Daily Taqat

وزیر اعظم عمران خان کا تاریخی خطاب اور قومی سلامتی کمیٹی کو اہم ترین بریفنگ

وزیراعظم جناب عمران خان کے خطاب کی ہر طرف شہرت ہے ۔یہ خطاب اُنہوں نے قومی اسمبلی کے اُس اجلاس سے کیا ہے جس میں بجٹ کی منظوری کو فائنل شکل دی گئی ۔ عمران خان کا خطاب اپوزیشن کے سبھی ارکان نے جس صبر سے سُنا، اس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی قوتِ مزاحمت دم توڑ چکی ہے اور وزیر داخلہ شیخ رشید کا یہ کہنا درست لگتا ہے کہ یہ اپوزیشن تاریخ کی سب سے نااہل اپوزیشن ہے ۔ بجٹ کے دوران حکومتی ارکان نے اپوزیشن لیڈر، شہباز شریف ، سے جس طرح کا توہین آمیز سلوک کیا، عمران خان کی تقریر کے دوران اسی اپوزیشن کی طرف سے مکمل سکون نظر آیا۔ اس کاکیا مطلب اخذ کیا جائے ؟کیا اس اپوزیشن سے عوام یہ توقع رکھ سکتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ یا پارلیمنٹ سے باہر عوام کے دکھوں کا مداوا کرے گی ؟ یا حکومت کے سامنے عوام دشمن مالی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصے کی ترجمانی کرنے کی ہمت رکھے گی؟ اپوزیشن نے اپنے تازہ روئیے سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اُس کے دعووں پر پاکستان کے عوام کو یقین اور اعتماد نہیں رکھنا چاہئے ۔ اسلئے کہ یہ قومی اسمبلی کی اپوزیشن ہی تھی جس کے لیڈر میاں شہباز شریف نے اسمبلی کے فلور پر ببانگِ دہل اعلان کیا تھا کہ ہم یہ ”عوام دشمن ”بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے ۔ اور جس روز یہ بجٹ منظور ہُوا، اُس روز شہباز شریف اسمبلی ہی میں موجود نہیں تھے ۔ اسے کہتے ہیں ”اصلی تعاون” ۔ عام فہم زبان میں اسے مک مکا بھی کہا جاتا ہے ۔ وزیر اعظم کی تقریر کے دوران اگر شہباز شریف غیر حاضر تھے تو وہاں احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی بھی نہیں تھے ، اختر مینگل بھی موجود نہیں تھے اور مولانا فضل الرحمن کے ایم این اے صاحبزادے مولانا اسعد مدنی بھی وہاں نہیں پائے گئے ۔اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی نہیں تھے اور نہ ہی ایوان میں ایم این اے آصف علی زرداری موجود تھے ۔ ان حالات میں وزیر اعظم عمران خان نے بڑے تحمل اور پُر سکون لہجے میں قومی اسمبلی سے خطاب کیا۔ اُن کے خطاب میں بجٹ کے بارے میں گفتگو تو نہ ہونے کے برابر تھی البتہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بارے وہ خوب بولے اور عوامی جذبات کی بھرپور ترجمانی کی ۔ مثال کے طور پر وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں فرمایا:” امریکا کے ساتھ ہم افغانستان میں امن کے شراکت دار ہو سکتے ہیں لیکن جنگ میں ساتھ نہیں دے سکتے’امریکی جنگ میں شامل ہونا ہماری حماقت تھی’امریکا نے تعاون کو سراہنے کی بجائے ہمیں برا بھلا اور افغانستان میں ہم پر ڈبل گیم کھیلنے کا الزام لگایا’پاکستان کو افغانستان میں اپنی پسندکی حکومت نہیں چاہئے’ہم افغانستان میں تزویراتی گہرائی نہیں’ امن چاہتے ہیں۔کہیں کسی نے یہ بات سنی ہے کہ آپ کا اتحادی ہی آپ پر بمباری کر رہا ہ؟اگر یہ صحیح ہیں تو کیاہم 30سال سے لندن میں بیٹھے اپنے دہشت گردپر ڈرون حملہ کرسکتے ہیں؟ ہم اسے ڈرون ماریں گے تو کیا برطانیہ اجازت دے گا؟اگر وہ اجازت نہیں دے رہے تو ہم نے کیوں ( امریکیوں کو ) اجازت دی تھی، کیا ہم آدھے انسان ہیں، کیا ہماری جانوں کی کوئی قدر نہیں ہے۔ ڈرون حملوں پر ہماری حکومتوں نے عوام سے جھوٹ بولاتھا۔اس ساری صورتحال میں دنیا نے نہیں بلکہ ہم نے خود اپنی تذلیل کی۔اس کے باوجود ہم کہتے ہیں کہ دنیا ہماری عزت کیوں نہیں کر رہی۔ پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے’5اگست 2019ء کا اقدام واپس لینے تک بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال نہیں ہوں گے، ہم اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔” 30جون 2021ء بروز بدھ قومی اسمبلی سے وزیر اعظم عمران خان کے اس خطاب کی بازگشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے ۔اس خطاب کو بجا طور پر تاریخ ساز کہا جانا چاہئے ۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا:” جب وہ اپوزیشن میں تھے اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اپوزیشن کے بنچوں پر بیٹھے تھے، اس وقت پاکستان نے امریکہ کا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ جو ذلت اس وقت میں نے محسوس کی وہ کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ اس جنگ سے ہمارا کیا تعلق تھا، القاعدہ اور مسلح طالبان افغانستان میں تھے، ہمارا کوئی واسطہ ہی نہیں تھا۔ ہم نے اس جنگ میں اپنے 70 ہزار لوگوں کی قربانیاں دیں، 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا۔ ہمارے ملک کو دنیا کا خطرناک ملک قرار دیا گیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے شہریوں کو گوانتاناموبے بھیجا۔ اگر حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت نہیں کرے گی تو کون کرے گا۔امریکا کے کہنے پر ہم نے القاعدہ کے چند سو جنگجوئوں کے پیچھے قبائلی علاقوں میں افواج بھیجیں حالانکہ قبائلی ہمارے اپنے لوگ تھے، ان پر ڈرون حملے کئے گئے،یہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین وقت تھا۔ ہمیں دوست اور دشمن میں فرق نظر نہیں آرہا تھا۔ کہیں کسی نے یہ بات سنی ہو کہ آپ کا اتحادی ہی آپ پر بمباری کر رہا ہو۔ جب اسامہ بن لادن پر حملہ ہوا تو سمندر پار پاکستانی چھپتے پھر رہے تھے،کیا امریکا کو ہم پر اتنا بھی اعتماد نہیں تھا کہ وہ ہمیں ٹارگٹ دیتا اور ہم خود کارروائی کرتے۔ ہم دوست تھے یا دشمن؟ ہماری ساری عزت نفس ختم ہوگئی تھی؟ افغانستان میں ہمارے لئے مشکل وقت آرہا ہے، افغانستان میں امریکہ کا اور ہمارا مفاد ایک ہے’اب جبکہ امریکی افواج افغانستان سے نکل رہی ہیں تو وہ پاکستان کو یہ کہتے ہیں کہ وہ افغانیوں کو مذاکرات کی میز پر لائے”۔وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے جو تاریخی خطاب کیا ہے اور جس طرح واضح الفاظ میں پاکستان کی بھارت اور امریکہ کے حوالے سے خارجہ پالیسی کے خدوخال کا اظہار فرمایا ہے ، مجموعی طور پر اس خطاب سے پاکستان کی ساری قوم نے اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا ہے ۔ پاکستانیوں کو خوشی اس بات کی زیادہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ بہادر کی پاکستان کے خلاف سابقہ زیادتیوں کا بھی اظہار کیا ہے اور امریکہ کو یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان اُس کی کوئی باجگزار ریاست نہیں ہے کہ پاکستان ، امریکی احکامات کی تابعداری بھی کرے اور امریکی جھڑکیاں اور گھرکیاں بھی برداشت کرے ۔ عمران خان صاحب کے اس خطاب سے بھارت اور امریکہ کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور اُنہیں اپنی اوقات میں آجانا چاہئے ۔ خانصاحب کا یہ خطاب ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب افغانستان سے امریکی و نیٹو افواج کا انخلا تیزی سے جاری ہے ، افغان طالبان کی پیشقدمیاں جاری ہیں اور کابل کی حکومت کمزور سے کمزور تر ہوتی جارہی ہے ۔ اسی پس منظر میں امریکہ نے مبینہ طور پر پاکستان سے اڈوں کی فرمائش بھی کی تھی تاکہ وہ وہاں بیٹھ کر افغان طالبان اور القاعدہ وداعش پر نظر رکھ سکے ۔ پاکستان نے مگر اس بارے صاف انکار کر دیا ہے ۔ امریکہ کو اس بارے سخت تکلیف پہنچی ہے کہ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پاکستان ایسا ملک اس قدر صاف گوئی سے اس کے مطالبے کے سامنے انکار بھی کر سکتا ہے ۔جناب عمران خان کا موقف امریکیوں کے سامنے پوری طرح عیاںہو چکا ہے اور چیں بہ جبیں بھی ہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ افغانستان میں 20سال رہنے کے باوجود اور کھربوں ڈالرز خرچ کرنے کے باوصف امریکہ افغانستان میں نہ تو سیاسی استحکام لا سکا ہے، نہ معاشی خوشحالی اور نہ ہی فوجی پائیداری ۔ آج افغان نیشنل آرمی ایک کمزور قوت کے طور پر دنیا کے سامنے ہے اور مسلسل افغان طالبان کے سامنے پسپائی اختیار کررہی ہے ۔ یہ ساری صورتحال امریکہ اور امریکی دانشوروں کیلئے شدید پریشانی کا باعث بن رہی ہے اور وہ مکاری سے اس امریکی ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتے ہیں ؛ چنانچہ اسی پس منظر میں ایک امریکی تھک ٹینک ( ICG) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کو دھمکانے کی ناکام کوشش کی ہے ۔ یکم جولائی 2021ء کو اسی تھنک ٹینک کے زیر سر پرستی ایک بین الاقوامی رپورٹ نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ :افغانستان سے غیر ملکی افواج کے تیزی سے انخلا، امن مذاکرات میں تعطل اور بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے پاکستان کی ان کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو افغانستان میں اقتدار کی تقسیم کے انتظامات کے ذریعے طالبان کی مبینہ طور پر کابل واپسی سے متعلق ہیں۔ایک انگریزی معاصر کی رپورٹ کے مطابق ‘انٹرنیشنل کرائسز گروپ’ نامی امریکی تھنک ٹینک کی ‘پاکستان: افغان امن عمل کی سپورٹ’ نامی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغان امن عمل تیز تر ہوتا ہے یا پوری طرح سے ناکام ہوجاتا ہے، کسی بھی صورت میں اسلام آباد کے کابل اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں گے”۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ:” افغانستان میں مزید عدم استحکام یا طالبان کی کامیابی سے پاکستانی عسکریت پسندوں کو ان کے افغان ہم منصبوں کے ساتھ جوڑ کر پاکستان میں عدم تحفظ کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔ پاکستان عدم اعتماد کو کم کرنے کے لیے کابل سے بات کرے۔ پاکستان کو اپنے تعلقات کی بنیاد پر حاصل اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تشدد کو کم کرنے اور دوسرے افغان اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اقتدار میں شیئرنگ کے انتظامات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ افغانستان کا مسئلہ حل کرنے کے دوران پاکستان میں عسکریت پسند گروہ خصوصاً پاکستانی طالبان کی حوصلہ افزائی ہوگی اور ایک مرتبہ پھر افغان مہاجرین کی آمد کا سبب بن سکتا ہے”۔ امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں پاکستان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ طالبان کو پُرامن مذاکرات کے لیے راضی کرنے میں ناکامی کی صورت میں واشنگٹن اور کابل کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تناؤ کا شکار ہوں گے، اس لیے طالبان کو افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے اپنے کردار کو مزید فعال طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے افغان امن عمل کی حمایت کی ہے کیونکہ وہ اپنے پسندیدہ انتخاب یعنی طالبان کی اقتدار میں شراکت کو ترجیح دیتا ہے۔تھنک ٹینک نے وضاحت کی ہے کہ طالبان ‘سودے بازی کی پوزیشن’ کو مستحکم کرنے کے لیے تشدد کر رہے ہیں جس سے کابل کے مؤقف میں بھی سختی آئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے 11 ستمبر 2021ء تک تمام امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کے فیصلے سے ‘تنازع میں شدت پیدا ہونے سے پہلے ہی امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ٹائم لائنز سخت کردی ہیں’۔رپورٹ کے مطابق بین الافغان مذاکرات 12 ستمبر 2020ء کو قطر میں شروع ہوئے اور پاکستان کی فوجی اور عوامی قیادت نے ‘متعدد مرتبہ اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں تنازعات کا خاتمہ صرف سیاسی تصفیے سے ہی ممکن ہے’۔اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ افغانستان میں عسکریت پسندوں کی عسکری مفاد حاصل کرنے کی جستجو سے مزاحمت کاروں پر پاکستانی اثر و رسوخ تنزلی کا شکار ہے”۔ مذکورہ امریکی تھنک ٹینک نے نہائت عیاری سے افغانستان میں امریکی افواج کی مکمل ناکامی کا ملبہ اور گند پاکستان پر ڈالنے کی بزدلانہ کوشش کی ہے ۔ ہم اُمید رکھ سکتے ہیں کہ پاکستان کے ذمہ دار حلقوں کی جانب سے فوری طورپر اس کا جواب دیا جائیگا ۔وزیراعظم عمران خان کے قومی اسمبلی سے شاندار خطاب اور امریکی تھنک ٹینک کی مذکورہ بالا رپورٹ کے انہی ایام میں یکم جولائی 2021ء کو اسلام آباد میں ایک نہائت اہم ڈویلپمنٹ بھی دیکھنے میں آئی ۔ اس کا تعلق بھی افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال سے تھا۔ اور یہ ڈویلپمنٹ تھی :قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کشمیر اور افغانستان پر بریفنگ۔ اطلاعات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ اس میں سیاسی و پارلیمانی قیادت نے شرکت کی اور آئی ایس آئی کے ڈی جی نے اس کمیٹی کو خارجہ اُمور، داخلی سلامتی ، اندرونی چیلنجز ،خطے کی تبدیلیوں سے آگاہ کیا۔ اس اجلاس اور بریفنگ کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے ۔ سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس اجلاس میں شریک تھے ۔ البتہ وزیر اعظم جناب عمران خان نے بوجوہ اس اجلاس میں شریک ہونا پسند نہیں فرمایا۔ اللہ کرے اس بریفنگ سے ملک بھر کی سیاسی جماعتوں میں ملک کی خاطر یکجہتی و استحکام بارے ایک نئی اور تعمیری سوچ بھی جنم لے ۔ ہماری تو یہی دعا ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »