Latest news

یہ کہاں ضروری ہے ہر چراغ ہو روشن‘ اِک دیے کا جلنا بھی موت ہے اندھیرے کی

پاکستان کی سخت مخالفت اور مسلمان دشمنی کی بنیاد پر انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی پھر سے اقتدار میں آ چکی ہے ۔ پاکستان ، کشمیریوں ، بھارتی مسلمانوں کے خون کا پیاسا اور ”گجرات کا قصاب” نریندر مودی دوبارہ وزیر اعظم بن کر بھارتی اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو چکا ہے ۔مودی جی کے دوبارہ وزیراعظم بنتے ہی بھا  رتی مسلمانوں اور کشمیری آزادی پسندوں پر نئی قیامتیں ٹوٹی ہیں۔ بھارتی میڈیا بھی ان کی شہادتیں دے رہا ہے۔

انہی سانحات سے ہم بخوبی اور بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگلے پانچ برس اس خوں آشام وزیر اعظم کی پالیسیاں کیا رخ اختیار کریں گی ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے بھارت کی جانب بڑھائے گئے دوستی اور تعاون کے ہاتھ کو مسترد کرتے ہُوئے بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے جس بیہودگی اور بدتمیزی کے ساتھ کرتار پور صاحب راہداری پر تیسرے راؤنڈ کو بھی جس طرح ناکام اور بے ثمر بنایا ہے ، اس سے بھی ہم قیافے لگا سکتے ہیں کہ دوبارہ وزیر اعظم بننے والے مودی ”صاحب” پاکستان کے ساتھ کس طرح کے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں ۔

اُنہوں نے اپنے پہلے اقتدار کے پانچ سال (مئی2014ء تامئی2019ئ)جس وحشت کے ساتھ پاکستان سے کٹی کرتے گزارے ہیں ، اگر ان کی یہی حرکات جاری رہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی طرف سے بڑھائے گئے دوستی اور تعاون کے ہاتھوں کے باوصف یہ شخص پاکستان کو ٹف ٹائم ہی دیتا رہے گا۔

ایک سنجیدہ اور شائستہ وزیر اعظم کی حیثیت میں جناب عمران خان نے تو اپنے تئیں مودی کو انتخابی کامیابی پر اور پھر دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے پر ٹوئٹر کے توسط سے مبارکبادکا فوری پیغام بھی بھیجا اور خود فون پر اُنہیں مبارکباد دیتے ہُوئے جنوبی ایشیا کے خطے کی خوشحالی ، امن اور ترقی کیلئے مل جل کر کام کرنے کی پیشکش بھی کر دی ہے لیکن لگتا یہی ہے کہ پاکستان دشمنی اور عناد پر لگابنئے کا پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا۔

ہم جانتے ہیں کہ اس عناد کو امریکہ بھی بھارت کی پیٹھ ٹھونک کر بڑھاوا دے رہا ہے کہ امریکہ اور بھارت ، دونوں کو ”سی پیک” ہضم ہورہا ہے نہ پاک چین دوستی ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مودی جی کے دوبارہ اقتدار میں آتے ہی ایک بار پھر پاکستان کے خلاف سازشیں شروع ہو گئی ہیں ۔

شمالی وزیر ستان کے علاقے ” میرانشاہ” میں قائم ایک پاکستانی فوجی چوکی ( خڑ کمر) پر مفسد اور شیطانی ٹولے نے جس طرح حملہ کیا ہے اور پاک فوج کے پانچ جوانوں کو جس بیدردی سے شدید زخمی کر دیا ہے ، یہ دراصل بھارت، افغانستان اور امریکہ کی شہ پر سازشی اقدام کیا گیا ہے ۔

زخمی ہونے والے پاک فوج کے پانچ جوانوں میں سے ایک ( گل خان)اب شہید ہو چکا ہے ۔ اس حملے کے دوسرے ہی دن شمالی وزیرستان ہی کی ایک سرحدی چوکی( مکی گڑھ) پر ایک اور حملہ کیا گیاجس میں ایک فوجی جوان نے جامِ شہادت نوش کیا ہے ۔

اللہ کریم ہمارے ان دونوں جانباز فوجی جوانوں کی شہادتیں قبول و منظور فرمائے اور اُنہیں جنت میں اعلیٰ ترین مقامات پر سرفراز فرمائے ۔ آمین۔

ساری قوم نے مفسداور شیطانی ٹولے کی طرف سے کئے گئے ان حملوں کی مذمت بھی کی ہے اور حملہ آوروں پر اجتماعی لعنت بھی بھیجی ہے ۔یہ دراصل وہ ملعون عناصر ہیں جوپاکستان کے دشمنوں کے اشارے پر ایک بار پھر پاکستان پر حملہ آور ہُوئے ہیں ۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان شر انگیز اور پاکستان دشمن ٹولے کی ڈوریاں سرحد پار ، افغانستان سے ہلائی جا رہی ہیں ۔ بھارت اور امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک بھی وہاں بیٹھ کر ان دہشت گردوں کو سرمایہ بھی فراہم کررہے ہیں اور بوقتِ ضرورت انہیں پناہ بھی دیتے ہیں ۔

شمالی وزیرستان کی چوکی ”خڑ کمر” پر تازہ حملہ کرنے والے وہ ملعون عناصر ہیں جو خود کو پی ٹی ایم یعنی ”پشتون تحفط موومنٹ” کے وابستگان اور کارکنان کہتے ہیں ۔ منظور پشتین اس تنظیم کا سربراہ ہے اور تازہ حملہ میں مبینہ طور پر علی وزیر بھی ملوث پائے گئے ہیں اور محسن داوڑ بھی ۔ بد قسمتی دیکھئے کہ یہ دونوں افراد وزیرستان سے قومی اسمبلی کے منتخب رکن ہیں ۔

علی وزیر شمالی وزیرستان سے اور محسن داوڑ جنوبی وزیرستان سے ۔پاکستان کے وسیع تر مفاد میں اور وزیرستانیوں کی آواز کو قومی اسمبلی تک پہنچانے کیلئے پی ٹی آئی نے ان دونوں کے انتخاب میں یوں اعانت فراہم کی تھی کہ ان کے مقابل اپنے اُمیدوار وں کو مقابلے کے میدانوں سے نکال لیا تھا۔ لیکن کیا پتہ تھا کہ پی ٹی ایم کے یہ دونوں اشخاص آستین کے سانپ ثابت ہوں گے ۔پی ٹی ایم کا بانی اور سربراہ منظور پشتین تو پہلے بھی متعدد بار ، لاتعداد بار پاکستانی سیکورٹی فوسرسز کے خلاف زبان درازیاں کر چکا ہے ۔

وہی دل آزار زبان بولتا رہا ہے اور اب بھی بولتا ہے جوبھارت، امریکہ اور افغانستان کی زبان ہے ۔ ہماری اجتماعی بدقسمتی ہے کہ اس گستاخ کی کسی ادارے نے زبان بند کرنے کی کوئی سنجیدہ اور فوری کوشش ہی نہ کی اور پی ٹی ایم ، اس کے وابستگان اور اس کے سربراہ کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جاتے رہے ۔ ان لوگوں نے لاہور، اسلام آباد ، پشاور اور کراچی میں پشتونوں کے تحفظ کے نام پر جلسے جلوس کئے لیکن ہمارے کسی سیکورٹی ادارے اور سیاسی ادارے نے انہیں روکنے ٹوکنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی ۔

پی ٹی ایم اور اس کی قیادت کی بدمعاشیوں، ملک دشمنیوں اور غیر ممالک سے پیسے وصول کرنے کی بازگشت ہمارے سیکورٹی اداروں تک بھی پہنچی ہے ؛چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پی ٹی ایم کی کارستانیوں اور ملک دشمن کارروائیوں سے تنگ آ کر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور صاحب نے بھی اپنے دفتر میں ایک بھرپور پریس بریفنگ میں کھلے بندوں یہ انکشاف کیا کہ پی ٹی ایم کہاں کہاں سے رقمیں وصول کر رہی ہے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ”پشتون تحفظ موومنٹ” کی ملک دشمن کارروائیوں اور ان کی بد زبانیوں بارے بجا طور پر شکوہ کیا تھا لیکن ہمیں افسوس اس بات کا ہے کہ ثبوت رکھنے کے باوجودپی ٹی ایم اور اس کی مرکزی قیادت کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی نہ ان کے خلاف ملک دشمنی کی اساس پر مقدمات ہی بنائے گئے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں شدید قسم کی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان بدزبانوں اور گستاخوں کو بی بی سی اور وی اواے کی طرف سے بھی حمائت فراہم کی گئی ہے لیکن پاکستان نے اس کا بھی کوئی تدارک نہیں کیا۔ اس کے فطری نتائج یہی بر آمد ہونے تھے جو اب برآمد ہورہے ہیں ۔ پی ٹی ایم کی جرأتوں اور جسارتوں میں یہ اضافہ ہُوا ہے کہ اس نے شمالی وزیرستان میں قائم ہماری حساس فوجی چوکیوں پر حملہ کیا ہے ۔افواجِ پاکستان کا شعبہ تعلقات عامہ ہمیں بتاتا ہے کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں پی ٹی ایم نے صبح ہی صبح خڑ کمر کی چوکی پر اپنے کئی مسلح ساتھیوں کے ساتھ اسلئے حملہ کیا تھا کہ وہ بندوق کی نوک پر حراست میں رکھے گئے اپنے اُن ساتھیوں کو چھڑانے آئے تھے جنہیں چند دن پہلے ہی ملک دشمنی اور عوام دشمنی کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔

محسن داوڑ اور علی وزیر ، دونوں نے چوکی پر متعین فوجی جوانوں کے خلاف آوازے بھی کسے، اُنہیں دشنام بھی دیا اور اپنے ساتھیوں کو حملے کی شہ بھی دی ۔ انہوں نے گولی بھی چلائی اور جب اعراض اور گریز پائی کا کوئی چارہ نہ رہا تو پاک فوج کے جوانوں نے اپنے تحفظ کیلئے جوابی فائرنگ کی جس میں دو ایک حملہ آور مارے گئے ۔ باقی بھاگ گئے ، علی وزیر گرفتار کر لیا گیا اور محسن داوڑ فرار ہو گیا۔

یہ مفرور شخص اب کسی خفیہ مقام سے سوشل میڈیا پر جھوٹ بول بول کر پاکستان اور پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے خلاف ہفوات بک رہا ہے اور کذب گوئی کرتے ہُوئے اپنی اور اپنے حملہ آور ساتھیوں کی بیگناہی کا ذکر کررہا ہے ۔ دھرنے دینے کی بات بھی کررہا ہے۔

ہم اپنے سیکورٹی اور مجاز اداروں سے گزارش کریں گے کہ پی ٹی ایم سمیت اس مفسد شخص کا بھی ٹوئٹر اکاؤنٹ فوری بند کیا جانا چاہئے ۔المناک بات تو یہ بھی ہے کہ پی ٹی ایم کی شرانگیزیوں اور ملک دشمنیوں کی مذمت کرنے کی بجائے نون لیگ اور پی پی پی بے شرمی اور ڈھٹائی سے حمائت کررہی ہیں ۔ یہ دراصل اپنے سینوں میں دبے حکومت اور افواجِ پاکستان کے خلاف خبثِ باطن اور کرودھ کا شیطانی اظہار ہے ۔

 مجرم راج دلاری اور ملزم آصف زرداری کے بیٹے بلاول بھٹو نے اپنی اپنی ٹویٹوں اور بیانات میں پی ٹی ایم کی حمائت کی ہے اور جمہوریت کے لبادے میں پروپیگنڈہ کیا ہے کہ پی ٹی ایم کے ارکانِ قومی اسمبلی کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ ناطقہ سربگریباں ہے ، اسے کیا کہئے؟ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح پی ٹی ایم کی قیادت پشتونوں کے نام نہاد تحفظ کے تحت ملک دشمنی کرکے اپنے غیر ملکی آقاؤں اور سرپرستوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی مذموم کوشش کررہی ہے ، اسی طرح نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی جمہوریت کے نام پر پی ٹی ایم کی حمائت کرکے امریکہ، بھارت اور غیر ملکی سامراج قوتوں کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہیں ۔

عوام ان سیاہ چہروں کے حامل سیاست کاروں اور ان کے سیاہ کرتوتوں کے اعمال اور اقدامات کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ راج دلاری یعنی مریم نواز شریف ( جو اب خود کو مریم صفدر کہلائے جانے پرتیار نہیں ہیں)ضمانت پر رہا ہونے کے باوجود نہائت دیدہ دلیری سے ملک دشمنوں کے حق میں بیانات بھی دے رہی ہیں اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہی ہیں ۔

یہ دراصل قانون کا ٹھٹھہ اُڑانے کے مترادف ہے اور یہ بھی کہ پاکستان میں اگر آپ کے پاس سیاسی قوت اور دولت کی چمک دمک ہے تو مجرم ہونے کے باوجود آپ کو کھل کھیلنے کی پوری آزادی ہے ۔ یہ امر عمران خان کی انصافی حکومت کیلئے بجا طور پر لمحہ فکریہ ہے ۔ یہی اسلوب بلاول زرداری نے بھی اختیار کرکھا ہے ۔

ملک دشمن پی ٹی ایم کی حمائت میں بازو اور آواز بلند کرکے دراصل یہ دونوں افراد درحقیقت اپنے والدین کی کرپشن اور مقدمات پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں ۔ ان کی بد نیتی یہ ہے کہ یوں وہ سیکورٹی اداروں پر دباؤ بڑھا کر کوئی ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن یاد رکھا جائے کہ انہیں کوئی ریلیف اور چھوٹ ملنے والی نہیں ہے ۔

ہمارا مطالبہ اور تجویز ہے کہ پی ٹی ایم کی مجرمانہ، ملک دشمن اور غدارانہ سرگرمیوں کے پس منظر میں قومی اسمبلی میں ایک طاقتور کمیٹی بنائی جائے جو تحقیقات بھی کرے اور ان کیلئے سخت سزائیں بھی تجویز کرے ۔اسلام میں بھی اُن لوگوں کوسخت اور عبرتناک سزائیں دینے کا حکم دیا گیا ہے جو اپنے ملک ،قوم اور آئین سے غداری کے مرتکب ہوں ۔ سچی بات یہ ہے کہ غداروں اور ملک دشمنوں کیلئے مملکتِ خداداد میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے ۔

ہر مقام پر ان کا ناطقہ بند کر دینا چاہئے ۔ ہم غداروں اور ملک دشمنوں کو غیروں کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں کو مکمل چھوٹ دے کر پہلے ہی بہت نقصان اُٹھا چکے ہیں ۔ اِسی چھُوٹ نے تو یہ ملک دو لخت کیا تھا۔ہمیں متحد ، یکمشت اور ایک ہونے کی جتنی آج ضرورت ہے ، شائد پہلے کبھی نہیں تھی۔
یہ کہاں ضروری ہے ہر چراغ ہو روشن
اِک دیے کا جلنا بھی موت ہے اندھیرے کی
حب الوطنی اور نکھارِ چمن کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہمارے نجی مفادات قومی مفادات کے ماتحت ہو جائیں ۔ اور قومی مفادات کا یہ بھی ناگزیر تقاضا تھا کہ اُن لوگوں اور گروہوں کی سرِ عام گردنیں ماردی جاتیں جنہوں نے محض اپنے ذاتی اور مالی مفادات کے لالچ میں بازار سے ڈالردھڑا دھڑ خریدے بھی اور جن کے پاس کروڑوں روپے مالیت کے ڈالر پہلے سے موجود تھے ، وہ ذخیرہ کرلئے گئے ۔یہ دراصل قومی جرم تھا اور ہے کہ اس لالچ کے تحت بازار سے ڈالر غائب کر دئیے جائیں کہ جب کساد بازاری پیدا ہوگی تو مہنگے کرکے فروخت کئے جائیں گے ۔ یوں ملک میں زرِ مبادلہ کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ایک بھیانک جرم کا ارتکاب کیا گیا ۔

اِنہی جرائم پیشہ گروہوں اور افراد کے کرتوتوں کے سبب پاکستان کو بہ امرِ مجبوری آئی ایم ایف کی ظالمانہ شرائط تسلیم کرکے 6ارب ڈالر کا قرضہ لینا پڑا ہے ۔حکومت کو خوب معلوم ہے کہ ڈالر ذخیرہ کرنے والے یہ مجرم لوگ کون ہیں اور کہاں چھپے بیٹھے ہیں اور یہ کہ ان کے پاس کتنی مالیت کے ڈالروں کے ڈھیر پڑے ہیں ۔

قوم نے اس خبر پر مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا تھا کہ حکومت ڈالر ذخیرہ کرنے والوں کی سرکوبی کرنے والی ہے اور انہیں عبرتناک سزائیں بھی دینے والی ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک ان قومی مجرمان کو گرفتار کیا گیا ہے نہ انہیں موعودہ سزائیں دی گئی ہیں اور نہ ہی ان کے چھپائے گئے ڈالروں کو برآمد کیا گیا۔ یہ قدم اُٹھانے کیلئے مگر جرأت اور حوصلے کی ضرورت ہے ۔ ڈالر کے بھاؤ میں اگرچہ دو روپے کی کمی واقع ہوچکی ہے اور مزید بھی کمی کے امکانات ہیں لیکن ہنوذ ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف مہم سر کرنا ابھی باقی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام کرنے کی اسلئے بھی اشد ضرورت ہے کہ بجٹ کی آمد آمد ہے ۔ اس نازک اور حساس معاشی مرحلے پر اگر ڈالر گرانقدر اور نایاب ہوتا ہے تو اس کے براہِ راست قوم اور ملک پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔

خان صاحب کی حکومت اگرچہ پہلے ہی دو منی بجٹ پیش کر چکی ہے اور اب جون میں اُس کی طرف سے پہلا بڑا( لیکن درحقیقت تیسرا) بجٹ پیش کیا جانے والا ہے ۔ ابھی بجٹ پیش کرنا باقی ہے لیکن عوام کی سانسیں پہلے ہی خشک ہونا شروع ہورہی ہیں ۔ یوں محسوس ہورہا ہے جیسے کوئی تباہ کن میزائل تیزی کے ساتھ اُن کی جانب بڑھتا آرہا ہے ۔

حکومت اور حکمرانوں کو اپنے سرکاری اخراجات میں کمی کرتے ہُوئے پیٹ پر بھی پتھر باندھنا پڑیں تو باندھ لینے چاہئیں۔ مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ اگرچہ بجٹ میں نئے ٹیکس نہ لگانے کی نوید سنا رہے ہیں لیکن وطنِ عزیز کی کمزور اور نحیف معیشت کے پیشِ نظر ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آرہا ۔ بھاری سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کرکے عوام کو ریلیف دینے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔خبر ہے کہ نئے بجٹ میں سالانہ 12لاکھ روپے آمدن رکھنے والوں کی بجائے 6لاکھ روپے سالانہ آمدنی والوں پر ٹیکس لاگو کیا جارہا ہے ۔ بجٹ سازوں سے ہماری گزارش بس یہ ہے کہ عوامی مفادات کو ترجیح دی جائے ۔

مرغی اور دال کے بھاؤ میں تو کچھ فرق رہنا چاہئے حضور۔ بجٹ کی ستمرانیوں پر کسی شاعر نے ظریفانہ انداز میں کہا تھا:
ماں کہہ رہی تھی رنگ لِپ اسٹک کے دیکھ کر
چَٹ کر دیا بہو نے مرے لال کا بجٹ!!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.