے صحافی سراپا احتجاج بنے رہے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اس پر سخت ردِ عمل دیا۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل اور ہیوم رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس پر سخت احتجاج کیا اور مغوی صحافی کو فوری بازیاب کرانے کا مطالبہ کیا۔ واردات پر افسوس کرنے والوں میں دو وفاقی وزرا( فواد چودھری اور ڈاکٹر شیریں مزاری) بھی شامل تھے ۔ ہم اُن کے شکر گزار ہیں ۔ مگر شرم کی بات ہے کہ نون لیگ کی نائب صدر محترمہ مریم نواز اس ظلم پر خاموش رہیں۔ وزیر اطلاعات ، شبلی فراز صاحب ، نے بھی پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ یہ اغوا کاری کی واردات ہے ۔ صحافیوں نے ایک پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات کا بائیکاٹ بھی کیا۔ ایسا ہونا بھی چاہئے تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ تقریباً بارہ گھنٹے کے بعد”مغوی” صحافی مطیع اللہ جان کی خیریت کی اطلاع آ گئی ۔ ”اغوا کاروں” نے اُنہیں رات گئے فتح جنگ کے ویرانوں میں پھینک دیا تھا۔ ہم اس سانحہ پر افسوس کا اظہار ہی کر سکتے ہیں۔کیا صحافیوں اور صحافت پر ظلم کے پہاڑ توڑ کر پاکستان کو ترکی بنانے کی سازش کی جارہی ہے؟ کیا ملک میں ایسے امن قائم ہوتا ہے؟ کیا ممکن ہے کہ ملک میں ظلم بھی ہو اور ساتھ ساتھ امن بھی رہے؟ ناممکن جناب!شائد اِسی پس منظر میں کبھی جیالے اور جانباز شاعر حبیب جالب نے ترنگ میں آ کر کہا تھا:”ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے؟ تم ہی کہو!”۔ سوال یہ ہے کہ یہ واردات ڈالنے والوں کے ہاتھ کیا آیا ہے؟ کیا صرف ورکنگ جرنلسٹوں کو مزید خوف میں مبتلا کرنا؟ ہمارے ازلی دشمن ، بھارت، نے اس واقعہ کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف جو ہفوات بکی ہیں ، وہ ایک الگ المناک داستان ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ حکومت کی غیر حکیمانہ سوچ کی وجہ سے ہر اطراف سے اس کے خلاف فضا بن رہی ہے ۔ نیب کو جس طرح حکومت مبینہ طور پر اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کررہی ہے، اس سے حکومت کے حصے میں نیک نامی نہیں آ رہی ۔نون لیگ کے خواجہ برادران ( جو ایم این اے بھی ہیں اور ایم پی اے بھی)کے ایک کیس میں سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ بھی اس کی ایک مثال ہے ۔ سپریم کورٹ نے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں خواجہ برادران کی ضمانت سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے نیب کی مداخلت پر سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ واضح نہیں کہ نیب نے اس کیس میں کارروائی کیوں شروع کی۔پیر(20جولائی2020ئ) کو سپریم کورٹ کی طرف سے 87 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا جس کو جسٹس مقبول باقر نے تحریر کیا ہے۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نیب کے حوالے سے تاثر ہے کہ اسے پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور طاقتور کی جانب سیاسی حریفوں کو نیب کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے نیب پر عوام کا اعتماد ختم ہو گیا ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ا’ئین کی حکمرانی کی ہر کوشش کو بھرپور انداز میں دبایا گیا۔ ماضی میں بدقسمتی سے بار بار غیر آئینی مداخلت کی گئی۔ اقتدار کی ہوس اور ہر چیز پر قبضے کی خواہش نے اداروں کی حدود کی توہین کی۔ اس کیس کا پس منظر یہ ہے کہ رواں برس 17 مارچ کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی(لاہور) کیس میں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت منظور کی تھی۔پیراگون ہاؤسنگ کیس میں نیب نے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو دسمبر 2018 ء میں گرفتار کیا تھا۔ خواجہ برادران نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی تھی جسے مسترد کردیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔دوران سماعت بھی جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس میں کہا تھا: ”خواجہ برادران نے ٹرائل کے دوران بیان ریکارڈ کرانے میں نیب کے ساتھ تعاون کیا، کیس میں کوئی التوا نہیں مانگا گیا تاہم نیب کوئی ایسی چیز بتائے جس سے ثابت ہو کہ خواجہ برادران کو ضمانت نہ دی جائے۔”سترہ مارچ کو لاہور ہائی کورٹ کا ضمانت منسوخی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے تیس تیس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض خواجہ برادران کی ضمانت منظور کی تھی۔نیب کی جانب سے آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا تھا کہ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی سے براہ راست روابط ہیں جس کے بعد نیب لاہور نے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا۔نیب لاہور کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے اپنی اہلیہ، بھائی سلمان رفیق، ندیم ضیا اور قیصر امین بٹ سے مل کر ایئر ایونیو سوسائٹی بنائی، جس کا نام بعد میں تبدیل کرکے پیراگون رکھ لیا گیا۔نیب کے اعلامیے کے مطابق :خواجہ سعد رفیق نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیر کی اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر عوام کو دھوکہ دیا اور اربوں روپے کی رقم بٹوری۔ نیب کے مطابق، خواجہ برادران کے نام پیراگون میں 40 کنال اراضی موجود ہے۔ خواجہ برادران کی ضمانت کے چار ماہ بعد جاری کیے جانے والے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں نیب کی مداخلت پر سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ واضح نہیں کہ نیب نے اس کیس میں کارروائی کیوں شروع کی؟ نیب کو پلاٹوں کی عدم حوالگی کی شکایت ملی یا تفتیش میں کچھ سامنے آیا؟عدالت نے قرار دیا کہ نیب ریفرنس اور تفتیشی رپورٹ میں تضادات ہیں اور نیب خواجہ برادران کا پیراگون سوسائٹی پر کنٹرول ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ عوام کو آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے ہمیشہ محروم رکھا گیا۔ معاشرے میں جمہوری اقدار کی جگہ کرپشن اور اقرباپروری نے لے لی ہے۔ عوام کی فلاح اور غربت کا خاتمہ ترجیحات میں کہیں شامل نہیں ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان بنے 72 سال اور آئین پاکستان کو بنے ہوئے 47 سال ہو چکے ہیں لیکن آج بھی پاکستان کی عوام کو آئین میں دیئے گئے حقوق نہیں مل رہے۔سپریم کورٹ کے یہ الفاظ قابلِ غور ہیں:”خواجہ برادران کے خلاف کیس انسانیت کی تذلیل کی بدترین مثال ہے ۔”اس فیصلے کے بعد سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے ہاتھ میں کیا آیا ہے؟اور نیب نے کیا کمایا ہے؟سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے میں حبیب جالب کے شعر کا بھی حوالہ دیا گیا:”ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے؟ تم ہی کہو”۔ اس پس منظر میں ”نیب” کے خلاف عوام اور سوشل میڈیا میں جو فضا بنی ہے ، یہ غیر فطری نہیں ہے ۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی بجا طور پر مطالبہ کررہی ہیں کہ ”نیب” چونکہ اپنا اعتبار کھو چکا ہے، اسلئے اسے ختم کر دینا چاہئے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ایک ڈکٹیٹر کے ظلم کی اس نشانی کے خاتمے کا وقت آ پہنچا ہے ۔کاش، پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے اپنے اپنے اقتدار کے ادوار میں اس کے خلاف کوئی متفقہ قدم اُٹھا لیا ہوتا!!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.