اہم خبرِیں

نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی ،چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

!!!نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی ،چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

 

دُنیا بھر کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز میں بھی کورونا وائرس کے کارن سیاسی ، معاشی اور سماجی حالات کی سنگینیاں بڑھتی ہی جا رہی ہیں ۔ ملک میں 15اپریل کے بعد لاک ڈاؤن میں پھر دو ہفتوںکیلئے توسیع کر دی گئی ہے۔

اب 30اپریل تک ، جبکہ رمضان المبارک بھی شروع ہو چکا ہوگا، لاک ڈاؤن کا عذاب برداشت کرنا ہوگا۔ پہلے خبریں آئی تھیںکہ پندرہ اپریل کے بعد ممکن ہے ملک کے کچھ شہروں میں لاک ڈاؤن میں کچھ نرمی کر دی جائے لیکن ایسا نہیں ہو سکا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کورونا وائرس کی آفت میں کوئی کمی فی الحال نہیں آ سکی ہے اور یہ کہ حکومت اس ضمن میں نرمی کا اعلان کرکے کوئی رسک لینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔

البتہ کچھ کاروبار کے دروازے جزوی طور پر کھول دئیے گئے ہیں ۔ سرکاری ذرائع کہتے ہیں کہ وطنِ عزیز میں کورونا وائرس نے6ہزار کے قریب شہریوں کو متاثراور تقریباً100پاکستانیوں کو اس مہلک وائرس نے قبروں تک پہنچا دیا ہے ۔کوئی آٹھ درجن کے قریب ہمارے ڈاکٹر حضرات بھی اس وائرس سے متاثر ہو کر قرنطینہ میں جانے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔

سب سے زیادہ تعداد ملتان کے ایک سرکاری ہسپتال میں پائی گئی ہے ۔ دُنیا بھر میں کئی اہم سیاستدان ، ڈاکٹرز، کھلاڑی ، فنکار بھی اس وائرس سے متاثر ہُوئے ہیں ۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن مرتے مرتے بچے ہیں ۔ وائرس نے اسقدر اُنہیں کمزور اور نڈھال کر دیا ہے کہ ابھی تک وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قاصر بیان کئے جاتے ہیں ۔ پاکستان میں اسکواش کے سابق عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی قمر زمان بھی اسی وائرس کی بنیاد پر جاں بحق ہو گئے ہیں ۔

دُنیا پر نظر ڈالی جائے تو کورونا وائرس نے 18لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ایک لاکھ سے زائد افراد اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں ۔ امریکہ ایسے طاقتور ملک میں بھی قیامت کا سماں ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تعاون اور امداد کیلئے روس اور چین ایسے پرانے سیاسی و معاشی دشمنوں سے طبّی امداد لینے پر مجبور دکھائی دے رہے ہیں ۔ امریکہ کے معاشی مرکز نیویارک کے اسکول ایک سال کیلئے بند کر دئیے گئے ہیں۔یہ فیصلہ امریکہ میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کا پتہ دے رہی ہے ۔ کورونا وائرس نے دُنیا کے ہر فرد کو ڈپریشن میں مبتلا کردیا ہے ۔ یہ ڈپریشن یہاں تک بڑھا ہے کہ بھارتی پنجاب کے شہر پٹیالہ میں ایک نہنگ سکھ نے اپنے ہی صوبے کے ایک پولیس افسر کا ہاتھ کاٹ ڈالا ہے ۔ 14اپریل کو خبر آئی کہ جب نہنگ سکھوں کو پولیس افسر نے تفتیش اور پوچھ گچھ کیلئے روکا کہ وہ لاک ڈاؤن میں یوںکیوںپھر رہے ہیں تو اُن میں سے ایک نے کرپان سے حملہ کرکے مذکورہ پولیس افسر کا ہاتھ کاٹ دیا ۔بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سکھ نے اس سانحہ پر غصے کا اظہار بھی کیا ہے اور افسوس کا بھی ۔ پاکستان ایسے کمزور ملک کے حالات ہمارے سامنے ہیں ۔یہاںلیہ میں ایک مذہبی جماعت کے پیروکار نے ایک ایس ایچ او کو محض اسلئے خنجر مار دیا کہ پولیس اُسے قرنطینہ میں کیوں رہنے پر مجبور کررہی تھی ۔ ملتان میں ” احساس پروگرام” کے تحت امداد لینے کیلئے آنے والی غریب خواتین میں سے ایک عورت ہجوم کے پاؤں تلے آکر کچل دی گئی ۔ کراچی میں گذشتہ دونوں جمعہ مبارک کے مقدس اجتماعات کے دوران دو مساجد کے رہنماؤں کے مشتعل کرنے پر پولیس پر تشدد کرنے کے واقعات ہمارے میڈیا میں آ چکے ہیں ۔ اس ضمن میں مشتعل ہجوم نے خاتون پولیس افسر ( شرافت خان ) کو بھی نہیں بخشا اور اُن کی ناک بھی توڑ دی اور نظر کی عینک بھی ۔ہری پور میں درجن بھر پولیس اہلکار اسلئے گرفتار کئے گئے ہیں کہ وہ غریبوں کیلئے ”احساس پروگرام” کے ہزاروں روپے فراڈ سے بینکوں سے نکلوا کر ہڑپ کر گئے ۔

یہ شرمناک واقعات ہمارے سماج کے زوال پذیر اور دیوالیہ ہونے کا پتہ دے رہے ہیں ۔ ان واقعات کی موجودگی میں ہم کس منہ سے خود کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شہری کہہ سکتے ہیں؟ حتیٰ کہ وزیر اعظم کی معاونِ خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیفِ غربت، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، کو مجبوراً اپنی ٹویٹ میں یہ کہنا پڑا ہے کہ ”جو لوگ احساس پروگرام کی رقوم میں لوٹ مار کررہے ہیں یا چوری یا فراڈ کے مرتکب ہورہے ہیں ، قانون کے تحت اُن سے سختی سے نمٹا جائے گا۔” ہماری تجویز ہے کہ ”احساس پروگرام” سے وابستہ جملہ سرکاری اہلکاروں پر بھی نظر رکھی جائے کہ کہیں اندر سے بھی ”باریک کام ” تو نہیں دکھایا جارہا ؟ اس امکانی شبہے کی بنیاد یہ ہے کہ اس سے قبل ”بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام” المعروف BISPمیں بھی کروڑوں روپے کے مبینہ فراڈ ہو چکے ہیں ۔ کئی خبریں ہمارے میڈیا کی زینت بن چکی ہیں کہ BISPسے وابستہ کئی اہلکاروں نے بدعنوانیاں کیں اور وہ پیسے بھی اپنی جیبوں میں ڈال لئے جو ہمارے وطن کے صرف غریبوں اور مستحقین کا حق تھا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر اب ان فراڈیوں کو قانون اور اللہ کا ڈر اور موت کا خوف ہوتا تو یہ ایسا سرے ہی سے نہ کرتے لیکن ان بے شرموں نے سب خوف اور ڈر بھلا دئیے ہیں ۔

ان کا علاج بس ڈنڈا ہے اور وہ بھی سب کے سامنے تاکہ عبرت کا درس دیا جا سکے ۔ لاتوں کے بھوت باتوں اور تقریروں سے راہِ راست پر نہیں آتے ۔ایسے پریشان کن حالات میں وزیر اعظم عمران خان صاحب نے حسبِ معمول سمندر پار پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ ” ملک میں غربت بڑھ رہی ہے ، اوورسیز پاکستانی کورونا وائرس کے متاثرین کیلئے قائم کئے گئے فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔”جناب وزیر اعظم کی اپیل تو درست ہے اور بجا بھی لیکن اس اپیل پر بعض اطراف سے اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں کہ اس وقت جب بیرونِ ملک پاکستانی خود شدید مالی پریشانیوں کا شکار ہیں، اُن کے کاروبار بند ہو چکے ہیں ، ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں اور بیرونِ ملک 40ہزار پاکستانی بے روزگار ہو کر واپس پاکستان آنا چاہتے ہیں تو ایسے پُر آزمائش حالات میں کون وزیر اعظم کے اس فنڈ میں ”بڑھ چڑھ ” کر حصہ ڈالے گا؟کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے ان مالی بحرانوں سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آئندہ ایام میں ہمارے ملک کے حالات کیا ہوں گے۔ تو کیا ان حالات کی پیش بندی کیلئے حکومت نے کچھ سوچ بچار کیا ہے؟ کوئی منصوبہ بندی کی ہے ؟ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اس بارے قوم کے سامنے ابھی تک کوئی روڈ میپ نہیں رکھا ۔

خدا نہ کرے کہ وہ بطورِ منصوبہ بندی وزیر کے بھی ناکام ہو جائیں کہ اس سے پہلے وہ بطورِ وزیر خزانہ بُری طرح ناکام ہو چکے ہیں ۔ اُنہیں کورونا کے سامنے سرنڈر کرنے کی بجائے ، اس آفت کو سینگوں سے پکڑنا ہوگا۔کورونا کے کارن تو ہمارے یہاں جان کے لالے پڑگئے ہیں ۔ ڈاکٹروں کو حفاظتی لباس (PPE) میسر نہیں ہیں اور عوام کو فیس ماسک اور سینی ٹائزرز نہیں مل رہے ۔ وزیر اعظم عمران خان وارننگ دے رہے ہیں کہ ممکن ہے کورونا وائرس ملک میں مزید اتنا بڑھ جائے کہ ہسپتالوں میں جگہ ہی نہ رہے ۔ حکومت کو ایک نہیں کئی محاذوں پر جنگ لڑنا پڑ رہی ہے ۔اپوزیشن اور عمران خان کے درمیان جو خلیج پہلے تھی ، اب بھی ہے ۔ اس میں کوئی کمی نہیں آ سکی ۔

عمران خان صاحب اب بھی اپوزیشن سے ہاتھ ملا نے پر تیار نہیں ہیں کہ کہیں اُن کا بیانیہ کمزور نہ پڑ جائے ۔ حالانکہ اُن کا بیانیہ کمزور پڑ چکا ہے ۔ کرپشن کے خلاف وہ جتنے بھی نعرے لگاتے رہے ہیں ، اب پلٹ کر اُنہی کے ساتھیوں پر آ رہے ہیں ۔ آٹا چینی کی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ نے اُن کے بیانئے پر گہرا وار کیا ہے ۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر وزیر اعظم اپنے ایک ایسے معتمد ترین شخص کو مبینہ طور پر کھو چکے ہیں جو اُن کیلئے ستون کی حیثیت رکھتا تھا ۔ عمران خان کی طرف سے اپوزیشن سے مصافحہ نہ کرنے کے کئی نقصانات بھی سامنے آرہے ہیں جو حکومت کی کارکردگی اور ارتکاز کو منفی طور پر متاثر کررہے ہیں ۔ مثال کے طور پر پنجاب میں خواجہ برادران ( خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق) کا نیب کی جیلوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویز الٰہی سے اُن کے دولت کدے پر ملنے جانا۔ یہ ملاقات سیاسی اعتبار سے اسلئے بھی اہم ہے کہ چودھری پرویز الٰہی اور عمران خان باہمی اتحادی ہونے کے باوجود مبینہ طور پر ایک پیج پر نہیں ہیں ۔یہ ملاقات رواں ہفتے ہُوئی ہے جس نے وزیر اعظم کو بجا طور پر فکر اور تشویش میں مبتلا کیا ہوگا۔ یہ ملاقات عین اُس وقت ہُوئی جب پی ٹی آئی کے مشہور رکنِ پنجاب اسمبلی علیم خان اور نون لیگ کے پنجاب کے صدر اور ایم این اے رانا ثناء اللہ کی ملاقات کی خبر بھی سامنے آ گئی ۔ علیم خان نے عمران خان کی حکومت میں ”نیب” کی جیل میں جس طرح دو ماہ گزارے ہیں اور اس نے عمران خان اور علیم خان کے باہمی تعلقات کو جس طرح شدت سے متاثر کیا، اس سے سبھی اہلِ نظر واقف ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران علیم خان اور عمران خان کے تعلقات کشیدہ ہی رہے ۔ میل ملاقات بھی کم کم ہی رہی ۔ علیم خان کو بجا طور پر اپنے قائد سے رنج ہوگا کہ اُنہوں نے جس طرح گذشتہ جنرل الیکشنز کے دوران پی ٹی آئی اور خانصاحب کی مدد کی ، اس کا صلہ نہیں دیا گیا۔ سب اہلِ نظر اسے جانتے ہیں ۔ جہانگیر خان ترین کی خانصاحب سے مبینہ ناراضی اور علیم خان کی رانا ثناء اللہ سے مبینہ ملاقات ، یہ دو ایسے تازہ واقعات و سانحات تھے جنہوں نے عمران خان کو پریشان کر ڈالا ۔ اُن کی پریشانی قابلِ فہم بھی ہے ۔

وہ بیک وقت پنجاب کے ان دونوں دولتمند اور موثر سیاستدانوں کو ناراض کرنا افورڈ نہیں کر سکتے کہ یہی دو افراد تھے جنہوں نے دوسری قوتوں کے ساتھ عمران خان کو وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچانے میں ہر قسم کی اعانت فراہم کی اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے ۔ اقتدار کی چھتر چھاؤں میں پہنچ کر مگر عمران خان کے تیور بدل گئے ۔ اور حالات اُنہیں اس موڑ پر لے آئے کہ اب جہانگیر خان ترین اور علیم خان ، دونوں ہی اُن سے دُور جا بیٹھے تھے ۔ ایسے میں یکدم عمران خان نے یو ٹرن لیا اور علیم خان کو شرفِ ملاقات بخش ڈالا ۔ اسلام آباد میں علیم خان اور عمران خان کی ہونے والی ملاقات کو چند دن ہی گزرے تھے کہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ علیم خان صاحب پنجاب کابینہ کے سینئر وزیر بن چکے ہیں ۔ چند دن پہلے ہی اُنہوں نے وزارت کا حلف اُٹھایا ہے ۔حلف برداری کی تقریب میں گورنر پنجاب بھی موجود تھے اور وزیر اعلیٰ پنجاب بھی ۔ شنید ہے کہ اُنہیں تین اہم وزارتوں کا قلمدان دیا جارہا ہے ۔ممکن ہے جب تک یہ سطور شائع ہوں ، تب تک اُن کے قلمدانوں کا اعلان بھی ہو چکا ہو۔رازدانوں کا کہنا ہے کہ علیم خان کو وزیر بنانے سے قبل عمران خان نے خود وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صاحب کی بریفنگ کی اور اُنہیں کہا کہ وہ علیم خان سے پرانی رنجشیں بھول جائیں کہ اسی میں تینوں فریقین کی بہتری ہے ۔

رازدانوں کا دعویٰ ہے کہ علیم خان حلف اُٹھانے سے قبل گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور پنجاب کے وزیر ہاؤسنگ میاں عبدالرشید سے خاصے ناراض تھے لیکن اب علیم خان ان دونوں شخصیات سے بھی بوجوہ صلح کر چکے ہیں ۔ علیم خان کا پھر سے وزیر بننا اُن کی اخلاقی فتح کہی جا سکتی ہے ( نیب کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد اُنہوں نے اصولی طور پر اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا)علیم خان نے جب وزارت سے استعفیٰ دیا تھا تو عثمان بزدار سمیت اُن کے سبھی سیاسی حریفوں نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا کہ ایک بڑا کانٹا اُن کے راستے سے ہٹ گیا ہے ۔اور اب عمران خان نے علیم خان کو دوبارہ گلے لگا کر ایک اہم ترین فیصلہ کیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام عمران خان کی سیاسی دانشمندی کا شاندار ثبوت ہے ۔ ایسا کرکے دراصل اُنہوں نے پنجاب میں پیدا ہونے والے کسی امکانی سیاسی شگاف کو بند کر دیا ہے ۔

یہ اقدام وزیر اعظم نے عین ایسے لمحات میں کیا ہے جب سپریم کورٹ کی طرف سے بھی پی ٹی آئی کی حکومت بارے اچھے تبصرے نہیں آ رہے تھے ۔ مثال کے طور پر : سپریم کورٹ کے ججز کا کورونا وائرس کے خلاف حکومتی اقدامات سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں یہ کہنا کہ ”وزیر اعظم کی ایمانداری پر شک نہیں لیکن حکومت نے کچھ نہیں کیا، کابینہ پر مشیروں اور معاونین کا قبضہ ہے ،کورونا پر (حکومتی) نااہلی پر نظام کو خطرہ ہے ، مشیر مبینہ طور پر کرپٹ ، کابینہ غیر موثر ہے اور وزیر اعظم کچھ نہیں جانتے ۔” سپریم کورٹ کی طرف سے وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے بارے یہ ریمارکس کہ”ظفر مرزا کو ہٹانے کا حکم دے سکتے ہیں ” اوراس کے جواب میں اٹارنی جنرل کا عدالتِ عظمیٰ کو یہ گزارش کرنا کہ ”ان نازک لمحات میں ظفر مرزا کا ہٹایا جانا تباہ کن ہوگا” بتاتا ہے کہ حکومت کس دباؤ میں ہے ۔ایسے میں وزیر اعظم نے بجا طور پر علیم خان کو وزارت دے کر مستحسن قدم اُٹھایا ہے ۔ اس قابلِ ستائش دانشمندی کا اظہار اُس وقت کیا گیا ہے جب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور مرکزی حکومت کی ترجمان محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان آمنے سامنے آئے ہیں ۔

یہ آمنا سامنا کورونا وائرس کے موضوع پر ہُوا ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے خصوصاً وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہُوئے دھواں دھار پریس کانفرنس کر ڈالی ۔ اس نے فردوس عاشق اعوان کو ناراض کر دیا ؛ چنانچہ ڈاکٹر صاحبہ نے بھی ترنت جواب دینا اپنا فرضِ اولین سمجھا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو میڈیا سے براہِ راست بات کرنے کی بجائے وزیر اعظم سے بات کرنی چاہئے اور یہ کہ اُنہیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے سے گریز کرنا چاہئے ۔ لیکن لوگ کہتے ہیں کہ جب وزیر اعظم اپوزیشن کے کسی بھی رہنما سے بات چیت کرنے پرتیار نہیں ہیں تو مراد علی شاہ سے یہ توقع کیوں لگائی جائے کہ وہ وزیر اعظم سے بات کریں گے ؟ بلاول بھٹو بھی وزیر اعظم کے اس روئیے سے ناراض ہو کر مرکزی حکومت کے خلاف بیانات کے گولے داغ رہے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس کی ان قیامت خیز گھڑیوں میں کسی بھی سیاستدان کیلئے پوائنٹ سکورنگ کا وقت نہیں ہے ۔ ہمیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اس جنگ میں زندگی کے دشمن کو مل کر شکستِ فاش دینی ہے ۔ اگر اتحاد واتفاق کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ بھی امکانات ہیں کہ یہ مہلک کورونا وائرس ہمیں شکست دے ڈالے ۔

اللہ نہ کرے ہمیں یہ روزِ بد دیکھنا نصیب ہو۔ ہمیں منزل پر بہرحال کامیابی سے پہنچنا ہے ۔ ایسے میں ہمیں فیض احمد فیض کا ایک شعر شدت سے یاد آ رہا ہے

نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی 


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.