Latest news

یہ خونِ خاک نشیناں تھا، رزقِ خاک ہُوا؟

شاباش دینی چاہئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفورکو جنہوں نے ایک بار پھر اپنی تازہ ترین پریس بریفنگ میں دشمنانِ پاکستان کو واضح الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف اُن کے عزائم اور منصوبے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیں گے ۔ یہ دبنگ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پورے ملک میں اس کی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی ۔پچھلے دنوں بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ملفوف انداز میں پاکستان کو ایٹمی دھمکی دی تھی۔ پاکستان میں اس کی حدت اور شدت محسوس کی گئی ؛ چنانچہ لازم تھا کہ اس کا بھی ترنت جواب دیا جاتا۔ افواجِ پاکستان کے ترجمان نے بجا اعلان کیا ہے کہ” ایٹمی ہتھیاروں میں پہل نہ کرنا ہماری پالیسی نہیں ہے ۔” جس زوردار اسلوب میں میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کو جواب دیا ہے ، ہم اس کی تحسین کرتے ہیں کہ یہ الفاظ فی الحقیقت پاکستان کے 22کروڑ عوام کے جذبات کی صحیح تر ترجمانی ہے ۔

اُمید رکھی جانی چاہئے کہ پیغام پوری صراحت کے ساتھ نئی دلّی پہنچ گیا ہوگا۔ یہ کہنا بھی بجا ہوگا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ پریس بریفنگ دراصل کشمیر میں پیدا ہونے والے نئے حالات کے ارد گرد گردش کرتی رہی ۔ بھارت سمجھتا ہے کہ وہ 5اگست کے اقدام کے بعد اور اپنے آئین میں درج کی گئی مقبوضہ کشمیر بارے خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پورا کشمیر آسانی سے ہڑپ کر جائے گالیکن آصف غفور صاحب نے اپنی پریس بریفنگ میں بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ ”کشمیر کا سودا ہماری لاشوں پر ہوگا۔” یہ اعلان اسلئے بھی ضروری تھا کہ کچھ دنوں سے ہماری اپوزیشن لیڈرشپ یہ پروپیگنڈہ کرتی سنائی دے رہی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ”امریکی دَورے کے دوران کشمیر کاسودا کر آئے ہیں۔” ہم اسے انتہائی بیہودہ الزام سمجھتے ہیں لیکن اپوزیشن کو بھی تو اپنی سیاست چمکانی ہے ۔ کاش وہ پاکستان کے قومی اور اجتماعی مفادات پر یہ سیاست چمکانے کی کوشش نہ کرتی ۔میجرجنرل باجوہ جب صاف الفاظ میں یہ کہتے ہیں کہ ”آخری گولی اور آخری سانس تک کشمیریوں کیلئے لڑیں گے” تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نئے حالات میں بھی اپنی پرانی قومی پالیسی سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا ہے ۔ یہ درست ہے کہ عالمی حالات اسوقت بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں لیکن مشکل حالات کے باوصف افواجِ پاکستان نے بھارت سمیت دُنیا پر اپنے وقف کو پھر سے آگاہ کر دیا ہے ۔

پچھلے کچھ دنوں سے ہمارے میڈیا میں نیمِ دروں اور نیمِ بروں یہ باتیں سُننے کو مل رہی تھیں کہ کیا اب پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہئے ؟ کیا یہ موزوں وقت نہیں ہے ؟ اس موقف میں مزید وزن پیدا کرنے کیلئے ایک اسرائیلی اخبار Haaretzکا حوالہ بھی دیا جارہا ہے ۔ پاکستان کی اکثریت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں ہے ۔ لیکن مفاد پرست ٹولے وقتاً فوقتاً ایسے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہئے ۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آخر مصر اور ترکی ایسے مسلمان ممالک نے بھی تو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کررکھے ہیں ۔ جنرل صدر پرویز مشرف کے دَورِ حکومت میں بھی ایسے شوشے چھوڑے گئے تھے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے ۔ اس ضمن میں مشرف کے وزیر خارجہ محمود قصوری کی ترکی میں اسرائیلی وزیر خارجہ سے ”راہ چلتے ملاقات” کی کہانی بھی سامنے لائی گئی لیکن اس ملاقات کو مقبولیت نہ مل سکی ۔ یوں یہ شوشہ اپنی موت آپ ہی مرگیا۔ اب ایک بار پھر ایسی کہانیاں زیر گردش ہیں ؛ چنانچہ لازم تھا کہ کسی ہائی اتھارٹی کی طرف سے اس بارے کوئی مسکت اور مثبت جواب دیا جاتا ۔ یہ خبریں افواجِ پاکستان تک بھی پہنچتی ہیں کہ اطلاعات کی فراہمی اور عوامی نبض جاننے کے لئے اُن کا اپنا طریقہ کار اور نظام ہے ۔

جناب آصف غفور نے اس طرف بھی اشارہ کرتے ہُوئے دو ٹوک انداز میں اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ”اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں محض پروپیگنڈہ ہیں۔ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔” انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ” پاکستان پرحملہ بھارت کرے یا اسرائیل، بھرپور جواب دینے کے لئے ہم تیار ہیں ”۔ یہ جواب پوری قوم کیلئے ہمت اور حوصلے کا باعث بنا ہے ۔ یہ واقعہ ہے کہ افواجِ پاکستان کی طرف سے دئیے گئے ایسے دلاسے قوم کا دل ٹھکانے پر رکھنے کا موجب بنتے ہیں ۔ یہ ملک کو پُر امن اور با سکون بھی رکھتے ہیں ۔مجموعی طور پر جناب آصف غفور کی پریس بریفنگ بہترین تھی ۔ کئی سوالوں کے اطمینان بخش جواب سامنے آئے ہیں لیکن اُن کا ایک جواب قوم کی سمجھ سے بالا ہے اور وہ یہ کہ”پاکستانی معیشت ایک رات میں خراب نہیں ہُوئی ، ٹھیک ہونے میں پانچ دس سال لگیں گے۔” اس بیان کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہمارے عسکری ادارے بھی وطنِ عزیز کی معاشی بدحالی کا اقرار کررہے ہیں لیکن اسے ٹھیک کرنے کا بیان اگر وزیر اعظم کے وزیر خزانہ کی طرف سے آتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ جس کا کام اُسی کو ساجھے کے محاورے کے عین مطابق۔ اگرچہ وزیر اعظم عمران خان کو معاشی بدحالی کے گڑھے سے نکالنے کیلئے سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں لیکن پاکستانی معیشت کوٹھیک کرنے کی کلید اور کنجی تو بہر حال سویلین قیادت ہی کے پاس ہے ۔ جناب آصف غفور کی طرف سے پاکستانی معیشت کو اگلے پانچ دس سالوں میں ٹھیک کرنے کی بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کی حکومت دیالو اور حاتم طائی بن کر وطنِ عزیز کے چند ایک سرمایہ داروں کے 300ارب روپے سے زائد کے واجبات معاف کرنے جا رہی تھی ۔ اس سلسلے میں کابینہ فیصلہ بھی کر چکی تھی لیکن جب ہمارے بیدار مغز سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے بروقت اور ثبوتوں کے ساتھ احتجاج کیا تو سنا ہے کہ اب وزیر اعظم صاحب نے اس فیصلے کو روک لیا ہے ۔ عوام حیران ہیں کہ ایک طرف تو خانصاحب کی حکومت آنسو بہاتے ہُوئے کہہ رہی ہے کہ ملکی معیشت تباہ شدہ ہے ، ٹیکس کولیکشن اہداف کے مطابق نہیں ہے اور لوگ ٹیکس نہیں دیتے لیکن دوسری طرف پاکستان کے غریب عوام سے بجلی، کھاد اور گیس کی مدات میں وصول شدہ اربوں کے ٹیکس کی بنیاد پر پاکستان کے سرمایہ داروں کے ذمہ واجب الادا 298ارب روپے کے بلز معاف کرنے کی تیاری مکمل کی جا چکی تھی ۔

ان سرمایہ داروں نے یہ تین سو ارب روپے ہر صورت قومی خزانے میں ادا کرنے ہیں لیکن چونکہ ان میں سے کچھ لوگ پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی شامل ہیں ، اسلئے انہوں نے وزیر اعظم کو شیشے میں اتار کر یہ رقم معاف کروانے کی پوری منصوبہ بندی کر لی اور اجازت بھی حاصل کر لی ۔ اس ایک مثال سے بھی ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ خانصاحب کی حکومت میں بھی کئی عوام دشمن کالی بھیڑیں موجود ہیں جو قومی خزانے میں نقب لگانا چاہتی ہیں ۔ ہم اس روئیے اور سوچ کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ یہ مٹھی بھر وہ طاقتور اور مراعات یافتہ لوگ ہیں جو ہر قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ہر دَور میں اپنے مالی مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ شائد اس وجہ سے بھی وزیر اعظم آفس کی جانب سے 5ستمبر2019ء کو 27وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری کئے گئے ہیں ۔

ان قانون شکن گروہوں یا خود کو قانون سے بالادست سمجھنے والے افراد کا سختی سے انسداد کیا جانا چاہئے کہ عوام نے تحریکِ انصاف کے حکمرانوں سے صاف شفاف انصاف کی بلند امیدیں لگا رکھی ہیں ۔مگر یوں لگتا ہے جیسے قانون کی حاکمیت کا نہ تو کسی کو ڈر رہا ہے اور نہ ہی قانون سب شہریوں کیلئے مساوی کا تصور باقی بچ گیا ہے ۔ خصوصاً پنجاب میں پولیس نے قانون کی مٹی پلید کرتے ہُوئے ظلم و استحصال کی جو نئی داستانیں حال ہی میں رقم کی ہیں ، یہ اس قدر وحشت ناک ہیں کہ جس نے بھی سُنا اور دیکھا ہے ، لرز کر رہ گیا ہے ۔ پہلے تو جنوبی پنجاب میں محمد صلاح الدین نامی ایک نیم پاگل شخص کی ویڈیو سامنے آئی جس نے سب کو تھرّا کر رکھ دیا ہے ۔ صلاح الدین نامی یہ شخص کسی بینک کی اے ٹی ایم مشین اکھاڑتا اور کیمرے میں زبان نکال کر عجب سی حرکتیں کرتا نظر آرہا ہے ۔ وہ کوئی چور تھا نہ بینک کو لُوٹنے والا۔ مبینہ طور پر اُس کا اپنا اے ٹی ایم کارڈ مشین میں پھنس گیا تھا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ وہ دوسرے دن بینک کے کھلنے کا انتظار کرتا لیکن اُس نے غصے میں اے ٹی ایم مشین ہی اکھاڑ ڈالی ۔ جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہُوئی ہے ، اُس میں صاف نظر آرہا ہے کہ وہ اے ٹی ایم مشین سے صرف اپنا اے ٹی ایم کارڈ نکال کر بینک سے باہر نکلتا نظر آ رہا ہے ۔قانون کے مطابق اے ٹی ایم مشین اکھاڑنا یقیناً ایک جرم تھا لیکن اتنا گھناؤنا اور سنگین جرم یقیناً نہیں تھا کہ ملزم صلاح الدین کو جان ہی سے مار ڈالا جاتا ۔ پنجاب پولیس نے صلاح الدین کو گرفتار کیا ، اُس پر بے پناہ تشدد کیا اور مبینہ طور پر آخر کار اُسے مار ہی ڈالا ۔ اگر سوشل میڈیا ہمارے ملک میں متحرک نہ ہوتا تو شائد مبینہ قتل کا یہ سانحہ دبا ہی دیا جاتا اور پنجاب پولیس اس پر مٹی ڈال دیتی ۔ ایسا مگر نہیں ہو سکا ہے ۔ سوشل میڈیا پر مبینہ مقتول صلاح الدین کے جو ویڈیا کلپس جاری ہُوئے ہیں ، اُن میں پولیس اُس پر بہیمانہ تشدد کرتی صاف نظر آرہی ہے ۔ ملزمان سے اقرارِ جرم کروانا اور اُن کے ناکردہ گناہوں کی بھی اُنہیں سزا دینا پنجاب پولیس کا ہمیشہ سے وتیرہ رہا ہے ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس وحشیانہ وتیرے میں کمی آنے کی بجائے اضافہ اور شدت ہی دیکھنے میں آئی ہے ۔ ہمارے سماج میں مبینہ مقتول صلاح الدین کے بہیمانہ قتل کے خلاف جو ردِ عمل سامنے آیا ہے اور شہریوں نے پنجاب پولیس کے ظلم کے خلاف جس طرح بلند آواز سے احتجاج کیا ہے، اس کا معنیٰ یہ ہے کہ ابھی ہمارا ضمیر مردہ نہیں ہُوا ہے ۔ حیرت انگیزبات مگر یہ ہے کہ جس علاقے میں صلاح الدین کا مبینہ قتل ہُوا ہے ، وہاں کے مقامی بڑے ہسپتال کے ڈاکٹروں نے اسے قتل نہیں بلکہ دل کا فیل ہو جانا قرار دیا ہے ۔ اس سفید جھوٹ اور کذب کا مطلب یہ ہے کہ صلاح الدین ایسے غریب شخص کے قتل کو دبانے کیلئے پنجاب کی ساری بیوروکریسی نے ایکا کر لیا ہے ۔ مزید حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ صلاح الدین کی المناک ہلاکت کے خلاف ہر طرف شور مچا رہا لیکن پنجاب کے وزیر اعلیٰ صاحب تقریباً مہر بہ لب ہی رہے ۔ اُن کے ایک مشیر مسٹر ڈاکٹر شہباز گل نے یہ ٹویٹ تو کیا کہ اس سانحہ کی تحقیقات کے لئے انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے لیکن اس سے آگے کوئی موثر اور شافی اقدام نہیں کیا گیا ۔

کیا محض اسلئے کہ مبینہ مقتول صلاح الدین ایک غریب اور نیم پاگل پاکستانی شہری تھا؟ کیا اُس غریب کا خون یونہی ضائع چلا جائے گا اور مبینہ سرکاری قاتلوں کو کوئی سزا نہیں ملے گی ؟ اُن کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی ؟ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ”ریاستِ مدینہ ” بنانے کے دعویدار اِسی طرح اپنے غریب شہریوں کا خون مٹی میں ملاتے رہیں گے ؟ شاعر نے اِسی کیفیت میں مایوس ہو کر کہا تھا:

نہ مدعی نہ شہادت، حساب پاک ہُوا
یہ خون خاکِ نشیناں تھا، رزقِ خاک ہُوا

ہم اس ظلم پر ششدر ہیں ۔ ساری عوام حیرت اور افسوس کے سمندر میں ڈوبی پڑی ہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پنجاب پولیس کے آئی جی بھی حکمرانوں کا اشارہ پا کر اس خونی واردات پر خاموش ہی رہے ۔ اُنہیں اس ظلم پر برق رفتاری پر حرکت میں آنا چاہئے تھا لیکن افسوس وہ عوامی توقعات پورا نہیں اُتر سکے ہیں ۔ شنید ہے کہ عوام کے سخت احتجاج اور سوشل میڈیا کے دباؤ پر اب کہیں جا کر صلاح الدین کے مبینہ سرکاری قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر رپورٹ درج ہُوئی ہے لیکن اس کی صداقت پر بھی ہمیں ابھی تک شک ہے ۔ مقامی ڈاکٹروں نے اپنی طبّی رپورٹ میں جو غلیظ کردار ادا کیا ہے ، وہ پنجاب پولیس کے متعلقہ گندے اور مجرمانہ ذہنیت کے حامل اہلکاروں کو بچا لے جائے گی ۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔

پنجاب پولیس کے انسپکٹر نے لاہور میں ایک سینئر پولیس افسر کے دفتر کے باہر ایک ضعیف اور بزرگ خاتون سے جو بد سلوکی کی ہے اور خاتون کو جس طرح گالیاں بکی ہیں ، یہ کریہہ منظر بھی سب کا دل دہلا گیا ہے ۔ سوشل میڈیا نے اس واقعہ کو بھی زندہ رکھا اور یہ ویڈیو بھی وائرل ہُوئی ۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پنجاب پولیس کے سربراہ نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتے ہُوئے مذکورہ انسپکٹر پولیس کو مبینہ طور پر معطل کر دیا ہے ۔ لیکن پنجاب پولیس اور اس کے سربراہ پر عوامی عدم اعتماد اتنا گہرا ہے کہ اس تعطلی کی خبر پر عوام یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ عوام اسے ڈرامہ قرار دے رہے ہیں ۔

پنجاب پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے اور حوالاتوں میں اُن کے لئے” سہولت کار” بننے کی کوشش کررہے ہیں ۔ المناک بات یہ ہے کہ ایک ہی ہفتے کے دوران یہ دو واقعات پیش آئے ہیں اور ان دونوں میں پنجاب پولیس ملوث پائی جا رہی ہے ۔ ہم کہنا چاہیں گے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کے دوران بھی پنجاب پولیس کو لگام نہیں دی جا سکی ہے ۔ ابھی تواس حکومت کو برسرِ اقتدار آئے چند ہفتے ہی ہُوئے تھے کہ ساہیوال کا سانحہ پیش آ گیا تھا جس میں پنجاب پولیس نے ایک ہی گھر کے کئی افراد کو بہیمانہ طریقے سے، گولیاں مار کر دن دیہاڑے مارڈالا تھا ۔ کئی ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک مقتولین کے وارثوں کو نہ انصاف ملا ہے اور نہ ہی پنجاب حکومت کی طرف سے کئے گئے وعدوں کے مطابق رقم ہی ادا کی گئی ہے ۔

اس ضمن میں تصویریں تو خوب سامنے لائی گئیں ، میڈیا پر سرکاری آنیاں جانیاں بھی دکھائی گئیں لیکن عمل کے محاذ پر ٹائیں ٹائیں فش ہی رہا ۔ اس پر دکھ اور رنج کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان صاحب کے ”وسیم پلس” کو اب اپنے اقتداری محل کی چار دیواری سے باہر نکل کر فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہئے ۔

یاد رکھا جائے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کی ناکامیاں دراصل وزیر اعظم کی ناکامیاں سمجھی جا رہی ہیں ۔ اس احساس کو مزید پھیلنے سے روکنا ہوگا اور اس کیلئے سخت محنت درکار ہے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.