Latest news

وزیر اعظم جناب عمران خان کی تین شاندار کامیابیاں

اپوزیشن نے بلند آہنگ دعووں کے ساتھ اسلام آباد میں اے پی سی کا کھڑاگ کیا۔انتخابات میں بُری طرح شکست خوردہ مولانا فضل الرحمن خیر سے اس اے پی سی کے میزبان بھی تھے اور مرکزی قائد بھی۔ اُن کی قیادت میں محترمہ مریم نواز شریف بھی اے پی سی میں شریک ہُوئیں ، شہباز شریف بھی وہیں موجود تھے، سندھ سے بلاول بھٹو زرداری بھی اور بلوچستان سے اچکزئی وغیرہ بھی ۔ بڑے اہتمام کے ساتھ وفاقی دارالحکومت میں یہ اکٹھ ہُوا ۔ دعوے یہ تھے کی حکومت کو تنکے کی طرح بہا لے جائیں گے لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں ہیں ، وہی محاورہ اپوزیشن کی اے پی سی کے لئے بھی درست بیٹھا ہے ۔ بلوچستان کے غبارے سے اُسی وقت ہوا نکل گئی تھی جب بلوچستان کے ممتاز سیاستدان اور رکن قومی اسمبلی جناب اختر مینگل نے اے پی سی میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ خانصاحب کی حکومت نے اختر مینگل کو جس خوش اسلوبی سے مینج کیا ہے ، اس کی داد دینی چاہئے ۔

سیاست میں مگر ایسا تو ہوتا ہی ہے ۔ یہ دراصل اتحادی سیاست کا شاخسانہ ہے ۔ اسلام آباد میں منعقدہ اے پی سی جس شدت سے فلاپ ہُوئی ہے ، سچی بات یہ ہے کہ ہمیں تو اس کی توقع ہی نہیں تھی ۔ یہ اے پی سی کہنے کو ہو تو گئی لیکن اس میں کوئی مقصدیت اور معنویت سرے سے تھی ہی نہیں ؛ چنانچہ جو نتیجہ نکلا ، یہی نکلنا چاہئے تھا۔ مذکورہ اے پی سی کا مرکزی نکتہ فقط ایک تھا: عمران خان سے دشمنی ۔ جب سے مولانا فضل الرحمن انتخابی سیاست سے آؤٹ ہُوئے ہیں ، تب سے اُن کی زبردست خواہش یہ ہے کہ کسی طرح اس اسمبلی اور حکومت کا تیا پانچا کر دیا جائے ۔

ہم یہ تماشہ دیکھ چکے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے گذشتہ برس اگست ہی میں یہ کوششیں شروع کر دی تھیں کہ منتخب نمائندگانِ قومی اسمبلی سرے سے حلف ہی نہ اُٹھائیں تاکہ اسمبلی پیدا ہوتے ہی موت کے گھاٹ اُتر جائے ۔ ایسا مگر نہ ہو سکا تھا کہ اس معاملے میں نہ تو نون لیگ نے اُن کا ساتھ دیا تھا اور نہ ہی پی پی پی نے ؛ چنانچہ مولانا صاحب کو منہ کی کھانا پڑی تھی لیکن وہ کوششیں تیز کرنے میں لگے رہے ۔ حالیہ اے پی سی دراصل اُن کی انہی کوششوں کا شاخسانہ تھی ۔ یہ دراصل عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ اے پی سی ناکامی سے دوچار ہُوئی ہے ۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ قدرت بھی خانصاحب کے ساتھ ہے لیکن قدرت کی اس فیاضی اور ہمرکابی کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ حکومت اور حکمران آپے سے باہر جائیں اور اپنے دھرے سے نکل جائیں ۔

جس وقت اے پی سی کی طرف سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا ، اُسی کے الفاظ سے ظاہر اور عیاں ہو گیا تھا کہ اے پی سی ٹھس ہو گئی ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ اعلامیہ کسی بھی خبر سے خالی تھا ۔ بعد ازاں مولانا فضل الرحمن نے جس بددلی سے پریس کانفرنس کی ، اُس سے بھی مایوسی ظاہر ہو رہی تھی ۔ پریس کانفرنس میں اُن کے دائیں بائیں بیٹھے شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی بے زاری بھی سب پر واضح ہو رہی تھی ۔ اس اے پی سی کا خلاصہ کیا سامنے آیا ہے ؟ صرف ”ایک رہبر کمیٹی ”۔ اور یہ رہبر کمیٹی کرے گی کیا، اس کے مقاصد اور خدو خال بھی ابھی تک سامنے نہیں آ سکے ہیں ۔ اے پی سی کی دوسری خبر یہ تھی کہ 25جولائی 2019ء کو اپوزیشن ملک بھر میں ”یوم ِسیاہ” منائے گی ۔

اپوزیشن کو یہ نام نہاد ”یومِ سیاہ” منانے کا پورا پورا حق حاصل ہے لیکن یہ دراصل اُن کے لئے ”یومِ شکست” ثابت ہوگا کہ اس ”یومِ سیاہ” کے عقب میں سوائے مولانا فضل الرحمن کے جذبہ انتقام کی تسکین کے سوا کچھ نہیں رکھا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے اے پی سی کے مذکورہ اجلاس میں مذہبی بنیادوں پر عمران خان کے خلاف فضا بھی ہموار کرنے کی مذموم کوشش کی لیکن اس کوشش کو پیپلز پارٹی کے قائد بلاول بھٹو زرداری نے ناکام بنا دیا ۔ ایسے معاملے میں بلاول بھٹو کی اس پختہ کوشش اور سوچ کی تحسین کی جانی چاہئے ؛ چنانچہ اِسی پس منظر میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا ایک خاص بیان بھی سامنے آیا ہے ۔اسی ہفتے عمران خان کو ایک اور کامیابی یہ بھی ملی ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے بسیار کوشش اور مخالفت کے باوصف قومی بجٹ کثرتِ رائے سے منظور ہو گیا ہے ۔ اپوزیشن کا دعویٰ تو یہ تھا کہ وہ بجٹ منظور نہیں ہونے دے گی لیکن خانصاحب نے اس محاذ پر بھی اپوزیشن کو چاروں شانے چِت کر دیا ہے ۔

اب اپوزیشن واویلا کررہی ہے کہ بجٹ دھاندلی اور دھمکیوں سے منظور کروایا گیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خانصاحب نے قومی اسمبلی سے ، بہت سی مخالفت کے باوجود، بجٹ منظور کروا کر ایک شاندار کارنامہ انجام دیا ہے ۔ اب اپوزیشن والے لاکھ بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اسمبلی میں تشریف لائیں لیکن جو کام ہونا تھا ، وہ تو ہو چکا ہے ۔ بجٹ کی اس منظوری پر ہماری طرف سے عمران خان کو مبارکباد کہ یہ کامیابی قومی نوعیت کی ہے ۔

ایک اور بات باعثِ مسرت یہ بھی ہے کہ سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب نے کھل کر حکومت کے حق میں بیان دیتے ہُوئے کہا ہے کہ حکومت کے مشکل فیصلوں کو کامیاب کرنے کیلئے ہم سب کو مل کر ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں ۔ یہ بیان دراصل اس امر کا بھی غماز ہے کہ عسکری قوتیں اور خان صاحب کی حکومت صحیح معنوں میں ایک ہی پیج پر ہیں ۔ وزارتِ خارجہ کے محاذ پر بھی دیکھا جائے تو عمران خان کی حکومت کو کئی تازہ کا میا بیاں ملی ہیں ۔مثال کے طور پر افغان صدر کا پاکستان کا دَورہ۔ ہم سب جا نتے ہیں کہ پاک افغان تعلقات میں پچھلے کئی برسوں سے کشیدگی چلی آرہی ہے ۔ بھارت اس کشیدگی کو اپنے مفادات کے حصول میں ہوا دے رہا ہے ۔

بھارت نے افغانستان میں اپنے معاشی اور سفارتی پنجے جمانے کے بعدپاکستان کے خلاف سازشو ں کے کئی محاذ کھول لئے ۔ دہشت گردی کا محاذ سب سے گرم تھا۔ اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو بھارت نے پاکستان کے خلاف متعدد بار دہشت گردی کے لئے استعمال کیا ہے ۔ پاکستان کو اس حوالے سے افغانستان سے کئی جینوئین شکایات رہی ہیں ۔افغانستان سے پاکستان کئی باقاعدہ شکایات بھی کرتا آیا ہے ۔ افغان خفیہ ادارہ ( این ڈی ایس) کے کئی افراد کو بھارتی خفیہ ادارے (را) کی اشیر واد حاصل رہی ہے ۔

این ڈی ایس کے کئی سربراہ گذشتہ برسوں میں ”را” کے اشارے اور ایما پر پاکستان کے خلاف ہفوات بکتے رہے ہیں ۔ افغانستان میں نصف درجن سے زائد بھارتی قونصل خانے پاکستان کے خلاف بروئے کار رہے ہیں ۔ افغانستان کے متعدد دہشت گرد پاکستان کے خلاف لا تعداد خونی وارداتیں کرنے کے بعد افغانستان میں پناہ لیتے ہیں ۔ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو بھی افغانستان کی اشیرواد رہی ہے ۔ اور ا ب پاکستان کے سیکورٹی ادارے یہ بھی شکائت کر چکے ہیں کہ ”پی ٹی ایم” کے ڈانڈے بھی افغانستان سے ہلائے جارہے ہیں ۔ ظاہر ہے یہ سب پاکستان مخالف سرگرمیاں افغان حکومت کی اجازت اور اشیرواد کے بغیر نہیں ہو سکتی تھیں ۔ بھارت کے اشارے پر افغانستان نے پاکستان کے ساتھ دشمنی کی بہت مثالیں قائم کیں لیکن پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے سامنے دستِ تعاون دراز کئے رکھا ۔

کشیدہ صورتحال میں بھی پاکستان میں تین ملین سے زائد افغان مہاجرین کیلئے کوئی سنگین مسئلہ کھڑا نہیں کیا بلکہ مسلسل اُن کے ساتھ برادرانہ سلوک جاری رکھا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کے صبر ، اعراض کی پالیسی اورافغان برادر ان کے ساتھ بہترین سلوک ہی کا نتیجہ ہے کہ افغان صدر اشرف غنی صاحب نے پاکستان کا حال ہی میں دو روزہ دَورہ کیا ہے ۔ وہ اسلام آباد میں بھی ایک دن قیام پذیر رہے اور لاہور بھی تشریف لائے ۔

دونوں شہروں میں اشرف غنی کا فقید المثال استقبال کیا گیا اور اُنہیں بے پناہ تکریم سے نوازا گیا ، حالانکہ افغان فورسز گشتہ کچھ عرصہ کے دوران پاکستان کے کئی فوجیوں کو شہید بھی کر چکی ہیں ۔ پاکستان نے مگر صبر کا مظاہرہ کیا۔ اشرف غنی صاحب کی وزیر اعظم جناب عمران خان سے بھی ملاقات ہُوئی ہے ، صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سے بھی اور سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ۔ اشرف غنی کی پاکستان موجودگی میں پاکستان اور افغانستان نے جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، بھارت کے پیٹ میں یقیناً اس سے مروڑ اُٹھ رہے ہوں گے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دَورہ دراصل وزیر اعظم عمران خان کی خارجہ پالیسی اور سپہ سالارِ پاکستان کی بہترین اسٹریٹجی کا مثبت نتیجہ ہے ۔ افغان صدر کا یہ دَورئہ پا کستان اسلئے بھی اہم سمجھا گیا ہے کیونکہ عنقریب افغانستان سے امریکی فوجیں بھی نکل رہی ہیں ۔ اس کے لئے کسی تاریخ کا اعلان تو نہیں کیا گیا لیکن امریکی وزیر خارجہ پومپیئو نے اس بارے اعلان تو کر دیا ہے ۔ واضح رکھا جانا چاہئے کہ افغانستان کا امن دراصل پاکستان کا بھی امن ہے اور افغانستان کی بدامنی پاکستان کے امن کو بھی نقصان پہنچاتی ہے ۔ اس پس منظر میں ہم وزیر اعظم عمران خان کو مبارکباد بھی دیتے ہیں کہ اُن کی خارجہ پالیسی ہر قدم پر کامیابیوں سے دھیرے دھیرے ہمکنار ہورہی ہے ۔ یہ پاکستان کیلئے بھی نیک شگون ہے۔
نوٹ : پاکستان کے نامور اخبار نویس ، منفرد ترین کالم نگار، بے مثال وایوارڈ یافتہ رپورٹر، نویکلی طرز کے حامل تحقیقاتی صحافی ، عزم میڈیا گروپ کے چیئرمین اور میرے عظیم والد گرامی جناب رحمت علی رازی اللہ کی رحمت میں چلے گئے ۔ بے شک ہر ذی رُوح کو پلٹ کر اللہ کی طرف ہی جانا ہے ۔

رازی صاحب نے اللہ کے ایک شکر گزار بندے کی حیثیت میں بلاوا آتے ہی اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی ۔ جس طرح اچانک اُنہیں اللہ کے حکم پر بلایا گیا ہے، ہمارے خاندان اور دوست احباب کے لئے یہ واقعہ ایک عظیم سانحہ ہے ۔ اُنہیں اللہ کریم کے پاس حاضر ہُوئے دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر رہا ہے لیکن یوں لگتا ہے جیسے وہ ابھی ابھی مسکراتے ہُوئے کہیں سے آ جائیں گے ۔ جانے والے مگر کہاں واپس آتے ہیں؟ اُن کے جانے سے دل پر گہرا گھاؤ لگا ہے ۔ یہ گھاؤ کبھی بھرنے اور فراموش ہونے والا نہیں ہے ۔ اُن کی بے شمار اور لاتعداد شفقتیں اور محبتیں یاد آتی ہیں اور آنکھیں اشکوں سے بھر بھر آتی ہیں ۔ میری والدہ محترمہ ، میری دونوں ہمشیرہ اور میرے چھوٹے بھائی ( عمر رازی صاحب) کے دل و دماغ کی کیفیت بھی یہی ہے ۔ نہیں معلوم یہ کیفیت کب تک جاری رہے گی ۔ سب احباب اور دوستوں سے ہمارے لئے صبر اور مرحوم کی بخشش کیلئے دعاؤں کی خاص درخواست ہے ۔ رحمت علی رازی صاحب مرحوم و مغفور کی نمازِ جنازہ اور قلوں میں اُن کے لاتعداد دوستوں نے شرکت فرمائی اور اُن کیلئے بخشش کی دعائیں کیں ۔ ہم سب تہِ دل سے ان سب مکرم احباب اور بزرگوں کے شکر گزار ہیں ۔ اب تک بہت سے دوست تشریف لارہے ہیں اور رازی صاحب مرحوم کے لئے مغفرت کی دعائیں کررہے ہیں ۔ مَیں، عزیزم محمد عمر رازی صاحب اور ہمارے سب گھر والے رحمت علی رازی صاحب مرحوم کیلئے دعائیں کرنے اورغم کی ان گھڑیوں میں ہماری ڈھارس بندھانے والوں کے شکر گزار ہیں ۔ مَیں اور میر ا بھائی یہ بھی اُمید رکھتے ہیں کہ رحمت علی رازی صاحب مرحوم و مغفور کے سبھی دوست آئندہ بھی ہمارے لئے دعا گو رہیں گے اور ہماری رہبری فرماتے رہیں گے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.