Daily Taqat

وزیر اعظم کا خطاب، آئی ایم ایف کا عذاب اور حکمرانوں کی فضول خرچیاں

پاکستان کی ساری معیشت قرضوں پر چل رہی ہے ۔ سارے ملک کے سارے شہری عالمی قرض خواہوں کی گرفت میں ہیں ۔ پاکستان کی انہی کمزوریوں کے باعث عالمی ساہوکار اداروں کے نخرے اور جبر بھی روز افزوں ہیں ۔حیرانی کی بات ہے کہ سابق وزیر اعظم جناب عمران خان موجودہ وزیر اعظم جناب شہباز شریف کی اسلئے بھی مخالفت کررہے ہیں کہ یہ حکومت آئی ایم ایف کی ”ملک دشمن” شرائط مان چکی ہے ۔ حالانکہ خانصاحب اور اُن کی حکومت بھی آئی ایم ایف کے سامنے در بدر ہو رہی تھی ۔خان صاحب کی کذب بیانیوں کے پس منظر میں گذشتہ روزاسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا :”گزشتہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ وہ قیمتوں کو بڑھائے گی، گزشتہ خان صاحب کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ یہ بھی معاہدہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں بھی 30 روپے کا اضافہ کیا جائے گا۔تحریک انصاف کی حکومت نے جو معاہدہ کیا بعد میں ان تمام شرائط کی دھجیاں بکھیر دیں جن کی مثال یہ ہے کہ مارچ میں دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں مگر تحریک انصاف کی حکومت نے قیمتوں کو کم کیا۔ ساڑھے تین برس کی حکومت میں ان کو یہ یاد نہیں آیا کہ غریب عوام کو ریلیف دیں مگر رواں برس مارچ میں جب انہوں نے دیکھا کہ شکست ان کا مقدر ہے تو پھر اچانک تیل کی قیمتیں کم کردیں۔رواں سال اپریل میں جب میں نے حلف اٹھایا تو سب سے پہلے یہ شاک لگا کہ گزشتہ حکومت نے فنڈ مہیا نہیں کیے تھے۔۔ ہمسایہ ممالک ہم سے آگے نکلے گئے اور ہم وہیں کے وہیں ہیں لیکن میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پرسوں چین نے ایسے حالات میں ہمیں 2.3 ارب ڈالر کا قرض دیا ہے۔ پاکستان کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ بے پناہ ہیں اور وہ اس لیے ہیں کہ 75 برس گزرنے کے باوجود اب بھی ہم کشکول لے کر پھرتے ہیں۔ میں چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر سمیت دیگر دوست ممالک کی بات ہمیشہ کرتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کا مالی طور پر، سیاسی طور پر اور سفارتی محاذ پر ساتھ دیا۔ وہ اقوام جو ہم سے بہت پیچھے تھیں اب وہ ہم سے بہت آگے نکل چکی ہیں وہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے راستے کا تعین کیا، وہ یکجا ہوگئے، اتحاد اور تنظیم کے ساتھ آگے بڑھے”۔وزیر اعظم جناب شہباز شریف نے مزیدکہا:” اب ماضی میں جھانکنے اور رونے سے کچھ نہیں ہوگا، ہمیں آج بھی اگر ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں اپنے حالات کی اصلاح کرنی ہے، قوم کی تقدیر بدلنی ہے تو ہمیں خود فیصلے کرنے ہوں گے۔ چین کب تک ہماری مدد کرے گا، چین کہتا ہوگا کہ یہ کب تک ہم سے مانگیں گے، اسی طرح سعودی عرب بھی سوچتا ہوگا کہ یہ ہمارے بھائی ہیں یہ کب اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے گندم، چینی اور دیگر اشیا پر سبسڈی دے کر ملک کا خزانہ خالی کردیا اور اسکینڈل پر اسکینڈل کرتے رہے جس کی وجہ سے ہم قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہیں اور مسلم لیگ کے قائد نواز شریف سمیت تمام قیادت اس بات پر دکھی ہے کہ قیمتیں بڑھ رہی ہیں لیکن سب کے ذہن میں ایک بات تھی کہ پہلے ریاست پھر سیاست، اگر ریاست ہوگی تو سیاست بھی ہوگی۔ آئی ایم ایف تلا ہوا تھا کہ معاہدے کی تمام شقیں پوری کی جائیں اور ہمیں اعتبار نہیں ہے، ریاست کا طرہ امتیاز ہوتا ہے کہ معاہدے کی پاسداری کی جائے، یا تو آئی ایم ایف کی شرطیں نہ مانتے کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے لیکن شرطیں مان کر ان پر دستخط کرنے کے بعد ان کی دھجیاں اڑا دیں، تو آئی ایم ایف نے کہا کہ آپ بھی تو پاکستان کی حکومت ہیں، ہم آپ پر کس طرح اعتبار کریں۔ آئی ایم ایف سے ہماری شرائط طے ہو گئی ہیں ۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کے نتیجے میں راتوں رات خوشحالی نہیں آئے گی، ہمیں اپنی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے جس کے بعد ورلڈ بینک اور ایشین بینک بھی ہم سے رجوع کریں گے اور آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد اسلامی ممالک سے بھی تعاون پروان چڑھے گا۔تاریخ میں پہلی بار امیر طبقے پر ٹیکس لگایا گیا ہے کیونکہ غریب آدمی نے ہر دور میں قربانی دی ہے اور وہ ہی پاکستان کا اصل معمار ہیں۔ پاکستان میں گیس کے ذخائر اب کم ہو رہے ہیں اور ہمیں اب گیس کی ضرورت ہے مگر گیس مل نہیں رہی کیونکہ پچھلی حکومت نے ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ گزشتہ حکومت نے چین پر اتنی غیرضروری تنقید کی، ان پر الزامات عائد کیے کہ سی پیک پلانٹس میں کرپشن ہوئی لیکن اس کے باوجود بھی چین نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم منصوبوں کو آگے بڑھائیں گے۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں قوم کو ترقی کی راہ پے لے جانا ہے اور ہم اس لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے”۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا خطاب اور اس کی معنویت اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اب پاکستان کا ہر شخص بلا تخصیص جانتا ، مانتا اور اس حقیقت پر یقینِ کامل رکھتا ہے کہ پیارے وطنِ عزیز کو حکمرانوں اور طاقتوروں کی کرپشن نے برباد کیا ہے ۔پاکستان کا ہر غریب اور تہی دست پاکستان کے کسی بھی دولتمند ، اسراف پسند اور طاقت کے نشے میں سرشار کسی مقتدر کو دیکھتا ہے تو میر تقی میر کے بقول پکار اُٹھتا ہے :امیر زادوں سے دِلّی کے مت ملا کر میر/ کہ ہم غریب ہُوئے ہیں اِنہی کی دولت سے!!پاکستان کے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں نے ایک عام پاکستانی کو معاشی طور پر جس طرح در بدر اور خوار کیا ہے ، اس ذلالت اور تہی دستی کا کوئی اثر اِن اہلِ زر ، مقتدروں اور سرکاری مراعات یافتہ گروہوں اور طبقات پر قطعی نہیں پڑ رہا۔ جب ملک کے سارے سرکاری وسائل پر یہ استحصالی طبقہ سانپ بن کر بیٹھا ہوگا تو وہ کیوں کسی غریب کا بھلا اور خیر خواہی کا مظاہرہ کرے گا؟ وہ اپنے ہی پیٹی بھائیوں ، اپنے ہی ہم منصبوں اور ہم نفسوں کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔حیرت مگر یہ ہے کہ اب جبکہ نئے حالات کے جبر کے تحت غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی کمانا ، بجلی گیس کے بل بھرنا، بچوں کی فیسیں ادا کرنا ، ادویات خریدنا ، ویگنوں اور بسوں پر سفر کرنا دشوار تر ہو چکا ہے، ہمارے ایک وفاقی وزیر صاحب نے تازہ ترین ارشاد فرمایا ہے کہ ”دُنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ہماری جتنی کرپشن کی لیکن وہ ترقی کر گئے ۔” یہ وزیر صاحب مبینہ طور پر خاصے پڑھے لکھے ، شائستہ مزاج اور مڈل کلاسئیے کہے جاتے ہیں لیکن وہ پاکستان میں کرپشن اور کرپٹ افراد کی مذمت کرنے کے برعکس یہ دلیل دے رہے ہیں کہ کرپشن جاری بھی رہے تو بھی ملک ترقی کر سکتا ہے ۔ تو پھرسوال کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کرپشن تو ”اعلیٰ ترین ”پیمانے پر ہو چکی ہے ، لیکن ترقی اعلیٰ ترین پیمانے پر نظر کیوں نہیں آ رہی ؟المیہ یہ ہے کہ جب غریب عوام اور مسائل پر نظر رکھنے والے اخبار نویس ایسے وزیروں کے ایسے بیانات پر استفسار کرتے ہیں تو سرکار کی جانب سے اُلٹا کہا جاتا ہے: لو جی، یہ لوگ تو ہر بات کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں ۔ یہی وزیر صاحب ابھی چند دن پہلے ہی پاکستان کی غربت کی ماری بے کس اور بے بس عوام کو مطالبہ کر چکے ہیں کہ ملک بچانا ہے تو اپنی چائے کی پیالیاں کم کر دیں ۔ارے، آپ لوگ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر غیر محتاط زبان کے خوگر کیوں ہو جاتے ہیں ؟ ایسی زبان کیوں بروئے کار لاتے ہیں جو غریب عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہو؟ المیہ اور ظلم یہ ہے کہ عوام سے قربانیاں مانگنے اور عوام کی کھال اُتارنے والے تو ہر دَور میں ہمارے اوپر مسلط ہوتے آ رہے ہیں لیکن عوام کی خاطر اپنی سرکاری مراعات، سہولتیں اور عیاشیاں کم کرنے پر تیار نہیں ہوتے ۔ چینی مہنگی ہوجائے تو حکمران عوام سے کہتے ہیں : چائے میں چینی کے کم دانے استعمال کر لیں گے تو کیا قیامت آ جائیگی؟ گھی اور کوکنگ آئل غریب کی پہنچ سے دُور ہُوا تو حکمران مشورہ دیتے ہیں کہ گھی استعمال نہ کریں ، سالن میں دہی ڈالا کریں ۔ ٹماٹر اور پیاز بازار سے غائب ہو کر آسمان سے لگ جائیں تو نہائت بے حسی سے حکمران طبقہ غریب عوام کو حکم دیتا ہے: ملک کی خاطر چند دن ٹماٹر اور پیاز نہیں کھائیں گے تو مر تو نہیں جائیں گے ۔ بلا تکان اور بے حسی سے یہ مشورے دئیے جاتے ہیں لیکن ہمارا ہر قسم کا حکمران طبقہ اپنی سرکاری مراعات میں رتی بھر کمی کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ ابھی اگلے روز اسلام آباد میں ہم نے یہ ظالمانہ تماشہ دیکھا کہ ایک وفاقی وزیر نے اپنے گھر والوں کیلئے ایک مہنگے ریستوران سے کھانا منگوانے کیلئے پانچ سرکاری اور مہنگی گاڑیاں مذکورہ ریستوران بھیج دیں ۔ سوشل میڈیا نے اس ظلم کو بے نقاب کیا تو حکمران بیک زبان بول اُٹھا: لیجئے، اب یہ سوشل میڈیا چائے کی پیالی میں طوفان اُٹھا رہا ہے ۔عام پاکستانی غریب آدمی کو ایک لٹر پٹرول خریدنا دشوار تر ہو رہا ہے اورایک وفاقی وزیر ہے کہ گھر والوں کیلئے بازار سے کھانا منگوانے کیلئے پانچ پانچ سرکاری گاڑیاں بازار بھیج رہا ہے اور اُسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ ان گاڑیوں پر کتنا پٹرول خرچ ہورہا ہے اور گاڑیوں کے ڈرائیورز کی سرکاری تنخواہوں میں غریب عوام کا خون پسینہ شامل ہے ۔ ہمارے بے حس اور استحصالی حکمرانوں کے اِنہی اللوں تللوں کے باعث غریب آدمی ویگن اور بس کے مہنگے کرایوں سے تنگ آ کر بائیسکل سواری پر آ گیا ہے ۔ اس کا بھی ہماری بدمعاشیہ مذاق اُڑاتی ہے اور کہتی ہے : سائیکل سواری سے صحت بنتی ہے ۔ خود مگر یہ بدمعاشیہ ایسی ”صحت” بنانے کی طرف مائل نہیں ہوتی ۔مہنگے پٹرول اور گراں ڈیزل نے غریب عوام کا بھرکس نکال دیا ہے ۔ لیکن ملک کی سرکاری اشرافیہ کو مفت پٹرول اور ڈیزل دئیے جانے کا سلسلہ بند نہیں کیا جا سکا ہے ۔ عوام چاہے بلکتے رہیں ۔ ایسے میں عوام سے ”ہم آہنگی” اور ”یکجہتی” دکھانے کیلئے یہ سرکاری مراعات یافتہ طبقہ ڈرامے کرنے سے بھی باز نہیں آتا ۔ مثال کے طور پر: پٹرول مہنگا ہُوا تو پیپلز پارٹی کے سینیٹر ، جناب بہرا مند تنگی، یوں سینیٹ میں بائیسکل پر تشریف لائے کہ ایک ملازم نے اُنہیں سائیکل پر براجمان کررکھا تھا اور ملازم خود سائیکل کے ساتھ ساتھ دَوڑ رہا تھا۔ یہ مزید ظلم کا منظر تھا۔ ہمارے سابق وزیر اعظم ، جناب عمران خان، نے بھی مغربی ممالک کے وزرائے اعظموں کے تتبع میں سائیکل پر دفتر جانے کا اعلان کیا تھا۔ عوام اس سادگی پر مر مٹے تھے لیکن خان صاحب نے سائیکل چلانے کا عملی مظاہرہ کرنے اور قوم کیلئے بچت کرنے کا مظاہرہ نہ کیا۔ اُلٹا ہیلی کاپٹر کو اپنے گھر اور دفتر کے درمیان بے دریغ گھماتے رہے ۔ اُن کے سرکاری پروٹوکول پر اب بھی ، جبکہ غریب عوام پرپٹرول کے بم آئے روز چلائے جارہے ہیں، ماہانہ کروڑوں روپے کا پٹرول صرف ہورہا ہے ۔ ہمارے سبھی حکمران ، جمہوری ہوں یا غیر جمہوری، اپنے اقدامات سے عوام کامذاق اُڑانے اور اُن کے زخموں پر نمک چھڑکنے میں یکساں خصوصیات کے حامل ہیں ۔ جنرل ضیاء الحق ایسے جابر آمر نے بھی ایک بار راولپنڈی میں سائیکل چلاکر اپنے دفتر پہنچنے کا مظاہرہ کیا تھا، یوں کہ سارے راولپنڈی کا دَم ناک میں آ گیا تھا۔ اچھا ہی ہُوا یہ مظاہرہ ایک ہی بار کیا گیا۔وگرنہ یہ آمرانہ شوق عوام پر ایک اور عذاب بن کر نازل ہوتا رہتا۔ ہمارے یہ حکمران بعض مغربی حکمرانوں کی نقل میں سائیکل سواری کا ڈھونگ رچانے کی ناکام کوشش کرکے خود اپنا بھی اور عوام کا مذاق اُڑاتے ہیں ۔ قوم کے ”غم” میں دُبلے ہونے والے ہمارے یہ حکمران کسی دن یوں کریں کہ اسلام آباد کی منسٹرز کالونی سے اپنے سبھی بچوں کو سائیکلوں پر اسکول اور کالج بھیجنے کا مظاہرہ کریں تو قوم بھی دیکھ سکے کہ ان مراعات یافتہ طبقات کے بچے دھوپ کی حدت سہتے ہُوئے، سردی کی شدت برداشت کرتے ہُوئے اور برساتوں کی بارشوں میں بھیگتے ہُوئے کیسے لگتے ہیں ؟ اور کیا محسوس کرتے ہیں؟ عوام سے ہر روز قربانی کا مطالبہ کرنے والے یہ مراعات یافتہ طبقات، کیا قوم و ملک کے وسیع تر مفاد اور قومی بچت کی خاطر ہمارے یہ وزیر، مشیر اور اعلیٰ ترین سرکاری افسر یہ چھوٹی سے قربانی بھی نہیں دے سکتے ؟


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »