Latest news

موقوف ہے کیوں حشر پہ انصاف ہمارا؟؟

ہمارے حکمران ملک اور ملکی سلامتی کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں، اسکا اندازہ صرف ایک مثال سے ہی لگایا جا سکتا ہے ۔ یہ اکلوتی مثال ہی اس امر کیلئے کافی اور شافی ہے کہ ہمارا ملک کن ہاتھوں میں ”محفوظ” ہے ۔ رحیم شاہ نام کی ایک ”ٹک ٹوک شہزادی” ہمارے ہاں پائی جاتی ہے ۔ پہلے تو یہ ”محترمہ” صرف پی ٹی آئی کی چھوٹی موٹی قیادت کیساتھ چہلیں کرتی اور ان چہلوں کی ویڈیوز اور فوٹوز ٹوئٹر اور فیس بک پر شیئر کرتی نظر آتی تھی ۔ اسکا حوصلہ اور دل بڑھا تو اس نے مزید قدم آگے بڑھائے ۔ یہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر، فیاض الحسن چوہان، کے دفتر پہنچ گئی اور ایسی گفتگو اور فوٹوز سوشل میڈیا پر پھیلا دیں کہ جو خود وزیر موصوف اور پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت کیلئے باعثِ عزت نہیں تھیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اس معاملے کے اولین قدم پر ہی پی ٹی آئی کے ذمہ داران اس خاتون کو اسکی اوقات دکھا کر اس کی حوصلہ شکنی کرتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔ ہمیں نہیں معلوم اس عدم اقدام کی دراصل وجہ کیا تھی ؟ پھر خبریں آئیں کہ یہ” ٹک ٹوک شہزادی صاحبہ” ایک مشہور اینکر پرسن کے نجی جہاز میں جا گھسی ہے ۔ یہ عمل بھی ایک بڑے سکینڈل کا باعث بن گیا کہ موصوف و مذکور اینکر پرسن نے تہمت لگائی کہ یہ خاتون اس کے جہاز کے اندر سے کچھ قیمتی اشیاء چوری کرکے لے گئی ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ کئی دنوں تک یہ سکینڈل ہمارے سوشل میڈیا کی زینت بنا رہا ۔ اور اب پچھلے ہفتے یہ اندوہناک خبر آئی کہ یہی خاتون اسلام آباد کی وزارتِ خارجہ کے حساس کمرے میں گھس گئی ہے ۔ اس نے وہاں بیٹھ کر تصاویر اور ویڈیو کلپس بنائیں لیکن کسی نے اُسے روکا نہ ٹوکا ۔حیرت ہے کہ اتنے حساس کمرے میں یہ خاتون پہنچی کیسے ؟ وفاقی حکومت کے ذمہ داران فی الحال اس سوال کا کوئی بھی اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر پائے گئے ہیں ۔ کوشش کی گئی کہ اس سکینڈل کو دبا دیا جائے ۔ ایسا مگر ہو نہیں سکا ۔ جب پورے ملک میں سوشل میڈیا کی معرفت اس خاتون کی اس تازہ حرکت ( جسے قومی سلامتی کے منافی کہا گیا ہے ) بارے عوام نے بجا طور پر جینوئن سوالات اٹھانے شروع کر دئیے تو حکومت کو بھی گرمی اور معاملے کی حساسیت کا کچھ احساس ہُوا ؛ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ حکومت کی طرف سے کہاگیا کہ اس خاتون بارے انکوائری بھی شروع ہو گئی ہے اور یہ بھی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ یہ اُس حساس کمرے تک پہنچی کیسے ؟ اس اعلان کے فوراً بعد اس خاتون نے بھی سوشل میڈیا پر معذرت اور معافی مانگی لیکن ابھی تک حکومت کی مبینہ انکوائری کا کچھ معلوم نہیں ہے کہ یہ کہاں تک پہنچی ؟ یوں ہم گمان کر سکتے ہیں کہ انکوائری کو دانستہ دبا دیا گیا ہے یا سرے سے اسے شروع ہی نہیں کیا گیا کیونکہ اس ”داستان” میں کئی پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہوں گے ۔یہ اعمال اور مظاہر ایسی حکومت میں پیش آ رہے ہیں جو اعلان کررہی ہے کہ وہ پاکستان کو ”ریاستِ مدینہ” کی شکل دینا چاہتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ رحیم شاہ ایسے سانحات ایسے ممالک اور خطوں میں وقوع پذیر ہوتے ہیں جہاں بوجوہ قانون اور اخلاق کی بالادستی ہوتی ہے نہ واضح حاکمیت ۔ قانون کی حاکمیت ختم ہو جائے تو پھر نہ تو ماڈل ٹاؤن کے درجن بھر مقتولین کے قاتلوں کی نشاندہی ہوتی ہے ، نہ سانحہ ساہیوال کے سفاک قاتلوں کو سزا ملتی ہے اور نہ ہی ایک غریب، بیگناہ، گونگے شخص ( صلاح الدین ایوبی) کو تھانے میں بند تشدد کرکے قتل کرنے والے قانون کے تحت قرارواقعی انجام کو پہنچتے ہیں ۔ایسے معاشرے میں ہر وہ شخص جس کے ہاتھ لمبے ہوں ، جو مالی اور سماجی اعتبار سے طاقتور اور تگڑا ہو ، جس کے پاس تگڑی سفارش ہو ، وہ قانون کو محض مکڑی کا کمزور جالا سمجھتا ہے جسے توڑنا اور پامال کرنا نہائت آسان رہتا ہے ۔راز دان اندرونِ خانہ کا کہنا ہے کہ رواں برس ، صرف ایک سال میں پنجاب کے تھانوں میں 950بیگناہ افراد پر قیامت خیز، تھرڈ ڈگری تشدد ڈھایا گیا ہے ۔ اسکے نتیجے میں 13افراد زندگیوں سے ہار گئے لیکن کسی قاتل کو سزا نہ دی جا سکی ۔ اب قیامت کے روز ہی شائد یہ مقتولین طاقتوروں کے گریبان پکڑ سکیں گے اور اللہ تعالیٰ سے انصاف حاصل کر سکیں گے ۔ تحریکِ انصاف کی حکومت میں تو ان بیگناہوں کو انصاف ملنے سے رہا۔ لیکن انصاف کیلئے یومِ حشر کا انتظار کیوں کیا جائے ؟شاعر محبوب عزمی شائد اِسیلئے تڑپ کر کہتا ہے:
موقوف ہے کیوں حشر پہ انصاف ہمارا
قصہ جو یہاں کا ہے تو پھر طے بھی یہاں ہو !
صاف دِکھ رہا ہے کہ وطنِ عزیز میں امیر کیلئے الگ اور غریب کیلئے الگ قوانین مروج ہیں ۔ یہ کوئی داستانِ امیر حمزہ ہے نہ کوئی راکٹ سائنس ہے جسے سمجھنا دشوار ہے ۔ یہ مناظر آئے روز ہمارے سامنے وقوع پذیر ہو رہے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کرپشن کے جرم میں سزا یافتہ شخص ، نواز شریف ، کو کبھی طبّی بنیادوں پر یہ ریلیف ہر گز نہ ملتا کہ آٹھ ہفتوں کے لئے اُس کی سزا معطل کر دی جاتی ، صرف اسلئے کہ وہ جیل سے باہر رہ کر اپنی مرضی کا علاج کروا سکے ۔ کیا ایسا ہی ریلیف آج تک پاکستان کی 72سالہ تاریخ میں کسی ایک غریب مجرم اور سزایافتہ قیدی کو بھی کبھی فراہم کیا گیا ہے ؟کیا کسی تہی دست اور بے وسیلہ سزا یافتہ بیمار قیدی کو 24گھنٹے میڈیکل نگرانی کیلئے ڈاکٹر میسر رہا ہے جیسا کہ نواز شریف کو فراہم کئے گئے ؟ کیا کبھی کسی غریب اور بیمار قیدی کو سرکار کی سرپرستی میں جیل سے نکال کر اُس کے من پسند ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جیسا کہ دولتمند ، بارسوخ اور مقتدر میاں محمد نواز شریف کو سہولتیں دی گئی ہیں ؟ ان سہولتوں اور سہولت کاروں کا سارا ملک اور اس کے 22کروڑ عوام عینی شاہد بن گئے ہیں ۔ ملک بھر میں یہی بات زبان زدِ خاص و عام ہے کہ مجرم نواز شریف کو مبینہ طور پر حکومت ملک سے باہر نکالنا چاہتی ہے اور اس عمل کو ”انسانی ہمدردی اور طبّی ضرورت” کا نام دیا جا رہا ہے ۔ انسانی ہمدردی ایک بیش قیمت اثاثہ ہے ۔ یہ انسان کا خاص وصف ہے کہ انسانیت ہی اُسے حیوانوں سے جدا اور ممتاز کرتی ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی کئی بنیادی سوالات بھی منسلک ہیں۔ملک بھر کی جیلوں میں لاکھوں قیدی ہیں ۔ ان میں ہزاروں بیمار بھی ہوں گے اور ان میں سے لاتعداد ایسے بھی ہوں گے جنہیں مہلک اور خطرناک بیماریاں لاحق ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان غریب ، بے آواز اور لاچار بیمار قیدیوں کو ایسی ہی سہولتیں دینے کیلئے قانون کبھی حرکت میں آیا ہے ؟ ہو سکتا ہے کبھی ایسا ہُوا بھی ہو مگر ہماری نظروں سے کبھی ایسی کوئی مثال نہیں گزری ۔آٹھ ہفتوں کیلئے نواز شریف کو یہ سہولت دوسری بار فراہم کی گئی ہے ۔پہلے یہ سہولت چھ ہفتوں کیلئے تھی لیکن میاں صاحب اس سے مناسب انداز میں استفادہ نہ کر سکے۔ کیا ایسی عنایات کی ہمارے ہاں پہلے بھی کوئی نظیر ملتی ہے؟ طبّی بنیادوں پر جو حق بیمار اور قید نواز شریف کو ملا ہے ، ویسا ہی انصاف ، ایسی ہی بنیاد پر ، دیگر زندانیوں کا نصیب کیوں نہیں بن سکتا ؟ کیا صرف اسلئے کہ یہ قیدی بے بس اور بے نوا ہیں؟ پاکستان تو اسلئے معرضِ عمل میں لایا گیا تھا کہ یہا ں برابری اور مساوات کا چلن ہوگا اور عدالتوں کا پلڑا سب کے لئے یکساں رہے گا۔ لیکن عدالتوں کا جو احوال ہمارے سامنے ہے ، کیا سینے پر انصاف سے ہاتھ رکھ کر کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر شخص کو بلا امتیاز انصاف فراہم کیا جارہا ہے ؟ اور یہ فوری بھی ہے ؟ سچی اور کڑوی بات تو یہ ہے کہ انصاف کے حصول کیلئے پاکستان کے تہی دستوں کو عشروں تک منتظر رہنا پڑتا ہے ۔ ایسی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں کہ ملزمان پھانسی پر چڑھ چکے تھے اور اُن کے مرنے کے بعد اُنہیں عدالت سے رہا کر دیا گیا ۔ ایسے انصاف پر صرف ہنسا ہی جا سکتا ہے ۔ معروف کہاوت ہے : انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار ہے !! کیا اس کہاوت کو ہم سب اپنی نظروں سے نہیں دیکھ رہے ؟ تازہ ترین سانحہ ہی ملاحظہ کر لیجئے : 31اکتوبر2019ء کو پنجاب کے مشہور شہر رحیم یار خان کے نزدیک ، لیاقت پور میں کراچی سے لاہور جانے والے ٹرین (تیز گام) میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی ۔ اس آتش زنی کے نتیجے میں 6درجن سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ جو شدید جھلس کر موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں ، اُن کی تعداد بھی درجنوں میں ہے ۔ ریلوے وزیر شیخ رشید احمد اور حکومتی موقف ہے کہ مذکورہ ٹرین میں سفر کرنے اور تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے مسافروں نے صبح سویرے ٹرین میں رکھے اپنے گیس کے چولہے پر ناشتہ بنانے کی کوشش کی تو آگ بھڑک اُٹھی ۔ لیکن بچ جانے والے متعدد مسافروں کی عینی شہادت ہے کہ آگ اسلئے لگی کہ بوگی میں بجلی کا سرکٹ شارٹ ہو گیا تھا لیکن ریلوے حکام اور مینٹی ننس کرنے والوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ بڑی بڑی ڈینگیں مارنے اور بڑیں ہانکنے والے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی کوشش ہے کہ اس آگ کو مسافروں کا قصور ثابت کرکے اپنی جان چھڑا لیں ۔ اُنہوں نے جاں بحق ہونے والے فی مسافر کو 15لاکھ ر وپے اور ہر زخمی کو پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان تو کیا ہے لیکن موصوف اپنی نااہلی اور نالائقی قبولنے کیلئے ہر گز تیار نہیں ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان بھی سمجھتے ہیں کہ مرنے والوں کیلئے افسوس میں ایک ٹویٹ کرکے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئے ہیں ۔ جناب والا، ایسا نہیں ہوگا ۔ آپ سب کو ان چھ درجن سے زاہد ہلاکتوں کا حساب دینا ہوگا ۔ پچھلی حکومت میں ، جبکہ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق تھے، جب بھی بد قسمتی سے ملک میں کہیں ریلوے کا حادثہ ہوتا تھا ، عمران خان ترنت پریس کانفرنس کرتے اور مطالبہ کرتے کہ وزیر ریلوے کو مستعفی ہونا چاہئے ۔ یہ مطالبہ درست بھی تھا لیکن سوال یہ ہے کہ اب اُن کی اپنی حکومت میں ٹرین کا یہ خوفناک اور ہلاکت خیز سانحہ رونما ہُوا ہے تو عمران خان صاحب اپنے وزیر ریلوے سے استعفیٰ کیوں نہیں لے رہے ؟ سارے ملک میں ایک ہی آواز اُبھررہی ہے کہ شیخ رشید مستعفی ہوں لیکن نہ تو عمران خان اپنے وزیر سے استعفیٰ لے رہے ہیں اور نہ ہی وزیر موصوف غیرت مند بن کر خودوزارت سے مستعفی ہونے کے لئے تیار ہیں ۔ یہ ایک افسوسناک منظر ہے جو کسی بھی طرح عمران خان کی حکومت اور کابینہ کیلئے باعثِ فخر نہیں ہے ۔ بنیادی سوال پھر وہی ہے : مقتولین کو انصاف کی فراہمی !! ٹرین سانحہ میں 80 کے قریب جاں بحق ہونے والے اب پاکستان کی عدالتوں اور وزیر اعظم عمران خان سے بجا طور پر انصاف مانگ رہے ہیں ۔ یہ انصاف ایسی ہی صورت میں فراہم کیا جا سکتا ہے جب پاور فُل اور خود مختار کوئی کمیشن اس سانحہ کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کرے ۔ یقیناً یہ تحقیقاتی کمیشن ذمہ داروں تک پہنچ جائے گا جنہیں فوری سزا بھی دینی چاہئے اور مرنے اور زخمی ہونے والوں کو حکومت مزید معاوضہ بھی ادا کرے ۔ حکومت پندرہ پندرہ اور پانچ پانچ لاکھ روپے کا اعلان کرکے سرخرو اور آزاد نہیں ہو سکتی ۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ متاثرہ ریل کوچز عجلت میں تیار کی گئی تھیں۔ اس دوران سیفٹی کے معاملات کمپرومائز کئے گئے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آگ میں جل جانے والی مذکورہ ٹرین میںزنجیری بریک بھی کام نہیں کررہے تھے ۔ ان سب امور کی تحقیقات ہونی چاہئیں ۔ ویسے وزیر ریلوے کے بارے میں یہ بات مستحکم ہو چکی ہے کہ اُنہیں ہر کام آتا ہے سوائے ریلوے کی وزارت چلانے کے ۔ جتنی محنت وہ اپنے سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے اور تبرّا کرنے میں کرتے ہیں ، اگر اتنی محنت اور توجہ اُنہوں نے ریلوے کے معاملات پر دی ہوتی تو ہمیں یقین ہے کہ لیاقت پور کا یہ سانحہ کبھی رُونما نہ ہوتا ۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ شیخ رشید احمد سے وزارت کا قلمدان واپس لے لیا جائے ۔ جب سے وہ وزیر ریلوے بنے ہیں ، پچھلے 16مہینوں میںپاکستان ریلوے میں 100 کے قریب سانحات و حادثات پیش آ چکے ہیں، جس میں 400 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ گویا ہر ماہ 6 سے زائد حادثات ہُوئے ہیں۔ یہ انتہائی شرم اور نااہلی کا مقام ہے ۔ اس کے باوجود موصوف وزارت سے لسوڑے کی طرح چپکے ہُوئے ہیں ۔ ہمیں اُمید ہے کہ شیخ رشید کے خلاف اگر کوئی عدالتی انکوائری کروائی جائے تو وہی ان جانکاہ حادثات کے واحد ذمہ دار قرار دئیے جائیں گے ۔ شیخ صاحب اسلام آباد پر یلغار کرنے والے مولانا فضل الرحمن کے بارے میں تو منہ بھر کر طنز اور تبرّا کرتے ہیں لیکن اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرنے پر تیار نہیں ہیں ۔ لیکن عدالت ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر سکتی ہے کہ یہ عدالت ہی ہے جس نے جے یو آئی ( ایف) کے ایک لیڈر ( حافظ حمداللہ) کی شہریت منسوخ کئے جانے کے سرکاری اقدام کو معطل کرکے متاثرہ شخص کو ریلیف دیا ہے اور جے یو آئی (ایف ) کے دوسرے شخص (مفتی کفائت اللہ) کی حراست کے خلاف ضمانت دی ہے ۔ ان دونوں عدالتی اقدامات پر مذکورہ احتجاجی تنظیم مطمئن ہے لیکن وہ حکمرانوں کے خلاف اسلام آباد میں دھرنے دینے اور جلوس نکالنے سے باز نہیں آ رہی ہے ۔ ان سطور کی لکھائی تک مولانا فضل الرحمن اسلام آباد میں ڈٹے ہُوئے ہیں ۔ یہ منظر عمران خان کی حکومت کے اعصاب پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے ۔ مولانا موصوف اپنے کارڈ شو نہیں کروا رہے ، اسلئے اُن کے اتحادی بھی مخمصے میں ہیں ۔ شائد یہ مخمصہ ہی ہے جس نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو مولانا فضل الرحمن کے ساتھ پوری طاقت اور عددی قوت سے کھڑا نہیںہونے دیا ۔ مولانا صاحب اس طرزِ عمل سے ناراض تو ہیں لیکن ایک دانشمند سیاستدان ہونے کے ناتے وہ ان دونوں اتحادی جماعتوں کے بارے میں کوئی ناراضی کا لفظ ادا نہیںکررہے ۔ اُن کے جذبات مجروح بھی ہیں کہ لاہور میں زیر علاج میاں نواز شریف نے اُن سے ملنے سے انکار کر دیا ۔ ان جملہ کمزوریوں کے باوصف مولانا موصوف میدان میں کھڑے ہیں اور خانصاحب کی حکومت کو للکار رہے ہیں کہ استعفیٰ لے کر ہی واپس جاؤں گا۔ وہ اسلام آباد میں کتنے دن دھرنا دیں گے ، اس بارے میں بھی وہ کھل کر نہیں بتا رہے ۔ بس یہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں دو تین دن بیٹھ کر حکومت کو مہلت دیں گے ، اور اگر مولانا صاحب کے مطالبات پورے نہیں ہوتے تو اس کے بعد وہ اپنے اگلے اقدام کا اعلان کریں گے ۔ اس صورت نے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو یقیناً پریشان کررکھا ہوگا ۔ اسی پریشانی اور دباؤ کا نتیجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کا ضروری دَورہ بھی ملتوی کر دیا ہے ۔ حالات سخت سنگین اور نازک ہیں کہ ملکی معیشت کی کشتی ڈانوا ڈول ہے اور دشمن نے بھی چاروں اطراف سے گھیرا ڈال رکھا ہے ۔ مولانا صاحب کی پیدا کردہ اس سنگینی سے بچا جا سکتا تھا اگر عمران خان اور اُن کے وزیر مشیر مولانا فضل الرحمن کو ہلکا نہ لیتے اور اُ ن کی تضحیک نہ کرتے ۔ اور مہذب لہجہ اختیار کرتے۔ ملکی سلامتی اور بد سے بدتر ہوتی معیشت کا تقاضا یہ ہے کہ حکمران طبقہ احتجاجی اور مشتعل مولانا سے مل کر درمیان کا کوئی راستہ فوری نکالیں، اس سے پہلے کہ تاخیر ہو جائے !!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.